اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-28

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 05 جنوری 2007 بطرز سوال وجواب

سوال: خطبہ کے شروع میں حضور انور نے کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: خطبہ کے شروع میں حضور انور نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 111کی تلاوت فرمائی: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ۔
سوال:ہالینڈ میں کون سے تین قسم کے احمدی آباد ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہالینڈ میں دنیا کے اکثر مغربی ممالک کی طرح تین قسم کے احمدی آباد ہیں، ایک وہ جو پاکستان سے آئے ہیں یا شاید ایک آدھ ہندوستان سے بھی آئے ہوں اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن میں تین چار نسلوں سے احمدیت چل رہی ہے، ان کے آباؤ اجداد نے، باپ دادا نے احمدیت قبول کی۔ دوسرے چند ایک وہ لوگ ہیں جو بعض مسلمان ممالک کے ہیں، جس میں عرب دنیا کے لوگ بھی ہیںاور تیسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جو یہاں کے اصلی باشندے ہیں ۔
سوال: احمدیوں کی جو پہلی قسم جو حضور انور نے بیان فرمائی ان کی کیا ذمہ داری ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: احمدیوں کی جو پہلی قسم مَیں نے بتائی ہے جس میں پاکستانی احمدی بھی ہیں یا شاید ہندوستانی بھی ہوں، ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ان پرندوں کو پکڑنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہاتھ بٹانے اور پھر ان کو اپنے ساتھ سدھا لینے کے لئے بھرپور مدد کریں۔ ورنہ پرانے احمدی ہونے کے دعوے آپ کی صحابی کی نسل ہونے کی باتیں، صرف باتیں رہ جائیں گی، اُن صحابہ یا آپ کے بزرگوں کے جو نیک اعمال تھے، اُن کا اجر تو اُن کو ملے گا، آپ کو تو اپنے اعمال کا اجر ملنا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد کیا تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کرکے دکھلاؤں، کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہوگئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب پر رکھتا ہے، اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیاوی اسباب پر ہے، یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں، زبانوں پر بہت کچھ ہے۔زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے ۔ منہ سے تو بہت کچھ کہتے ہیں مگر دل وہ نہیں کہتے۔ …… مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔
سوال: حضور انور نے دوسری قسم کے احمدیوں کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:دوسری قسم کے احمدی جن کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق دی جن کا مَیں نے ذکر کیا ہے یعنی مسلمانوں سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شامل ہونے والے اور آنحضرت ﷺکے ارشاد کو پورا کرنے والے بننے والے اور پھر یہاں کے مقامی لوگ جن کا مَیں نے ذکر کیا تھا جو عیسائیت سے اسلام میں شامل ہوئے ہیں اور مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو کر اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والے بنے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلتے ہوئے اس سے براہ راست تعلق پیدا ہو اور اس نظریہ کو ردّ کرنے والے بنیں جو ایک بندے کو خدا کے مقابل پر کھڑا کرکے شرک کی تعلیم دیتا ہے۔
سوال: اگر جماعت کو متعارف کروانا ہے تو کیا کرنا ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ جماعت کو متعارف کروانا ہے، اسلام کو متعارف کروانا ہے تو مسجدیں بناؤ۔ پھر تبلیغ کے راستوں سے ان تثلیث کے شرک میں مبتلا لوگوں کو پتہ چلے گا کہ توحید کیا ہے اور صحیح مذہب کیا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا کیا کام بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: میرا کام یہ ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ خدا ئی توحید کو دنیا میں دوبارہ قائم کروں ۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارا کام کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمہارا کام اب یہ ہونا چاہئے کہ دعاؤں اور استغفار اور عبادت الہٰی اور تزکیہ و تصفیہ نفس میں مشغول ہو جاؤ۔ اس طرح اپنے تئیں مستحق بناؤ (اپنے آپ کو اس کا مستحق بناؤ) خدا تعالیٰ کی عنایات اور توجہات کا جن کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔
سوال: ایک احمدی عہد بیعت کو پورا کرنے والا کب کہتا سکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہر احمدی بیعت کرنے کے بعد، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مسیح و مہدی تسلیم کرنے کے بعد اس عہد بیعت کو پورا کرنے والا تبھی کہلا سکتا ہے جب وہ توحید کے قیام کے لئے بھرپور کوشش کرے کیونکہ یہی اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کا حقیقی مقصد ہے۔
سوال: شکر گزاری کس طرح ہوگی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: شکر گزاری نظام جماعت کی اطاعت سے ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ شکر گزاری آپ کے عبادت کے معیار بڑھنے سے ہوگی۔
سوال:پرانے احمدیوں میں اگر کسی کو بگڑتا ہوا دیکھیں تو کیا کریں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: پرانے احمدیوں میں اگر کسی کو بگڑتا ہوا دیکھیں تو اس کے لئے بھی وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سیدھے راستے پر چلائے اور استغفار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھی کوشش کریں اور اس میں جتنی زیادہ استغفار کریں گے جتنی زیادہ کوشش کریں گے اتنے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔
سوال:بعض لوگ اسلامی تعلیمات پر کیوں اعتراضات کرتے ہیں اور انکے اعتراضات کا کس طرح حل کیا جا سکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اسلام کی تعلیم کا مذاق اڑاتے ہیں، استہزاء کرتے ہیں، اس کی خوبصورت تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں۔ مثلاً پردے پر بہت شور اٹھتا ہے اور اس کے Ban کرنے کے لئے قانون سازی کا بھی سوچا جا رہا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اسلام کی بھیانک تصویر ان کو دکھائی گئی ہے۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم ان لوگوں کے سامنے اس طرح پیش ہی نہیں کی گئی جو اس کے پیش کرنے کا حق ہے۔ اگر احمدی مرد عورت، جو یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں، بڑے چھوٹے سب، شروع میں ہی اس طرف توجہ دیتے، بہت پہلے سے اس طرف توجہ ہوتی، اپنی ذمہ داری کو سمجھتے اور احمدیت اور حقیقی اسلام سے لوگوں کو متعارف کرواتے تو مَیں نہیں سمجھتا کہ یہ صورتحال پیدا ہوتی۔
سوال:اگر ہم حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقصد کو سمجھیں گے تو کیا ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اگر ہم حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کے مقصد کو سمجھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کریں گے،انشاء اللہ،اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنیں گے۔