سوال:نبی اکرم ﷺنے خیبر کے موقع پر مہاجرین حبشہ کے واپس پہنچنے پرکیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:نبی اکرم ﷺنے خیبر کے موقع پر مہاجرین حبشہ کے واپس پہنچنے پر فرمایا:مَا أَدْرِيْ بِأَيِّهِمَا أَنَا أُسَرُّ: بِفَتْحِ خَيْبَرَ، أَمْ بِقُدُوْمِ جَعْفَرٍ کہ معلوم نہیں کہ ان دونوں باتوں میں سے مَیں کس بات پر زیادہ خوش ہوں خیبر کی فتح ہونے پر یا جعفر کے آنے پر۔
سوال: رسول کریم ﷺنے شہید ہونے والے ایک حبشی غلام کی بابت کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؐنے شہید ہونے والے ایک حبشی غلام کی بابت فرمایا: اللہ نے تیرے چہرے کو خوبصورت بنا دیا اور تیری بدبو کو خوشبو دار بنا دیا اور تیرے مال کو زیادہ کر دیا۔
سوال: خیبر کی فتح کی خوشی کے ساتھ رسول کریم ﷺ کیلئے کون سی خوشی کی بات ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: خیبر کی فتح کی خوشی کے ساتھ ہی انہی دنوں میں آنحضرت ﷺکے لیے ایک اَور خوشی کی بات ہوئی جس پر آپ ﷺنے فرمایا کہ میں بیان نہیں کر سکتا کہ مجھے خیبر کی فتح کی زیادہ خوشی ہوئی یا اس بات کی اور وہ تھی حضرت جعفرؓ کی مہاجرین حبشہ کے ساتھ حبشہ سے واپسی۔
سوال: صلح حدیبیہ کے بعد نبی اکرم ﷺنے حضرت عَمرو بن اُمَیّہ ضَمْرِیؓکو نجاشی کی طرف جو خط لیکر بھیجا تھا اس میں کیا لکھا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: صلح حدیبیہ کے بعد نبی اکرم ﷺنے حضرت عَمرو بن اُمَیّہ ضَمْرِیؓکو نجاشی کی طرف ایک خط دے کر حبشہ بھیجا جس میں لکھا تھا کہ اب جتنے مہاجر مسلمان وہاں رہ گئے ہیں ان کو مدینہ میرے پاس بھیج دیا جائے۔
سوال: کیا محمد ﷺنے(نعوذ باللہ) اموالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے جنگیں کیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:وہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ محمد ﷺنے اموالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے جنگیں کیں۔ اور خاص طور پر خیبر کے حوالے سے بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہود کے اموال پر ناجائز قابض ہونے کے لیے یہ ظلم کیے گئے تھے۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو عین جنگ کی حالت میں دشمن کی بکریوں کا ایک ریوڑ اور خیبر میں صحابہ کی بھوک سےجو حالت تھی کہ بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے ۔کھانے کو کچھ نہیں تھا تو یہ بکریاں تو مفت کا مالِ غنیمت تھا۔ استعمال کر سکتے تھے لیکن نبی اکرم ﷺنے جنگ کی حالت میں بھی امانت کا حق ادا کرتے ہوئے بکریاں واپس کرنے کا ارشا د فرمایا۔
سوال: رسول کریم ﷺنے خیبر کے موقع پر کس کا گوشت منع فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خیبر کے موقع پر بعض فقہی مسائل کا بھی ذکر ملتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔
سوال: خیبر کے اموالِ غنیمت اور اس کی تقسیم کے بارے میں حضرت ابوہریرہؓنے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خیبر کے اموالِ غنیمت اور اس کی تقسیم کے بارے میں ایک روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہؓنے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ خیبر کی طرف چلے اور غنیمت میں ہم کو سونا اور چاندی نہ ملا۔ صرف اونٹ، مویشی، سامان اور باغات ملے اور ایک روایت میں ہے کہ اموال کپڑے اور سامان تھے۔
سوال: فدک والوں نے آنحضرت ﷺسے کس بات پر صلح کی تھی ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: فدک والوں نے اس بات پر آنحضرت ﷺسے صلح کی تھی کہ آدھی زمینیں ان کے لیے چھوڑ کر باقی آدھی آنحضرت ﷺلے لیں۔ چونکہ یہ بستی بغیر جنگ کے حاصل ہوئی تھی۔ لہٰذا یہ آنحضرت ﷺکے حق میں فَے کا مال تھا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺفدک کی آمد میں سے خرچ کیا کرتے تھے۔
سوال: صرف چند قلعوں سے ملنے والا جو اسلحہ تھا اس کی کیا تفصیل حضور انور نے بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:صرف چند قلعوں سے ملنے والا جو اسلحہ تھا اس کی تفصیل یہ ہے جس میں ایک ہزار نیزے، چار سو تلواریں اور پانچ سو کمانیں ملیں۔
سوال: تورات کے صحیفے یہودیوں کو واپس کرنے کے بارے میں کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا : تورات کے صحیفے یہودیوں کو واپس کرنے کا ذکربھی ملتا ہے۔ خیبر کے قلعوں سے جب مال غنیمت اکٹھا کیا گیا تو اس میں تورات کے کچھ صحائف بھی ملے۔ یہود نے حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے بحفاظت ان کے صحائف واپس کرنے کا حکم دیا۔ جو تورات لکھی ہوئی تھی اُسے واپس کر دیا۔
سوال: خیبر سے واپسی پر غزوۂ وادی القریٰ کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خیبر سے واپسی پر غزوۂ وادی القُریٰ کا بھی ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فتح خیبر کے بعد چند دن وہاں قیام کیا۔ پھر آپؐاسلامی لشکر کے ساتھ واپسی کے لیے روانہ ہوئے تو وادی القریٰ میں یہود سے مقابلہ ہوا۔ تَیْمَاء اور خیبر کے درمیان ایک وادی ہے جس میں بہت سی بستیاں آباد ہیں۔اس کو وادی القریٰ کہتے ہیں۔ قدیم زمانے میں عاد اور ثمود یہاں آباد تھے۔ یہ دو قومیں ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں بھی ملتا ہے۔ یہ قومیں آباد تھیں۔ اسلام سے پہلے یہود ان بستیوں میں آ کر آباد ہوئے اور زراعت اور آب رسانی کو بہت ترقی دی اور یہود کا یہ ایک مرکز بن گیا۔
سوال: رسول اللہ ﷺنے خیبر کو کس طرح تقسیم کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: بُشَیر بن یَسَار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خیبر کو مجموعی طور پر چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا۔ آپؐنے ان میں سے نصف یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے محفوظ فرمائے جن میں سے ہر ایک سو حصوں پر مشتمل تھا یعنی ایک ہزار آٹھ سو حصے تھے۔ نبی ﷺکا بھی ایک حصہ ان میں سے کسی ایک حصے کی طرح تھا یعنی آنحضرت ﷺکا اپنا حصہ بھی ان کے برابر ہی تھا جتنا باقیوں کا تھا۔
سوال: خیبر کے اموال غنیمت کن لوگوں کو تقسیم کئے گئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خیبر کے اموالِ غنیمت عمومی طور پر صرف انہی لوگوں میں تقسیم کیے گئے جو صلح حدیبیہ میں حاضر تھے۔ البتہ استثنائی طور پر ان کے علاوہ حضرت جابر بن عبداللہ بن عمروؓکو حصہ دیا گیا۔ اور اسی طرح حبشہ سے واپس آنے والے اور حضرت ابوہریرہؓوغیرہ کچھ اور لوگوں کو بھی مال غنیمت میں سے دیا گیا۔
سوال: فدک مدینہ سے کتنی مسافت پر ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اہل فَدَکْ کی رسول اللہ ﷺسے مصالحت کا بھی ذکر ہے۔ فَدَکْ مدینہ سے چھ رات کی مسافت پر خیبر کے قریب واقع ہے۔