سوال:نبی اکرمﷺ نے غزوۂ موتہ پر لشکر روانہ کرتے ہوئےکیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نبی اکرمﷺ نے غزوۂ موتہ پر لشکر روانہ کرتے ہوئے نصیحت فرمائی: تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اوراپنے ساتھ کے مسلمانوں سے بھلائی کی وصیت کرتا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کے منکرین سےمقابلہ کرو۔نہ دھوکادینا، نہ خیانت کرنا، نہ کسی شیر خوار بچے کو قتل کرنا، نہ کسی عورت کو اور نہ کسی عمر رسیدہ کو قتل کرنا۔نہ کسی کھجور کے درخت کو کاٹنا نہ کسی درخت کو کاٹنا بلکہ کسی بھی درخت کو نہیں کاٹنا اور نہ کسی عمارت کو گرانا۔
سوال: حضرت بشیر بن سعدؓ بنو مُرَّۃ کی طرف کب گئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت بشیر بن سعدؓ شعبان سات ہجری میں تیس افراد کے ساتھ فدک میں بنو مُرَّۃ کی طرف گئے۔
سوال: بنو مرہ نے حضرت بشیر بن سعدؓ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: بنو مُرَّۃنے حضرت بشیر بن سعدؓ کے تمام ساتھیوں کو شہید کر دیا۔
سوال:رسول کریم ﷺ کو جب حضرت بشیر بن سعدؓ کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر موصول ہوئی تو آپ نے کیا کیاـ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺکو جب حضرت بشیر بن سعدؓکے ساتھیوں کی شہادت کی خبر موصول ہوئی تو آپ نے حضرت زبیر بن عوامؓکو تیار کیا اور فرمایا کہ جاؤ! یہاں تک کہ اس جگہ پہنچو جہاں حضرت بشیر بن سعدؓکے ساتھی شہید ہوئےتھے اور اگر اللہ نے تمہیں فتح دے دی تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑنا۔ جو دشمن ہیں جنہوں نے ظلم کیا تھا، قتل کیا تھا، مسلمانوں کو شہید کیا تھا ان کو نہیں چھوڑنا۔ آنحضرت ﷺنے آپ کے ساتھ دو سو صحابہ کو تیار کیا اور ان کے لیے جھنڈا باندھا۔
سوال:سریہ حضرت شُجاع بن وَہَبؓکس کی طرف ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سریہ حضرت شُجاع بن وَہَبؓجو سِیّ (Siyii) کی طرف ہوا۔
سوال: سریہ حضرت شُجاع بن وَہَبؓکب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: یہ سریہ ربیع الاول آٹھ ہجری میں حضرت شجاع بن وہب کی قیادت میں سِیّ کی طرف ہوا۔
سوال:سِیّ مدینہ سے کتنی مسافت پر ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سِیّ مدینہ سے پانچ راتوں کی مسافت پر مکہ اور بصرہ کے درمیان ایک مقام تھا۔
سوال:حضرت شجاعؓ کے والد صاحب کا کیا نام تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت شجاعؓ کے والد کا نام وَہَب بن رَبِیْعَہ تھا۔
سوال:حضرت شجاع ؓکا شمار کن بزرگ صحابہ میں ہوتا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت شجاعؓکا شمار ان بزرگ صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے ابتداہی میں اسلام قبول کیا تھا۔
سوال: حضرت شجاعؓکن کن غزوات میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ شامل ہوئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت شجاعؓبدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں حضور ﷺکے ساتھ شامل رہے اور چالیس برس سے کچھ زائد عمر پا کر جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔
سوال:سریہ حضرت کعب بن عُمَیرؓبطرف ذَاتِ اَطْلَاحْ کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یہ سریہ آٹھ ربیع الاول آٹھ ہجری میں ہوا۔
سوال:ذَاتِ اَطْلَاحْ مدینہ سے کتنے فاصلے پر واقعہ تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ذَاتِ اَطْلَاحْ سرزمین شام میں وادِی القرٰی کی پشت پر تھا اور مُؤْتہ کے نواح میں تھا جو مدینہ سے تقریباً چھ سو میل کے فاصلے پر تھا۔
سوال: حضرت کعب کے ہمراہ کتنے صحابہ تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت کعبؓکے ہمراہ پندرہ صحابہ تھے۔
سوال: غزوۂ مُؤْتَہ کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ مُؤْتَہ جُمَادیَ الاُولیٰ آٹھ ہجری یا ستمبر 629ء میں ہوا۔
سوال: مُؤْتَہ کہاں واقعہ ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مُؤْتہ شام کی حدود میں بَلْقَاء کی سرزمین پر ایک بستی ہے جو مدینہ سے تقریباً چھ سو میل کے فاصلے پر تھی۔
سوال:غزوۂ مُؤْتَہ کو غزوۂ جیش الامراء کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اسے غزوۂ جیش الامراء اسلئے کہا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺنے اس لشکر کے روانہ ہونے سے قبل اس کے ایک سے زائد امیر مقرر کردیے تھے۔
سوال: غزوۂ مُؤْتَہ کے اسباب کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایاہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺنے حضرت حَارِث بن عُمَیرؓکو بُصْرٰی کے حاکم کی طرف قاصد بنا کر اپنا خط دے کر روانہ فرمایا۔ جب وہ مُؤْتہ کے مقام پر پہنچا تو شُرَحْبِیْل بن عَمْرو غَسَّانِی ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ شام جا رہا ہوں۔ شرحبیل نے پوچھا کہیں محمد رسول اللہ ﷺکے قاصد تو نہیں۔ انہوں نے کہا ہاں میں رسول اللہ ﷺکا پیغامبر ہوں۔ شرحبیل نے حکم دیا تو انہیں باندھ دیا گیا۔ اپنے ساتھیوں کو اس نے کہا اِن کو باندھ دو۔ پھر شرحبیل نے انہیں شہید کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کو خبر ہوئی تو یہ بات آپ پر بہت گراں گزری۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو بلایا اور انہیں حضرت حارث بن عمیرؓ کی شہادت اور ان کو شہید کرنے والوں کے متعلق بتایا۔ اسی سبب سے غزوۂ مُؤْتہ ہوا۔
سوال: جب آنحضرت ﷺامراء مقرر کر رہے تھے تو اس وقت کون سا واقعہ درپیش آیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب آنحضرت ﷺ امراء مقرر کر رہے تھے تو اس وقت کا یہ واقعہ ہے کہ حضرت جعفرؓنے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے والدین آپ پر قربان۔ مجھے گمان نہ تھاکہ آپؐمجھ پر حضرت زید کو امیر بنائیں گے۔ میر ا خاندان تو اعلیٰ ہے مجھے نہیں مقرر کیا۔ آپؐنے فرمایا تم جاؤ۔ تم نہیں جانتے کہ بہتر کیا ہے۔ آنحضرت ﷺنے ایک سفید جھنڈا حضرت زید کو دیا اور انہیں نصیحت کی کہ حضرت حارِث بن عُمَیرکی شہادت کی جگہ پہنچ کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر ان سے جنگ کریں۔