سوال: برلن مسجد کے لئے عورتوں نے کیا قربانیاں دیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:برلن کی مسجد کیلئے عورتوں نے چندہ جمع کیا تھا۔ لجنہ نے اس زمانہ میں ہندوستان میں یا صرف قادیان میں، زیادہ تو قادیان میں کہنا چاہئے ہوتی تھیں، تقریباً ایک لاکھ روپیہ جمع کیا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں پیش کیا جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی رقم تھی، بڑی خطیر رقم تھی اور زیادہ تر قادیان کی غریب عورتوں کی قربانی تھی۔کسی نے مرغی پالی ہوئی ہے تو بعض مرغی لے کے آجاتی تھیں۔ کوئی انڈے بیچنے والی ہے تو انڈے لے کر آگئی۔ کسی کے گھر میں بکری ہے تو وہ بکری لے کر آگئی۔ کسی کے گھر میں کچھ نہیں ہے تو گھر کے جو برتن تھے تو وہی لے کر آگئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے فرمایا مَیں نے جو تحریک کی تو عورتوں میں اس قدر جوش تھا کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ سب کچھ گھر کا سامان جو ہے وہ دے دیں۔ ایک عورت نے اپنا سارا زیور چندے میں دے دیا۔ اور کہنے لگی کہ اب میرا دل چاہتا ہے کہ کہ اب مَیں گھر کے برتن بھی دے آؤں۔ اس کے خاوند نے کہا کہ تمہارا جو زیور تم نے دے دیا ہے کافی ہے۔ تو اس کا جواب یہ تھا کہ اس وقت میرا اتنا جوش ہے کہ میرا اگر بس چلے تو تمہیں بھی بیچ کے دے آؤں۔ تو گو کہ جواب صحیح نہیں ہے لیکن یہ اس جوش کو ظاہر کرتا ہے جو قربانی کیلئے عورتوں میں تھا۔
سوال: جب صدر صاحب انصار اللہ برلن نے مساجد بنانے کیلئے قرض دیئے جانےکے بارے میں حضور انور نے کہا تو حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے لکھا کہ انصار اللہ نے 100 مساجد کیلئے وعدہ پانچ لاکھ کا ہوا ہے۔ فلاں فلاں اخراجات ہو گئے ہیں اس لئے مرکز ہمیں اتنے عرصہ کے لئے کچھ قرض دے دے تاکہ انصار اللہ اپنا وعدہ پورا کرسکے۔ تو مَیں نے ان کو جواب دیا تھا کہ بالکل اس کی امید نہ رکھیں۔ یہ گندی
عادت جو آپ ڈالنا چاہتے ہیں اپنے آپ کو اور پھر ایک آپ کو جو یہ گندی عادت پڑے گی تو باقی تنظیموں کو بھی پڑے گی۔ اس کومَیں نہیں ہونے دوں گا خود ہمت کریں، خود رقم جمع کریں۔
سوال: برلن کی مسجد کا سنگ بنیاد کب ہوا؟
جواب:برلن کی مسجد کا سنگ بنیاد 2 جنوری 2007ء میں ہوا۔
سوال: مسجد برلن کی سنگ بنیاد سے قبل حضور انور نے برلن کی جماعت سے اور دنیا بھر کے احمدیوں سے کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپ بھی اور یہاں ایم ٹی اے کی وساطت سے دنیا کے احمدیوں سے بھی مَیں کہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے حالات ٹھیک رکھے اور یہ سنگ بنیاد رکھا بھی جائے اور مسجد کی تکمیل بھی ہو جائے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی مساجد کو کون لوگ آباد کرتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُوْلٰئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ(التوبۃ:18) اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔
سوال: اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان لانے والے کون لوگ ہوتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان لانے والے وہ لوگ ہیں جو سجدہ کرتے ہیں اور کامل فرمانبرداری سے سجدہ کرتے اور اللہ کی تسبیح و تحمید کرنے والے ہوتے ہیں۔
سوال: مسجدوں کی اصل زینت کن سے وابسطہ ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ۔
سوال:حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تحریک پر جو برلن مسجد کیلئے رقم اکٹھی کی گئی تھی اس کو کس چیز میں خرچ کیا گیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو برلن میں مسجد بنانے کی بڑی خواہش تھی اس کے لئے چندہ بھی جمع کیا گیا جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں لیکن حالات کی وجہ سے پھر وہ رقم لندن بیت الفضل کی تعمیر میں خرچ کردی گئی۔
سوال: حضور انور نے احمدی کا کیا کام بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہے جس نے اسلام کا دفاع کرنا ہے۔ اللہ کے بندوں کو اللہ کے حضور جھکنے والا بنانا ہے۔ محبتیں بکھیرنی ہیں اور اسلام کی صحیح اور خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلانی ہے۔ انشاء اللہ
سوال:مسجد بننے کے دوران بھی وہاں کے رہنے والے لوگوں کو کس بات کا خیال رکھنا ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسجد بننے کے دوران بھی وہاں کے رہنے والے لوگ اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو۔ اگر مخالفین کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیا جائے تو آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔
سوال: برلن میں مسجد کس مقصد کے لئے بنائی جا رہی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسجد اس گھر کے نمونے اور اس مقصد کے لئے بنا رہے ہیں جو خدا کا پہلا گھر تھا اور جس کی بنیادیں رکھتے ہوئے ان باپ بیٹا نے جو دعائیں کی تھیں۔ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّک اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ:129) کہ اے ہمارے رب ہم اپنے دو فرمانبردار بندے بنا دے۔ ہماری ذریت میں سے بھی اپنی فرمانبردار اُمّت پیدا کر اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا۔ تو ایسے بندے بنا دے جو تیرے حکموں پر چلنے والے ہوں۔ تیرے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں اور تیری مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں محبت پیار اور امن کا پیغام دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔ اور صرف ہم نہیں بلکہ ہماری اولادیں بھی ان نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی ہوں۔
سوال:جب ہم نئی مساجد بنائیں تو ہماری کیا سوچ ہونی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب ہم نئی مساجد بنا رہے ہیں اس سوچ کے ساتھ بنائیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اس کی تعمیر اور آبادی کرنی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔