سوال: آنحضرت ﷺجب صحابہ کرامؓکو غزوۂ موتہ کے حالات و واقعات سے آگاہ کررہے تھے تو حضرت خالد بن ولیدؓکا ذکر آنے پر انہوں نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺنے صحابہ کرامؓ کو غزوۂ موتہ کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتے ہوئےحضرت خالد بن ولیدؓکا ذکر آنے پر اپنی انگلی مبارک بلند فرمائی اور فرمایا:اے اللہ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تُو اس کی مدد فرما۔اس روز سے حضرت خالد بن ولیدؓکو سیف اللہ کہا جانے لگا یعنی اللہ کی تلوارحضرت جعفرؓپہلے مسلمان تھے جنہوں نے راہ خدا میں اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹیں۔
سوال:جھنڈے کے ادب و احترام کا ذکرکرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’قوموں میں جھنڈے کا بڑا ادب اور احترام کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ دشمن سے اس کا جھنڈا چھیننے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کی جاتی ہیں اوربعض دفعہ اپنا جھنڈا بچانے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کی جاتی ہیں اور یہ شرک نہیں ہوتا‘‘ ۔
سوال: جب لوگوں نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کو الوداع کہا گیا تووہ کیوں رونے لگے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:لوگوں نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کو الوداع کہا گیا تووہ رونے لگے۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ آپ کو کیا چیز رُلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے نہ دنیا سے محبت ہے اور نہ ہی تم سے لیکن میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ آیت پڑھتےہوئے سنا ہے جس میں آگ کا ذکر ہے کہ وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا۔ یعنی اور تم میں سے کوئی نہیں مگر وہ ضرور اس پر اترنے والا ہے۔ یہ تیرے رب پر ایک طے شدہ فیصلے کے طور پر فرض ہے۔ کہنے لگے کہ یہ حالات ہونے ہیں تو میں نہیں جانتا کہ وارد ہونے کے بعد میری واپسی کیسی ہو گی۔ اس پر مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تمہارے ساتھ ہو اور وہ اسے تم لوگوں سے دور کرے یعنی برائیوں کو اور تم لوگ ہماری طرف صالح ہونے کی حالت میں آؤ۔
سوال: جب دشمن کو مسلمانوں کےآنےکی خبر پہنچی تو انہوں نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب مسلمان مدینہ سے کچھ دورپہنچے تو دشمن کو ان کی خبر ہو گئی اور وہ مقابلے کے لیے تیاری کرنے لگے۔
سوال: کس نے مسلمانوں کے لشکر کے آنے کی خبر ان تک پہنچائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: منافقین مدینہ اور یہود نے مسلمانوں کے اکٹھا ہونے اور ان کے شام کی طرف مارچ کرنے کی خبر اڑا دی تھی تاکہ یہ جومقابلے پہ عیسائی تھے وہ اپنا بچاؤ کا سامان کر لیں۔
سوال: حضرت خالد بن ولیدؓکاپہلی بار مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت خالد بن ولیدؓ کاپہلی بار مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کا ذکرملتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید مشہور شہسوار تھے۔ وہ بھی اس لشکر کے ایک عام سپاہی تھے۔ رسول کریم ﷺنے جب اس لشکر کو اکٹھا کیا تو حضرت خالد کو اسلام میں داخل ہوئے ابھی تین ماہ ہی ہوئے تھے۔
سوال:حضرت زیدؓکی شہادت کیسے ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت زیدؓکی شہادت کے بارے میں لکھا ہے۔ غزوۂ موتہ لوگ باہم نبرد آزما ہو گئے انہوں نے سخت قتال کیا۔ حضرت زید بن حارثہؓ نے آنحضرت ﷺکے عَلَم کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ دشمن کےنیزوں کی وجہ سے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ پھر حضرت جعفرؓنے عَلَمِ اسلام تھاما اور جہاد کیا۔ جب قتال ان کی رکاوٹ بنا تو اپنے گھوڑے شقراءسے نیچے اتر آئے۔ اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر جہاد کیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔
سوال: کون پہلے مسلمان تھے جنہوں نے راہ خدا میں اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت جعفرؓپہلے مسلمان تھے جنہوں نے راہ خدا میں اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹیں۔
سوال: شرحبیل بن عمرو جزیرہ کون تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:شرحبیل بن عمرو جزیرہ عرب سے ملحق شام کے جنوبی علاقوں پر رومیوں کا گورنر تھا۔
سوال: حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کب مدینہ گئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ جمعہ کے بعد مدینہ سے گئے تھے۔
سوال:حضرت جعفرؓجب جنگ کیلئے لئے اپنے گھوڑے سے نیچے اترے تو آپ کیا اشعار پڑھ رہے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قبیلہ بنو مُرَّۃ بن عوف میں سے ایک شخص جنہوں نے غزوۂ موتہ میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا مَیں اب بھی حضرت جعفر کو دیکھ رہا ہوں جب وہ اپنے شقراءگھوڑے سے نیچے اترے، اس کی کونچیں کاٹیں پھر جہاد کیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔ اس وقت وہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔
يَا حَبَّذَا الْجَنَّةُ وَاقْتِرَابُهَا طَيِّبَةً وَبَارِدًا شَرَابُهَا
وَالرُّوْمُ رُوْمٌ قَدْ دَنَا عَذَابُهَا كَافِرَةً بَعِيْدَةً أَنْسَابُهَا
عَلَيَّ إذْ لَاقَيْتُهَا ضِرَابُهَا
یعنی جنت اور اس کے قرب کے کیا کہنے۔ اس کا پانی کتنا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔ رومی رومی ہیں ان کا عذاب قریب آ گیا ہے۔ وہ کافر ہیں۔ اُن کا نسب بہت زیادہ دور ہے۔ مجھ پر لازم ہے کہ جب میں ان سے جنگ کروں تو انہیں ضرب لگاؤں۔
سوال:حضرت خالدکی جنگی حکمت عملی کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت خالد کی جنگی حکمت عملی کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت خالدؓنے موتہ میں فوج کی دوبارہ تنظیم کی اور شہسواروں کا ایک دستہ منتخب کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ رازداری سے راتوں رات جنوب میں جزیرۂ عرب کی جانب اسلامی فوج کے پیچھے ایسی جگہ پڑاؤ کریں جہاں رومی نہ دیکھ سکیں۔ حضرت خالدؓنے انہیں حکم دیا کہ متعدد دستوں میں تقسیم ہو کر اسلامی لشکر کے پیچھے سے موتہ کی طرف آئیں اور انتہائی بلند آواز سے تکبیرات بلند کریں اور اپنے گھوڑوں کو مٹی والی جگہوں پر دوڑائیں تا کہ بہت غبار اٹھے۔ ان باتوں سے حضرت خالد کا مقصد یہ تھا کہ دشمن یہ سمجھے کہ مسلمانوں کی مدد کے لیے مزید کمک آگئی ہے۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خالدؓ نے لشکر کو از سر نو منظم کرتے ہوئے لشکر کے اگلے حصے کو پیچھے اور پچھلے حصے کو آگے کر دیا اور اس طرح دائیں حصے کو بائیں اور بائیں حصے کو دائیں کر دیا۔ دشمن یہ دیکھ کر تعجب میں پڑ گیا۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید مسلمانوں کو مدد مل گئی ہے۔ مختلف لوگ سامنے آ گئے ہیں تو وہ مرعوب ہو گئے اور انہیں شکست ہو گئی۔
سوال: پاکستان میں جو احمدیوں پر ظلم ہورہے ہیں اس بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:پاکستان میں ان دہشت گردی کرنے والوں اور جماعت کی مخالفت کرنے والوں کی جرأت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جلد ان کی پکڑ کے سامان فرمائے۔