سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نےسورۃ الحشر کی آیت نمبر 23 کی تلاوت فرمائی:ہُوَ اللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ ۚ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ غیب کا جاننے والا ہے اور حاضر کا بھی۔ وہی ہے جو بن مانگے دینے والا، بے انتہا رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
سوال: فیضان رحمانیت کیسےتمام ذی روحوں پر محیط ہو رہا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: فیضان رحمانیت ایسا تمام ذی روحوں پر محیط ہو رہا ہے کہ پرندے بھی اِس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سرور سے تیر رہے ہیں اور چونکہ ربوبیت کے بعد اسی فیضان کا مرتبہ ہے اس جہت سے اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ربّ العالمین کی صفت بیان فرما کر پھر اس کے رحمن ہونے کی صفت بیان فرمائی تا ترتیب طبعی ان کی ملحوظ رہے۔
سوال: صفت رحمانیت کیا ہے اور کس طرح تمام ذی روح اس سے فیض حاصل کررہے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ رحمت ایسی نرمی کو کہتے ہیں جو اس شخص پر احسان کئے جانے کی مقتضی ہو۔ یعنی ایسی نرمی ہو جس سے کسی شخص پر احسان کیا جائے، اس کا تقاضا کرتی ہو۔ ضرورت ہو احسان کی جس پر رحم کیا جا رہا ہے۔ کبھی رحمت کا لفظ محض نرمی کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، صرف احسان نہیں ہے بلکہ نرمی ہے اور کبھی محض ایسے احسان کے معنے میں استعمال ہوتا ہے جس کے ساتھ نرمی شامل نہ ہو، احسان تو ہو نرمی نہ ہو۔ اس کی مثال انہوں نے دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ رَحِمَ اللّٰہُ فُلَانًا یعنی اللہ تعالیٰ نے فلاں پر احسان فرما دیا ہے۔ اور جب رحمت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو محض احسان کے معنے میں ہی آتا ہے اور نرمی اور سختی کے جذبات کو انہوں نے انسان کے ساتھ مختص قرار دیا ہے۔
سوال:علامہ فخرالدین رازی نے اَلرَّحْمٰن کی کیا تشریح بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: علامہ فخرالدین رازی لکھتے ہیں کہ اَلرَّحْمٰن وہ ایسے انعام کرنے والی ہستی ہے کہ بندوں میں ایسے انعامات کی مثال ممکن نہیں۔ رحمانیت کے جلوے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن ادھم کے بارے میں بیان ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مَیں کسی کے ہاں مہمان تھا تو انہوں نے میرے سامنے کھانا رکھا۔ کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک کوّا آیا اور میرے سامنے سے ایک روٹی اُٹھا کر لے گیا۔ کہتے ہیں کہ مَیں بڑا حیرت زدہ ہو کر اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں یہ کیا کرتا ہے، کہاں لے جاتا ہے۔ تو وہ ایک ٹیلے پر اترا جہاں ایک آدمی بندھا ہوا پڑا تھا، کسی آدمی کو باندھ کے کسی اونچی جگہ پر کسی اونچے ٹیلے یا پہاڑی پہ رکھا ہوا تھا، اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ تو مَیں نے دیکھا کہ کوّے نے روٹی اس بندے کے آگے پھینک دی۔
سوال: فخرالدین رازی اپنی تفسیر کبیر میں رحمانیت کے جلوے کا کون سا واقعہ بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مَیں دریا کے کنارے کھڑا تھا۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ موٹاسا بچّھو آیااور دریا میں ایک بڑا سامینڈک تھا، بچّھو اس کے اوپر بیٹھ گیا۔ کہتے ہیں کہ مَیں بھی کشتی میں بیٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا کہ دیکھوں یہ کہاں جاتے ہیں۔ تو عجیب واقعہ ہو اہے کہ اگلے کنارے پر پہنچ کے بچّھو وہاں سے اترا اور ایک طرف چل پڑا مَیں بھی پیچھے پیچھے گیا، تو دیکھا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی سو رہا تھا اور ایک سانپ اس پہ حملہ کرنے والا تھا، بچّھو نے جا کر اس کو ڈنگ مارا اور سانپ نے بچّھو کو کاٹا۔ دونوں مر گئے اور آدمی بچ گیا۔ تودیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی رحمانیت کے جلوے دکھاتا ہے۔
سوال: لسان العرب میں اَلرَّحْمَۃکی کیا تشریح بیان ہوئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: لسان العرب میں لکھا ہے اَلرَّحْمَۃُ : دل کی نرمی اور شفقت کے جذبات کے ساتھ میلان اور مغفرت۔ انہوں نے رحمان اور الرحیم دو صفات لکھی ہیں کیونکہ روٹ ایک ہے۔ رحمن مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی اس کے معنے میں کثرت پائی جاتی ہے، وہ اس طرح کہ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور اسے گھیرے ہوئے ہے۔ رحمن صفت صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ رحمت کا لفظ اگر انسانوں کے حوالے سے استعمال ہو تو اس کے معنے ہیں دل کی نرمی اور دل کا مہربانی کے ساتھ مائل ہونا۔ اگر رحمت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی مہربانی، احسان اور رِفق۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الرحمٰن کی کیا تشریخ فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :لفظ الرحمن کے ایک اپنے بھی خاص معنے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اذن الٰہی سے صفت الرحمن کا فیضان انسان اور دوسرے حیوانات کو قدیم زمانے سے حکمت الٰہیہ کے اقتضاء اور جو ہر قابل کی قابلیت کے مطابق پہنچتا رہا ہےحکمت الٰہیہ کے اقتضاء اور جو ہر قابل کی قابلیت کے مطابق پہنچتا رہا ہے، نہ کہ مساوی تقسیم کے طور پر۔ اور اس صفت رحمانیت میں انسانوں یا حیوانوں کے قویٰ کے کسب اور عمل اور کوشش کا کوئی دخل نہیں جس سے پہلے کسی کا کچھ عمل بھی موجودنہیں ہوتا اور یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ایک عام رحمت ہے، جس میں ناقص یا کامل شخص کی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ صفت رحمانیت کا فیضا ن کسی عمل کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ کسی استحقاق کا ثمرہ ہےبلکہ یہ ایک خاص فضل ایزدی ہے جس میں فرمانبرداری یا نافرمانی کا دخل نہیں ۔
سوال: کیا رحمٰن کی صفت انسانوں میں بھی ہو سکتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کے کامل مظہر ٹھہرے کیونکہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ رحمن کی صفت انسانوں میں بھی ہو سکتی ہے اور انسان کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے زیادہ ہے۔ بلکہ آپؑنے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ایک عام آدمی بھی اس کا نمونہ بنتا ہے اور اس کو یہ نمونہ دکھانا چاہئے۔ اس کے لئے آپؑنے مثال دی ہے کہ جو کام تم بغیرکسی اجر کے کرتے ہو، لوگوں کی بھلائی کے لئے خدمت خلق کا کام کرتے ہو وہ اسی صفت کے تابع ہو کر کرتے ہو، اور کرنا چاہئے۔ بلکہ ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ جنہوں نے میری بیعت کی ہے اگر وہ اس صفت کو نہیں اپناتے تو اپنی بیعت میں اور وعدے میں جھوٹے ہیں۔ پس اس طرف بھی ہر احمدی کو بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔
سوال: رحمت کتنے معنوں پر مشتمل ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رحمت دو معنوں پر مشتمل ہے، ایک اَلرِّقَّۃ نرمی اور دوسرے اَلْاِحْسَان، احسان کرنا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رَحْمٰنُ الدُّنْیَا ہے اور رَحِیْمُ الْاٰخِرَۃہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا احسان اس دنیا میں مومن و کافر ہر ایک پر عام ہے جبکہ آخرت میں صرف مومنین سے ہی مختص ہو گا اور اس مضمون کے بارے میں کہتے ہیں کہ مندرجہ ذیل آیت ہے۔ وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ئٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ کہ میری رحمت ہر چیزپر حاوی ہے۔