اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-14

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 22 دسمبر 2006 بطرز سوال وجواب

سوال:ہر احمدی کا کیا کام ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہر احمدی کا کام ہے کہ اٹھے اور خدا تعالیٰ کے تصور کی صحیح تصویر اور اسلام کا صحیح تصور پیش کرکے ان لوگوں کو اس بھٹکی ہوئی راہ سے واپس لائے اور اکثریت کے دل میں خدا تعالیٰ اور خاتم الانبیاء ﷺاور خدا تعالیٰ کے مقدس بندوں کے لئے محبت اور اخلاص کے جذبات پیدا کردیں تاکہ تمام انسانیت جنگوں کی بجائے سچائی پر قائم ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والی بنے اور روحانیت میں ترقی ہو ۔
سوال: آجکل مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف کیوں اعتراضات ہوتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آج کل مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف ایک بڑی شدید رو چلی ہوئی ہے بعض بظاہر مسلمانوں کے ہمدرد بن کر اسلام کی تعلیم کی بعض خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فی زمانہ ان پر عمل نہیں ہوسکتا اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اسلام کی تعلیم پر اس لئے اعتراض کرتا ہے کہ وہ مذہب کے ہی خلاف ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات اور وجود کے ہی وہ لوگ منکر ہیں اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ خدا کی ذات کا تصور ہی ہے جس نے دنیا میں یہ سب فساد پھیلایا ہوا ہے۔
سوال: ماضی میں جنہوں نے انبیاء پر اعتراضات کئے ان کا کیا ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ماضی میںجنہوں نے انبیاء کا انکار کیا، ان سے استہزا کیا، برائیوں اور شرک میں ڈوب گئے اور پھراس کے نتیجہ میں ان پر عذاب بھی آئے۔
سوال: اللہ تعالیٰ انبیاء کو کیوں بھیجتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے انبیاء اس لئے بھیجے تھے یا بھیجتا ہے کہ ان کو مان کر بگڑے ہوئے لوگ راہ راست پر آجائیں اور اس دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں۔
سوال:آجکل کے لوگوں میں کون کون سی گذشتہ برائیاں موجود ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آج دیکھ لیں وہ کونسی برائی ہے جو گذشتہ قوموں میں تھی اور آج کل کے لوگوں میں نہیں ہے اور انبیاء کے سمجھانے کے باوجود سوائے چند لوگوں کے وہ ان برائیوں سے نہیں رکے تھے۔ ان قوموں کے لوگ بے حیائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، اخلاقی برائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، تجارتوں کی دھوکے بازیوں میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اگر چھوٹے پیمانے پر دھوکے بازی نہیں کرتے تو بڑے پیمانے پر دھوکے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ اپنے ہم قوموں سے نہیں کرتے تو غیر قوموں سے دھوکے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ تو یہ سب کچھ یہاں بھی چل رہا ہے۔ جھوٹ میں وہ لوگ انتہا تک پہنچے ہوئے تھے جو آج بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ شرک میں وہ لوگ بڑھے ہوئے تھے جو آج بھی ہم دیکھتے ہیں۔
سوال: اوپیرا (Opera) میں کون سے ڈرامہ رچایا گیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اوپیرا (Opera) میں ڈرامہ رچایا گیا ہے جس میں انبیاء کی ہتک کی گئی ہے کہ ایک جہاز سمندر کے طوفان کی زد میں آگیا۔ بادشاہ نے سمندر کے دیوتا کو کہا اس نے یہ دعا کی کہ اگر وہ محفوظ طریقے پر خشکی پر پہنچ گیاتو سب سے پہلے جس شخص کو دیکھے گا اس کی قربانی پیش کرے گا۔ اتفاق سے سب سے پہلا شخص جس پر اس کی نظر پڑی وہ اس کا اپنا بیٹا تھا۔ تو اس نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ اس پر خدا ناراض ہو جاتا ہے اور دیوتا ناراض ہوجاتا ہے، قوم پر بڑی تباہی آتی ہے۔ اس پر بادشاہ اپنی قربانی پیش کرتا ہے تو عذاب ٹلتا ہے۔ اب کیونکہ مذہب کا بھی مذاق اڑانا تھا اور خاص طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانا تھا، نشانہ بنانا تھا۔ اس لئے اب کہانی میں ذرا سی تبدیلی کرکے ایک یونانی دیوتا اور ایک حضرت بدھ، حضرت عیسیٰ اور آنحضرت ﷺکی غلط قسم کی منظر کشی کرکے نہایت ظالمانہ فعل کے مرتکب ہو ئے ہیں۔ بہر حال اب کہانی کو اس ظالمانہ منظر کشی کے بعد اس طرح بدلا گیا ہے کہ بادشاہ نے قربانی نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس میں اب کہتے ہیں کہ وہ ٹھیک تھا اور انسانی عقل کو خدا کے ظالمانہ فیصلے پر غالب آنا چاہئے تھے۔ اور انبیاء کو اب انہوں نے خدا تعالیٰ کے عمومی ظلموں (نعوذ باﷲ) کے اظہار کے سمبل (Symbol) کے طور پر پیش کیا ہے۔ تو یہ ڈرامہ یہاں ایک دفعہ دکھایا جا چکا ہے اور چند دن تک دوسری دفعہ بھی ان کا دکھانے کا ارادہ ہے اِنّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آنے کا کیا مقصد بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دُور کرکے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرکے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کردوں اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں ۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اہل امریکہ و یورپ کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:اگر اہل امریکہ و یورپ ہمارے سلسلہ کی طرف توجہ نہیں کرتے تو وہ معذور ہیں اور جب تک ہماری طرف سے ان کے آگے اپنی صداقت کے دلائل نہ پیش کئے جاویں وہ انکار کا حق رکھتے ہیں ۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یورپ اور امریکہ میں اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کا کیا ذکر فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : مَیں امید کرتا ہوں کہ کچھ تھوڑے زمانے کے بعد عنایت الہٰی ان میں سے بہتوں کو اپنے خاص ہاتھ سے دھکاّ دے کر سچی اور کامل توحید کے اس دارالامان میں داخل کر دے گی جس کے ساتھ کامل محبت اور کامل خوف اور کامل معرفت عطا کی جاتی ہے۔ یہ امید میری محض خیالی نہیں ہے بلکہ خدا کی پاک وحی سے یہ بشارت مجھے ملی ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ انبیاء کو کیوں بھیجتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اور رحم کی وجہ سے ہی اپنے انبیاء بھیجتا ہے تاکہ اپنے بندوں کو شیطان کے چنگل سے نکالے اور وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تم سے اس خدمت کا کوئی اجر نہیں مانگتے ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیْ فَطَرَنِیْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(ھود:52) میرا اجر اس ہستی کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور یہ پیغام بھی ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس قوم کے ہر فرد تک پہنچا دے کہ اے بھولے بھٹکے ہوئے لوگو ! اے اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹے ہوئے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم کرتے ہوئے اس زمانے میں بھی اپنے آخری نبی ﷺکی نمائندگی میں اپنا ایک نبی مبعوث فرمایا ہے۔