سوال: سریہ ابوقتادہؓانصاری کس کی طرف تھا؟
جواب: حضور انورنے فرمایا:سریّہ ابوقتادہؓانصاری بطرفِ خَضِرَہ تھا۔
سوال: سریہ ابوقتادہؓکب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: یہ سریّہ شعبان آٹھ ہجری میں ہوا۔
سوال: اس سریہ کے امیر کون تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اس سریّہ کے امیر ابوقتادہؓتھے۔
سوال: خَضِرَہ کہاں واقع ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: خَضِرَہ مدینہ منورہ کے شمال مشرق میں بنو مُحَارِب کی سرزمین میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ تِہَامَہ کا علاقہ بھی تسلیم کیا جاتا تھا جو کہ نجد میں شامل ہے۔
سوال: خَضِرَہ میں کون سی شاخ رہائش پذیر تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہاںبنو غَطَفَان کی ایک شاخ رہائش پذیر تھی۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے سریّہ ابوقتادہؓانصاری کو خَضِرَہ کیوں بھیجا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بنو غطفان اسلام دشمنی پر مسلسل مائل تھے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ نجد کےعلاقے خَضِرَہ میں رہائش پذیر بنو غَطَفَان ریاست مدینہ کے خلاف شرانگیزی پھیلانے میں مصروف تھے۔اس لئے آپ ﷺ نے اس سریہ کو خَضِرَہ کے مقام پر بھیجا۔
سوال: حضور انور نے فرمایا:جب حضرت عبداللہ بن اَبِی حَدْرَدْ اسلمیؓنے رسول کریم ﷺ سے اپنی زوجہ کے مہر کی ادائیگی کے متعلق کہا تو آپؐنے کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عبداللہ بن اَبِی حَدْرَدْ اسلمیؓسے روایت ہے کہ میں نے حضرت سُراقَہ بن حَارِثہؓکی بیٹی سے شادی کی۔ یہ بدر کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔ مجھے دنیا سے جو بھی حاصل ہوا ان چیزوں میں وہ مجھے اس کے مرتبے سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ میں نے اس کا مہر دو سو درہم قرار دیا اور میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا جو میں اسے دیتا۔ میں نے کہا اس مہر کی ادائیگی اللہ اور اس کا رسولؐہی کروائیں گے۔ میں نبی کریم ﷺکے پاس آیا اور آپ ﷺسے اس بارے میں بات کی۔ آپ ﷺنے فرمایا تم نے کتنا مہر مقرر کیا ہے۔ میں نے کہا دو سو درہم۔ اے اللہ کے رسول! اس کے مہر میں میری مدد فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ابھی تو میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے میں تمہاری مدد کروںلیکن میرا ارادہ ہے کہ میں ابوقتادہؓکو کچھ آدمیوں کے ساتھ ایک سریّہ میں بھیجوں گا کیا تم اس میں نکلنا چاہتے ہو؟ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری بیوی کا مہر بطور
غنیمت عطا فرما دے گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔
سوال: صحابہؓ اس مہم میں کتنے اونٹ، بکریاں اور قیدی لائے ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک روایت کے مطابق صحابہؓ اس مہم میں پندرہ راتیں باہر رہے اور دو سو اونٹ ایک ہزار بکریاں اور بہت سے قیدی لائے۔ خمس الگ کیا گیا اور ہر ایک کے حصے میں بارہ اونٹ آئے۔
سوال: سریّہ حضرت ابوقتادۃ بطرف وادی اِضَمْ کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:یہ رمضان آٹھ ہجری جنوری 630ء میں ہوا۔
سوال: اِضَمْ کہاں واقع ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اِضَمْ مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر مشرق کی طرف نجد کے علاقے میں ایک وادی ہے جہاں غطفان کی ایک شاخ بنو اشجع آباد تھے۔
سوال: سریّہ حضرت ابوقتادۃ کا کیا سبب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس سریّہ کا سبب یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺنے فتح مکہ کے لیے مکہ کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺنے حضرت ابو قتادہؓکو وادی اِضَم ْکی طرف روانہ فرمایا جو مدینہ سے مشرق کی طرف ہے جبکہ مکہ جنوبی جانب ہے تا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ آنحضرت ﷺکی روانگی مکہ کی طرف نہیں بلکہ اِضَمْ کی جانب ہو گی۔ حضرت ابوقتادہؓکے ساتھ آٹھ صحابہؓ تھے جن میں سے ایک حضرت مُحَلِّمْ بن جَثَّامَہ لَیْثِیؓ بھی تھے۔ حضرت عبداللہ بن ابی حدردؓبیان کرتے ہیں کہ جب ہم وادی اِضَمْ پہنچے تو وہاں عامر بن اَضْبَطْ اَشْجَعِی ہمارے پاس سے گزرا۔ اس شخص نے ان کے پاس آکر انہیں اسلامی طریق کے مطابق سلام کیا۔ اس پر مسلمانوں نے اس پر ہاتھ اٹھانے سے گریز کیا کیونکہ اسلامی طریقے سے سلام کیا اس لیے تعلیم تو یہی ہے منع ہوگئے مگر حضرت مُحَلِّم کا اس شخص کے ساتھ پہلے سے کوئی جھگڑا تھا اس لیے انہوں نے عامر بن اَضْبَطْ پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا اور انہوں نے اس کا سامان اور
اونٹ اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس کے علاوہ کسی جتھے سے صحابہؓ کا سامنا نہ ہوا چونکہ انہیں صرف مشرکین کی توجہ بٹانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس لیے صحابہؓ وہاں سے واپس ہولیے۔ اسی دوران میں انہیں خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ لہٰذا یہ بھی اسی طرف مڑ گئے یہاں تک کہ راستے میں آنحضرت ﷺسے جاملے۔ جب یہ رسول اللہ ﷺکے پاس آئے تو انہوں نے یہ جو قتل کیا تھا اس قتل کا سارا واقعہ آپؐکوبتایا۔
سوال: آنحضرت ﷺنے اس اسلامی لشکر کو کیا نصیحت کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آپ ﷺنےانہیں نجد کی جانب قبیلہ غطفان کی طرف بھیجا اور آپ ﷺ نے فرمایا رات کو چلنا اور دن کو چھپ جانا اور اچانک حملہ کرنا اور عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔
سوال: حضور انور نے مکرم میر محمود احمد ناصر صاحب کے کی تعریف میں کیا الفاظ کہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مجھے تو کم از کم میر محمود احمد صاحب ناصرجیسی کوئی مثال ابھی نظر نہیں آتی۔اللہ کے خزانے میں تو کوئی کمی نہیں ہے اللہ کرے کہ ایسی مثالیں اَور بھی پیدا ہو جائیں اورایسے باوفا اور مخلص اور تقویٰ پہ چلنے والے مددگار اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کو عطا فرماتا رہے۔