سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رب العالمین کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ربُّ العالمین کیسا جامع کلمہ ہے اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی اور یہ کہہ کر حقیقت سے ہمیں خبر دے دی کہ وہ ربُّ العالمین ہے یعنی جہاں تک آبادیاں ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے خواہ اجسام خواہ ارواح ان سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے اور تمام عالموں پر ہر وقت، ہر دم اس کا سلسلۂ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور جزا سزا کا جاری ہے۔
سوال: ربّ العالمین کی صفت کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ربّ العالمین کی صفت نے کس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں نمونہ دکھایا۔ آپؐنے عین ضعف میں پرورش پائی۔ کوئی موقع مدرسہ، مکتب نہ تھا جہاں آپؐاپنے روحانی اور
دینی قویٰ کونشوونما دے سکتے۔ کبھی کسی تعلیم یافتہ قوم سے ملنے کا موقع ہی نہ ملا۔ نہ کسی موٹی سوٹی تعلیم کا ہی موقع پایا اور نہ فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کے حاصل کرنے کی فرصت ملی۔ پھر دیکھو کہ باوجود ایسے مواقع کے نہ ملنے کے قرآن شریف ایک ایسی نعمت آپؐکو دی گئی جس کے علوم عالیہ اور حقہ کے سامنے کسی اور علم کی ہستی ہی کچھ نہیں۔ جو انسان ذرا سی سمجھ اور فکر کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھے گا اس کو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کے تمام فلسفے اور علوم اس کے سامنے ہیچ ہیں اور سب حکیم اور فلاسفر اس سے بہت پیچھے رہ گئے ۔
سوال: نبی کریم ﷺکو خدا تعالیٰ کس طرح کی استعدادیں عطا فرمائی تھیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے بغیر روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو سحری کے بغیر روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تم میں سے کون میری مانند ہے، میرا ربّ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ بعض مواقع ایسے آتے ہوں گے کہ بھوک کا احساس اس طرح نہیں ہوتا۔ مگر جب لوگ سحری کے بغیر روزے سے باز نہ آئے تو آپ نے ایک دن ان کے ساتھ سحری کے بغیر روزہ رکھا، پھر ایک اور روزہ رکھا، پھر جب لوگوں نے چاند دیکھا تو حضورؐ نے فرمایا اگر چاند نظر نہ آتا تو مَیں کئی دن تک تمہارے لئے اسی طرح روزہ رکھتا جاتا۔ گو یا ان لوگوں کے باز نہ آنے کی وجہ سے سزا کے طورپر اور یہ بتانے کے لئے فرمایا کہ تمہاری استعدادیں میرے برابر نہیں ہو سکتیں، مَیں تو اللہ کا نبی ہوں۔
سوال: جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 6 ماہ مسلسل روزے رکھے اس دوران آپ پر کیا کیا مکاشفات ہوئے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :اس دوران مجھ پر عجیب عجیب مکاشفات کھلے۔ کئی سابقہ انبیاء اور اولیاء سے ملاقاتیں ہوئیں۔ عین بیداری کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت حسینؓ، حضرت علیؓاور حضرت فاطمہ ؓ کو دیکھا جب مَیں نے چھ ماہ کے روزے رکھے تو ایک طائفہ، ایک وفد انبیاء کا مجھے ملا اور انہوں نے کہا کہ تم نے کیوں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے اس سے باہر نکل جب اس طرح انسان اپنے آپ کو خدا کی راہ میں مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ ماں باپ کی طرح رحم کرکے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہے۔
سوال: خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور غیر انسان کا مربی بننا اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے اگر ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ کرنے والا خد اکی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے، یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الٰہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کر لے تاکہ اپنے محب کے رنگ میں آ جائے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفات اختیار کرنے سے بندہ بندہ ہی رہتا ہے خدا نہیں بن جاتا اس تعلق سے حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اختیار کرنے کے بعد یا ایسا کام کرنے کے بعد جو اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے ایک بندہ، بندہ ہی رہتا ہے اور ربّ کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ بعض دفعہ بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ہم جن کی ضروریات پوری کر رہے ہیں شاید ان کے ربّ بن گئے ہیں۔ وہ بہرحال بندہ ہے پس ایک تو یہ کہ اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نرمی کا سلوک کرنا چاہئے، دوسرے آپ نے اس حد تک احتیاط کی کہ فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے غلام کو بھی عَبْدِیْ یعنی اے میرے بندے، کہہ کر نہ پکارے کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو بلکہ یہ کہے کہ اے میرے غلام اور نہ ہی کوئی غلام اپنے مالک کو رَبِّیْ یعنی میرے ربّ کہے بلکہ وہ سیّدی یعنی اے میرے آقا کہہ کر پکارے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آنے کا کیا مقصد بیان فرمایا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں تا ایمانوں کو قوی کروں اور خداتعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کرکے دکھلاؤں ۔
سوال: خدا کی شناخت کس سے کی جا سکتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہےنبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے۔
سوال: حضور انور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کون سی الہامی دعا کا ذکر کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک الہامی دعا کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:پہلے اس سے چند مرتبہ الہامی طورپرخدائے تعالیٰ نے اس عاجز کی زبان پر یہ دعا جاری کی تھی کہ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُبَارَکًا حَیْثُمَا کُنْتُ یعنی اے میرے ربّ مجھے ایسا مبارک کر کہ ہر جگہ مَیں بودو باش کروں برکت میرے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے اپنے لطف و احسان سے وہی دعا کہ جو آپ ہی فرمائی تھی قبول فرمائی اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اوّل آپ ہی الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت کون سی دعا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو سب سے بڑ ااور بردبار ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو عرش عظیم کا ربّ ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو آسمانوں اور زمین کو پالنے والا ہے اور عرش کریم کا ربّ ہے۔