سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ البقرہ آیت نمبر 275اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِسِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ کی تلاوت فرمائی ۔
سوال:جب حضرت مصلح موعودؓنے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو وقف جدید کا ممبر مقرر فرمایا تو اس وقت احمدیوں کی کیا صورتحال تھی اور کس طرح وقف جدید کے تحت معلمین نےکام سرانجام دیئے گئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مجھے وقف جدید کا ممبر مقرر فرمایا اور فرمایا کہ سارا جائزہ لو کہ تربیت کی کیا کیا صورتحال ہے۔ تو کہتے ہیں کہ جب مَیں نے جائزہ لیا تو تربیت اور دینی معلومات کے بارے میں انتہائی بھیانک صورت حال سامنے آئی کہ بچوں کو سادہ نماز بھی نہیں آتی تھی اور تلفّظ کی غلطیاں اتنی تھیں کہ کلمہ بھی صحیح طرح نہیں پڑھ سکتے تھے حالانکہ کلمہ بنیادی چیز ہے جس کے بغیر مسلمان مسلمان ہی نہیں کہلا سکتا۔ بہرحال اُس وقت پاکستان میں ان معلمین کے ذریعہ جن کو معمولی ابتدائی ٹریننگ دے کر میدان عمل میں بھیج دیا جاتا تھا وقف جدید نے ان دو اہم کاموں کو سرانجام دینے کا بیڑا اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت اور قربانی کے جذبے سے اس کام کو سرانجام دیا۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جب وقف جدید کی تحریک بیائی تو آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو کیا ہدایات دیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آپؓنے جب یہ وقف جدید کی انجمن بنائی تو اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو ممبر مقرر فرمایا اور آپ کو جوہدایات دیں وہ خاص طور دو باتوں پر زور دینے کے لئے تھیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کی دیہاتی جماعتوں کی تربیت کی طرف توجہ دی جائے جس میں کافی کمزوری ہے اور دوسرے ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کا کام۔ خاص طور پر سندھ کے علاقہ میں بہت بڑی تعداد ہندوؤں کی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کو بڑی فکر تھی کہ دیہاتی جماعتوں میں تربیت کی بہت کمی ہے خاص طور پر بچوں میں۔ اور اکثریت جماعت کے افراد کی دیہاتوں میں رہنے والی ہے اور اگر ان کی تربیت میں کمی ہو گی تو پھر آئندہ بہت ساری خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ابتدائی دور میںجب وقف جدید کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو کامیابیاں ہونی شروع ہو گئی تو مولویوں کا کیا رد عمل ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جو اُس وقت وقف جدید کے ناظم ارشاد تھے بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں کامیابیاں ہونی شروع ہوئیں تو مولویوں نے ہندوؤں کے پاس جا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ تم یہ کیا غضب کر رہے ہو، احمدی ہونے سے تو بہتر ہے ہندو ہی رہو۔ ایک خدا کا نام پکارنے سے تو بہتر ہے کہ مشرک ہی رہو ۔
سوال: کون سے سن میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے وقف جدید کی مالی تحریک کو پوری دنیا میں پھیلا دیا اور اس تحریک کو پھیلانے کا کیا مقصد تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:1985ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے وقف جدید کی تحریک کو، یعنی مالی قربانی کی تحریک کو ساری دنیا پہ پھیلا دیا، تاکہ دنیا میں جو احمدی آباد ہیں خاص طور پر یورپ اور امریکہ وغیرہ میں ان کے چندوں سے ہندوستان میں بھی وقف جدید کے نظام کو فعال کیا جائے اور وہاں زیادہ سے زیادہ تربیت و تبلیغ کا کام کیا جائے۔
سوال: چندے دینے سے کیا ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ سے محبت اور رسول سے محبت کا تقاضا ہے کہ قربانی میں ہمارے قدم ہمیشہ آگے بڑھتے رہیں۔
سوال: دنیاوی چندوں اور ہمارے چندوں میں کیا فرق ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس لگا کر وصول کرتی ہیں اور یہاں ہم رضا اور ارادے پر چھوڑتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ بندے کی مرضی پر چھوڑ کر پھر اس کا اجر بھی بے حساب دیتا ہے۔ پابند نہیں کر رہا کہ اتنا ضرور دینا ہے۔ چھوڑ بھی بندے کی مرضی پر رہا ہے، ساتھ فرما رہا ہے جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا اجر بھی دوں گا۔ صرف یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت نیک ہونی چاہئے۔ اس سے زیادہ سستا اور عمدہ سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔
سوال: 2007ء میں وقف جدید میں کتنا اضافہ ہوا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:وقف جدید میں شامل ہونے والے افراد چار لاکھ 92ہزار سے اوپر ہیں۔ اور اس سال 26ہزار 700کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں بہت گنجائش ہے۔ اگر جماعتیں کوشش کریں توبہت اضافہ ہو سکتا ہے۔
سوال: ایمانی حالت کی بہتری کیلئے کیا ضروری ہے اور اپنے بچوں کو مالی قربانی کے ساتھ کس طرح جوڑیں؟
جواب: حضور انور نےفرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمانی حالت کی بہتری کے لئے بھی قربانی کی ضرورت ہے۔ تو اپنے بچوں میں بھی اس قربانی کی عادت ڈالیں تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کی خواہشات کی جو ترجیحات ہیں ان میں اللہ کی خاطر مالی قربانی سب سے اوّل نمبر پر ہو۔ اس سے ایک تو شاملین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا اور جوعفو کے معیار ہیں وہ ترجیحات بدل جانے سے بدل جائیں گے۔ لوگ بچوں کو بھی جب جیب خرچ دیتے ہیں تو ان کو اس میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔ عیدی وغیرہ میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔ اگر مہینے میں صرف دو دفعہ یہ بچا کر وقف جدید کے بچوں کے چندے میں دیں تو اسی سے وصولی میں 25سے 30فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کا کیا تقاضہ ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں ہم شامل ہوئے ہیں تو اس محبت اور اخلاص کا تقاضا ہے کہ اصلاح اور تربیت کے لئے جب مالی قربانی کی ضرورت پڑے تو ہر احمدی ہمیشہ اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے قربانی میں آگے سے آگے بڑھتا رہے۔