سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورہ یٰس کی آیت نمبر 12 کی تلاوت فرمائی: اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّاَجْرٍکَرِیْمٍ۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان سے کیا مراد ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن سے مراد ایسی رحمت، مہربانی اور عنایت ہے جو ہمیشہ احسان کے طور پر ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی صفت کی وجہ سے بلا تمیز مذہب و قوم ہر انسان کو اپنے اس احسان سے فیض پہنچا رہا ہے بلکہ ہر جاندار اس سے فیض حاصل کر رہا ہے۔
سوال: خدا تعالیٰ کس طرح ہر ذی روح کی ضروریات کو پورا کرتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:خدائے تعالیٰ آپ ہی ہر یک ذی روح کو اس کی ضروریات جن کا وہ حسبِ فطرت محتاج ہے عنایت فرماتا ہے اور بن مانگے اور بغیر کسی کوشش کے مہیا کر دیتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی دوسری خوبی کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں :دوسری خوبی خداتعالیٰ کی جو دوسرے درجہ کا احسان ہے جس کو فیضان عام سے موسوم کر سکتے ہیں رحمانیت ہے جس کو سورۂ فاتحہ میں الرحمن کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کی روح سے خداتعالیٰ کا نام رحمن اس وجہ سے ہے کہ اس نے ہر ایک جاندار کو جن میں انسان بھی داخل ہے اس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی۔ یعنی جس طرز کی زندگی اس کے لئے ارادہ کی گئی اس زندگی کے مناسب حال جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ، جسم اور اعضاء کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کئے اور پھر اس کی بقا کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لئے مہیا کیں۔ پرندوں کے لئے پرندوں کے مناسب حال اور چرندوں کے لئے چرندوں کے مناسب حال اور انسان کے لئے انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کیں۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ ان چیزوں کے وجود
سے ہزار ہا برس پہلے بوجہ اپنی صفت رحمانیت کے اجرام سماوی وارضی کو پیدا کیا تاوہ ان چیزوں کے وجود کی محافظ ہوں۔ پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ خداتعالیٰ کی رحمانیت میں کسی کے عمل کا دخل نہیں بلکہ وہ رحمت محض ہے جس کی بنیاد ان چیزوں کے وجود سے پہلے ڈالی گئی۔ ہاں انسان کو خداتعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ہے کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے۔ اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا کہ تمہارا خدارحمن ہے۔
سوال: روحانی فیض اٹھانے کیلئے کیا ضروری ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: روحانی فیض اٹھانے کے لئے رحمن خدا کی طرف توجہ اور اس کا خوف ضروری ہے۔ اسی لئے آپﷺ کی حالت دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّاَجْرٍکَرِیْمٍ (یٰس:12) تو صرف اسے ڈرا سکتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور رحمن سے غیب میں ڈرتا ہے۔ پس اسے ایک بڑی مغفرت کی اور معزز اجر کی خوشخبری دے دے۔
سوال: دنیا کو تباہی سے بچانے کا کیا ذریعہ ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:دنیا کو تباہی سے بچانے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ لوگ رحمن خدا کو سمجھیں ورنہ رحمن خدا کے احسانوں کی قدر نہ کرنے کی وجہ سے ایسے عذابوں میں مبتلا ہوں گے جو کبھی بیماریوں کی صورت میں آتا ہے۔ کبھی ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کی صورت میں آتا ہے۔ کبھی ایک قوم دوسری قوم پر ظالمانہ رنگ میں چڑھائی کرکے ان سے ظالمانہ سلوک کرکے عذاب کو دعوت دیتی ہے۔ کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمینی اور سماوی عذاب آتے ہیں۔
سوال:قرآن کریم میں رحمن کے حوالے سے کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قرآن کریم میں رحمن کے حوالے سے ہی ذکر ملتا ہے کہ کس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کوپیغام پہنچایا اور کس طرح نصیحت فرمائی۔ فرماتا ہے یٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِالشَّیْطٰنَ۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا۔ یٰٓاَ بَتِ اِنِّیٓ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا (مریم:46-45) اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کر، شیطان یقینا رحمن کا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ یقینا مَیں ڈرتا ہوں کہ رحمن کی طرف سے تجھے کوئی عذاب پہنچے۔ پس تو اس وقت شیطان کا دوست نکلے۔
سوال: قرآن کریم میں آخرین کے زمانے کی کیا نشانی بیان فرمائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آخرین کے زمانے کی نشانی کا اللہ تعالیٰ نے نقشہ کھینچا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَا نِ انْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًایعنی جب وہ کوئی تجارت یا دل بہلاوا دیکھیں گے تو اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور تجھے اکیلا کھڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ یہ نقشہ اس زمانے کے لوگوں کا ہے جو آج کا موجودہ زمانہ ہے، مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ ہے۔ جب خدا کا مسیح پکار پکار کر کہہ رہا ہے، خدائے رحمن کا واسطہ دے کر کہہ رہا ہے کہ خدائے رحمن کی طرف آؤ۔ جس چیز کو تم بہترین سمجھ رہے ہو۔ وہ بہترین نہیں ہے بلکہ تمہیں تباہی کی طرف لے جانے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر نظر رکھو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کے ذریعہ سے اور پھر آپؐکی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے، مسیح محمدی کے ذریعہ سے پہنچایا ہے کہ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّھْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ تو کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ دل بہلاوے اور تجارت سے بہتر ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توبہ وا ستغفار کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :پس آدمی کو لازم ہے کہ توبہ وا ستغفار میں لگا رہے اور دیکھتا رہے۔ ایسا نہ ہو بداعمالیاں حد سے گزر جاویں اور خداتعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاویں وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (الزلزال:9) یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس سزا کو پائے گا پس یاد رہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تنا قض نہیں ہے کیونکہ اس شر سے وہ شرمراد ہے جس پر انسان اصرار کرےاور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے، اسی غرض سے اس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا۔ تا معلوم ہوکہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا ورنہ سارا قرآن شریف اس بارے میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خداتعالیٰ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آیت تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ کے کیا معنے بیان فرمائے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں یہ جو آیت ہے کہ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ…… کے معنے یہ ہیں کہ قیامت کبریٰ کے قریب عیسائیت کا زمین پر بہت غلبہ ہوجائے گا۔ جیسا کہ آجکل ظاہر ہورہا ہے اور اس آیت کریمہ کا منشاء یہ ہے کہ اگر اس فتنہ کے وقت خداتعالیٰ اپنے مسیح کو بھیج کر اصلاح اس فتنہ کی نہ کرے تو فی الفور قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ جائیں گے۔ مگر چونکہ باوجود اس قدر عیسائیت کے غلو ّکے اور اس قدر تکذیب کے…… قیامت نہیں آئی تو یہ دلیل اس بات پر ہے کہ خدا نے اپنے بندوں پر رحم کرکے اپنے مسیح کو بھیج دیا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا کا وعدہ جھوٹا نکلے۔