سوال: حضرت خالد بن ولید ؓکی غزوہ موتہ کے دن کتنی تلواریں ٹوٹی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت خالد بن ولیدؓ بیان کرتے ہیں کہ مُؤتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں اور صرف ایک یمنی چوڑی تلوار ہی میرے ہاتھ میں رہ گئی۔
سوال: آنحضرت ﷺنے غزوۂ مُؤتہ سے واپس لوٹنے والے صحابہ کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺنے غزوۂ مُؤتہ سے واپس لوٹنے والے صحابہ کے بارے میں فرمایا: یہ فرار ہونے والے نہیں بلکہ کرّار ہیں یعنی پلٹ کر حملہ کرنے والے۔
سوال: حضرت عبداللہ بن عمر حضرت جعفر کے بیٹے عبداللہ کو سلام کرتے تو کیا کہتے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن عمر حضرت جعفر کے بیٹے عبداللہ کو سلام کرتے تو کہتے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ ذِی الْجَنَاحَیْنِ۔ کہ اے دو پروں والے کے بیٹے تم پر سلامتی ہو۔
سوال: غزوہ موتہ میں مسلمانوں کو کیا مال غنیمت ملا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسلمانوں کو مشرکین کا کچھ حصہ بطور مال غنیمت ملا۔ اس سامان میں ایک انگوٹھی بھی تھی۔
سوال: غزوہ موتہ کے دن مسلمانوں اور مشرکین کی کیا تعداد تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: غزوہ موتہ میںمسلمانوں کی تعداد تین ہزار جبکہ مشرکین کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی یہ تنہا ہی مسلمانوں کی فوقیت کی ایک مستقل دلیل ہے۔
سوال: مالک بن رافلہ کو کس نے قتل کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت قُطْبَہ بن قتادہ نے مالک بن رافلہ کو قتل کیا۔
سوال: حضرت قُطْبَہ بن قتادہ نےمالک بن رافلہ کو کس طرح قتل کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت قُطْبَہ بن قتادہ نے مالک بن رَافِلَہ پر حملہ کیا انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ حضرت قُطبہ اس پر فخر کرتے ہوئے عربی اشعار میں کہتے تھے کہ میں نے رافلہ بن اراش کے بیٹے کو ایسا نیزہ مارا جو اس کے اندر دور تک چلا گیا پھر وہ نیزہ ٹوٹ گیا۔ جب میں نے اس کی گردن پر کاری ضرب لگائی تو وہ جھک گیا جیسے سلم درخت جو ایک کانٹے دار درخت ہے اس کی شاخ جھکتی ہے۔ ہم نے اس کے چچا زادوں کی خواتین کو یوں ہانکا جیسے جانوروں کو ہانکا جاتا ہے۔
سوال: رسول کریم ﷺ کو حضرت زیدؓ، حضرت جعفرؓ اور ابنِ رَوَاحَہ ؓ کی شہادت کی خبر خدا تعالیٰ نے کب دی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت انسؓروایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺاپنے منبر پر تشریف لائے اور حضرت زیدؓ، حضرت جعفرؓ اور ابنِ رَوَاحَہ ؓ کی شہادت کی خبر دی وہ اس روز ہی شہید ہوئے تھے حالانکہ ظاہری طور پر ان کی شہادت کی خبر نہیں آئی تھی۔
سوال: غزوہ موتہ میں کتنے مسلمانوں کی شہادت ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوہ موتہ میں بارہ تھی۔
سوال: سریّہ حضرت عمرو بن عاصؓکب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: یہ سریہ جُمَادی الثانی آٹھ ہجری میں ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سریہ سات ہجری میں ہوا۔ ابن اسحاق کے علاوہ سب اس پر متفق ہیں کہ یہ سریہ غزوہ مُؤتہ کے بعد ہوا اور غزوہ مُؤتہ جُمَادَی الْاُولیٰ آٹھ ہجری میں ہوا تھا۔
سوال:سریّہ حضرت عمرو بن عاص ؓکا سبب کیا ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس سریّہ کا سبب یہ بنا کہ رسول اللہ ﷺکو خبر ملی کہ بنو قُضَاعَہ کا ایک گروہ مدینہ کے اطراف میں حملہ کرنے کے لیے اکٹھا ہو رہا ہے۔ بنو قُضَاعَہ، قحطانیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مدینہ سے دس دن کے فاصلے پر وادی القرٰی سے آگے آباد تھا۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے اسکی سرکوبی کیلئے کس کو روانہ فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺنے ان کی سرکوبی کے لیے حضرت عمرو بن عاصؓکو روانہ فرمایا۔ حضرت عمرو بن عاصؓمکہ کے ایک سردار عاص بن وَائِل کے بیٹے تھے انہوں نے سات ہجری میں یا دوسری روایت کے مطابق آٹھ ہجری میں اسلام قبول کیا تھا۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے حضرت عمر و بن عاص ؓ کو کیا پیغام بھیجا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عمروؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے پیغام بھیجا کہ میں اپنے کپڑے اور ہتھیار لے لوں اور فرمایا کہ اے عمرو! میں چاہتا ہوں کہ تمہیں ایک لشکر پر امیر بنا کر بھیجوں۔ اللہ تمہیں مال غنیمت بھی دے گا اور تمہاری حفاظت بھی کرے گا۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے حضرت عمروؓکو کیوں امیر بنایا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عمرو جنگ میں خاص مہارت رکھتے تھے اور فنونِ حرب سے بھی آگاہی رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺنے انہیں ان کی جنگی مہارت کی وجہ سے امیر بنایا تھا۔
سوال: حضرت عمرو کو اس سریہ پر بھیجنے کی ایک اور وجہ حضور انور نے کیا بیان فرمائی؟
جواب:حضرت عمرو کو اس سریہ پر بھیجنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چونکہ ان کی دادی کا تعلق قبیلہ بَلِیّ سے تھا۔ اس لیے بنو بَلِیّ سے اچھے تعلقات استوار کرنے کے لیے آپ ایک اچھا ذریعہ ہو سکتے تھے۔
سوال: سریّہ حضرت ابوعُبَیْدہ بن جَرّاحؓکب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہ سریہ رجب آٹھ ہجری میں ہوا۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے اپنی کتاب کے آخر میں مجوزہ عناوین درج کیے ہیں اس کے مطابق سریہ حضرت ابوعبیدہ رجب آٹھ ہجری بمطابق نومبر 629ء میں ہوا۔
سوال: اس سریہ کو اور کون کون سے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس سریہ کے دیگر نام بھی ہیں۔ اس سریہ کو سریہ سِیْفُ الْبَحْر اور سریہ خَبَطْ بھی کہا جاتا ہے۔
سوال: سِیْفُ الْبَحْرکے کیا معنی ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سِیْفُ الْبَحْرکے معنی ساحل سمندر کے ہیں۔ اس سریہ میں چونکہ صحابہ بحیرۂ احمر Red Sea کے ساحل پر جا کر ٹھہرے تھے اس لیے اسے سریہ سِیْفُ الْبَحْرکہا جاتا ہے۔
سوال: سریہ خَبَط کے کیا معنی ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اسے سریہ خَبَطْ یعنی پتے کھانے والا لشکر اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس سریہ کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ صحابہ درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔
سوال:رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓکو کتنے مہاجرین و انصار کے ساتھ بنو جُہَیْنَہ کی شاخ کی طرف بھیجا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺنے انہیں تین سو مہاجرین اور انصار صحابہ کا ایک لشکر دے کر بنو جُہَیْنَہ کی ایک شاخ کی طرف بھیجا اس لشکر میں حضرت عمر بھی شامل تھے۔