اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-07

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ11؍اپریل 2025بطرز سوال وجواب

سوال: آنحضرت ﷺکو جو معجزات دکھائے گئے انکے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت ﷺنے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔ کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کردیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کردیا۔ اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کیے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الٰہی مخلوط تھی۔
سوال: تیما مدینہ سے کتنے فاصلے پر واقع ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: تَیْمَاء مدینہ سے شام کے راستے میں ایک معروف شہر تھا جو مدینہ سے تقریباً چار سو کلو میٹر پر واقع تھا۔
سوال: تیماء کے یہود کو جب خیبر، فدک اور وادی القریٰ کے حالات کی خبر ہوئی تو انہوں نےکیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:تیماء کے یہود کو جب خیبر، فدک اور وادی القریٰ کے حالات کی خبر ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی کرنے کی بجائے از خود آدمی بھیج کر صلح کی پیشکش کی جسے رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا اور تیماء کے یہود کو اپنے مال و متاع کے ساتھ اپنے علاقے میں رہنے کی اجازت دے دی۔
سوال: غزوہ خیبر میں نماز فجر کی تاخیر کا کون سا واقعہ پیش آیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺغزوۂ خیبر سے لوٹے تو ساری رات چلتے رہے۔ جب آپؐکو نیند آئی تو مدینہ کے قریب آرام کے لیے پڑاؤ کیا اور بلال سے فرمایا کہ آج رات ہماری نماز کے وقت کی حفاظت کرو یعنی تم دیکھتے رہنا نماز کے وقت جگا دینا۔ پھر حضرت بلالؓنے جتنی ان کے لیے مقدر تھی نماز پڑھی۔ وہ جاگنے کے لیے ساری رات نفل پڑھتے رہے اور رسول اللہ ﷺاور آپؐکے صحابہؓ سوگئے۔ جب فجر کا وقت قریب آیا تو بلالؓنے صبح پھوٹنے کی سمت رخ کرتے ہوئے اپنی سواری کا سہارا لیا تو
بلالؓپر بھی نیند غالب آ گئی جبکہ وہ اپنی اونٹنی سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پس نہ تو رسول اللہ ﷺجاگے، نہ بلالؓاور نہ آپؐکے صحابہ میں سے کسی میں سے کوئی، یہاں تک کہ دھوپ ان پر پڑی۔ رسول اللہ ﷺان میں سے سب سے پہلے جاگے۔ رسول اللہ ﷺفکر مند ہوئے اور فرمایا اے بلال! بلال نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میری روح کو بھی اسی ذات نے روکے رکھا جس نے آپؐکو روکے رکھا۔ آپ ﷺنے وہاںسے روانگی کا حکم فرمایا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی سواریوں کو تھوڑا سا چلایا۔ پھر رسول اللہ ﷺنے تھوڑی دور جا کے قیام کیا، وہاں وضو کیا اور بلال کو حکم فرمایا۔ انہوں نے نماز کی اقامت کہی۔ پھر آپ نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔اس جگہ پہ جہاں آپؐسوئے تھے وہاں نہیں پڑھائی بلکہ آگے جا کے کھلی جگہ پر باجماعت پڑھائی۔
سوال: اگر کوئی نماز بھول جائے تو اسے کیا کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؐنے فرمایا کہ جو شخص نماز بھول جائے تو اسے چاہئے کہ جب یاد آئے اسےپڑھ لے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نماز کو میرے ذکر کے لیے قائم کرو۔
سوال: نماز کیلئے تکبیر کس طرح دینی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مدینہ سے واپسی کے دوران صحابہؓ بلند آواز سے تکبیر کہہ رہے تھے۔ اس بارے میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓنے بیان کیا کہ مدینہ سے واپس آتے ہوئے لوگ ایک وادی پر چڑھے۔ انہوں نے اپنی آوازیں تکبیر سے بلند کیں۔ اللّٰهُ أَ كْبَرُ اللّٰهُ أَ كْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ یہ کہا تو رسول اللہ ﷺنے انہیں فرمایا آواز کو دھیما رکھو۔ تم کسی بہرے کو نہیں بلا رہے اور نہ غیر حاضر کو۔ اللہ تعالیٰ سننے والا بھی ہے اور حاضر بھی ہے۔ اس لیے درمیانی آواز رکھو۔ تم تو اس کو بلا رہے ہو جو بہت سننے والا اور نہایت قریب ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔
سوال: اسلامی لشکر مدینہ سے کب روانہ ہوا تھا اور واپس کب لوٹا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اسلامی لشکر جو مدینہ سے محرم سات ہجری کو روانہ ہوا تھا خدا تعالیٰ کے افضال اور کامیابیوں کو بھرپور انداز میں سمیٹتے ہوئےصفر کے آخری ایام میں یا ربیع الاول کے ابتدا میں واپس مدینہ پہنچ گیا۔
سوال: خیبر میں رسول اللہ ﷺکی مدتِ اقامت میں کیا اختلاف ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خیبر میں رسول اللہ ﷺ کی مدتِ اقامت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے خیبرمیں چھ ماہ قیام فرمایا۔ آپ اس دوران میں دو نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھاتے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ وہاں چالیس دن تک رہے۔
سوال: فتح خیبر کے مسلمانوں کے حق میں کون سارے اثرات ظاہر ہوئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فتح خیبر کے مسلمانوں کے حق میں بہت سے اثرات ظاہر ہوئے۔ خیبر کی فتح کا ایک بنیادی اثر یہ ہوا کہ عرب میں ارد گرد کے بہت سے قبائل جو پہلے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بندی کرنے میں مصروف تھے وہ خوفزدہ ہو گئے اور کچھ نے تو صلح کا ہاتھ بڑھایا کچھ نے اطاعت قبول کرنے میں عافیت جانی اور اس طرح مسلمانوں کے سیاسی وقار میں اضافہ ہوا۔ فتح خیبر کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ جزیرۂ عرب میں یہود کی طاقت تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔مدینہ کے یہود اور خیبر کے یہود عرب کے خطے میں بڑی حد تک اقتصادی اور فوجی طاقت کی ایک علامت سمجھے جاتے تھے اور اسلام کے خلاف خاص طور پر عداوت و بغض میں اس حد تک بڑھے ہوئے تھے کہ کم و بیش ہر بڑی جارحیت میں دشمن کو ان کی پشت پناہی حاصل ہوتی تھی۔تیسرا بنیادی اثرمدینہ کے مسلمانوں کی اپنی معیشت پر بہت مثبت رنگ میں ہوا۔
سوال:ـ غزوہ خیبر میں حضرت جابرؓکا اونٹ گم ہونے کا کیا بیان ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت جابرؓکا اونٹ گم ہونے کا واقعہ بھی ملتا ہے۔ حضرت جابرؓسے روایت ہے کہ اندھیری رات میں میرا اونٹ گم ہو گیا۔ مَیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا اونٹ گم ہو گیا ہے۔ آپؐنے فرمایا:تیرا اونٹ فلاں جگہ ہے جا اور اس کو پکڑ لے۔ میں اس طرف گیا لیکن مجھے اونٹ نہ ملا۔ میں واپس آیا۔ میں نے دوبارہ اسی طرح کہا۔ آپ نے دوبارہ مجھے اسی طرح فرمایا۔ کہتے ہیں میں دوبارہ گیا لیکن مجھے اونٹ نہ ملا تو میں واپس آ گیا۔ اس پر آپؐنے شفقت فرماتے ہوئے کہا چلو۔ میرے ساتھ چلو۔ آپؐمیرے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم اونٹ کے پاس گئے اور آپ نے اونٹ مجھے پکڑا دیا۔