سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ المؤمن کی آیت نمبر 67 کی تلاوت فرمائی :قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَمَّا جَآءَ نِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْن۔
سوال: ہمیں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کس طرح شکریہ ادا کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:دنیاوی آرام و آسائش کے لئے، تمہارے سکون کے لئے رات اور دن بنا کر ہر ایک انسان پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ہے، اور ایک بہت بڑا احسان ہے۔ اس احسان کے بدلے میں ایک مومن بندے سے سوائے شکر کے جذبات کے کسی اور اظہار کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہئے ایک مومن سے کسی دوسرے اظہار کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔ پس اس شکر گزاری کے جذبات کے نتیجہ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب ہے اس کی عبادت کی طرف توجہ رہے اور کبھی کوئی ایسا موقع نہ آئے جب تم شیطان کے بہکاوے میں آ جاؤ۔ اس لئے ہوش کرو اور ہمیشہ اُن نعمتوں کو یاد کرتے رہو جن میں زمین و آسمان اور اس کے اندر اور درمیان کی کائنات کی ہر چیز شامل ہے اور جس میں اس نے تمہاری بقا کے سامان مہیا کئے ہوئے ہیں۔
سوال:ایک احمدی مسلمان کا کیا اعلان ہونا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: احمدی کا یہ اعلان ہونا چاہئے کہ ہم تو اپنے ربّ کے حکم کے مطابق جو ربُّ العالمین ہے اس کے تمام حکموں پر عمل کرتے ہوئے کامل فرمانبرداری سے اس کے آگے جھکتے ہیں اور اس کے حضور یہ عرض کرتے ہیں کہ رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰ تِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَار۔کہ
اے ہمارے ربّ ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری تمام برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔ ہم عاجزی سے یہ عرض کرتے ہیں کہ اب جبکہ ہم نے اس امام کو مان لیا ہے، تیرے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہماری یہ دعا قبول فرما کہ ہم اب کبھی کسی قسم کی برائیوں میں نہ پڑیں، کسی بھی قسم کی غلطیوں کا ارتکاب ہم سے نہ ہو، ہمیشہ گناہوں سے بچتے رہیں، پس اے ہمارے خد اتو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں ہر قسم کی برائیوں سے بچائے رکھ، جب ہمارا واپسی کا وقت آئے، اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا وقت آئے تو ہم میں سے ہر ایک کا شمار ان لوگوں میں سے ہو جو نیک لوگ ہیں، ہمارا شمار ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے ایمانوں کو درست اور قوی کیا، اپنے ایمانوں کو ہمیشہ دنیا کے گند اور گرد و غبار سے بچائے رکھا۔
سوال: اگر ہماری دعاؤں کے ساتھ ہمارے عمل مطابقت نہیں رکھیں تو کیا ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اگر ہماری دعاؤں کے ساتھ ہمارے عمل مطابقت نہیں رکھتے ہوں گے تو پھر ہماری فرمانبرداری کبھی کامل فرمانبرداری نہیں کہلا سکتی اور جب کامل فرمانبرداری نہ ہو تو پھر دعا بھی نہیں رہتی بلکہ ہمارے منہ سے نکلے ہوئے کھوکھلے الفاظ ہوتے ہیں۔
سوال: ہمیں کس بات کاہمیشہ جائزہ لینا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ہمیں ہمیشہ اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ منادی کی آواز سن کر ہم جو اعلان کرتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ہم تجھے گواہ بنا رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، کیا ہمارا یہ اعلان حقیقت پر مبنی ہے؟ کیا یہ کامل فرمانبرداری والا ایمان ہے؟ کیا ہم نے سچائی کو سمجھتے ہوئے اپنے ربّ کو گواہ بنا کر اس کو پکارا ہے؟ یا ماحول کے زیر اثر یہ آواز لگائی ہے، یہ صدا دی ہے اور ہمیں صفت رب کا صحیح طرح فہم و ادراک نہیں ہے اور یہ پکار صرف زبانی جمع خرچ ہے، کھوکھلا دعویٰ ہے، یہ کھوکھلا نعرہ ہمارے کسی کام نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو حقیقی طورپر اس روح کو سمجھنے کی توفیق دے جو اس دعا کے پیچھے ہونی چاہئے، اپنے ربّ کو پکارتے ہوئے ہمیں اپنے اندر ایک درد کی کیفیت محسوس ہو، ہم اپنے ربّ کو درد سے پکار کر اپنے آپ کو نیکوں میں شامل کرنے کی درخواست کر رہے ہوں، اللہ سے یہ دعا مانگ رہے ہوں کہ ہمیں حقیقی نیک بنا دے۔ پھر یہ بھی جائزے لینے ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں اور ہم کس حد تک آپ کی خواہشات پر آپ کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں۔
سوال: حکمت حاصل ہونے اور نیک لوگوں میں شامل ہونے کی کون سی دعا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سورۃ الشعراء کی آیت نمبر 84 تا 86 میں فرماتا ہے رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْن وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْم کہ اے میرے ربّ مجھے حکمت عطا کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر اور میرے لئے بعد میں آنے والے لوگوں میں سچ کہنے والی زبان مقدر کر دے اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔
سوال:خدا تعالیٰ بخشش حاصل کرنے کی کون سی دعا ہے؟
جواب: حضور انورنے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَغَفَرَلَہٗ اِنَّہ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْم اے میرے رب یقینا مَیں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش، تو اس نے اسے بخش دیا یقینا وہی ہے جو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ تو یہ جو دُعا یہاں بیان کی گئی ہے یہ قصّہ کہانی کے طور پر نہیں لکھی گئی۔ بلکہ اس لئے بتائی ہے کہ اگر تم خالص ہو کر اپنے ربّ سے مانگو تو وہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گا۔ پس جب دل سے دعا نکلے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔
سوال: رَبَّنَا کے لفظ میں اللہ تعالیٰ نے کس طرف توجہ دلائی ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : رَبَّنَا کے لفظ میں توبہ ہی کی طرف ایک باریک اشارہ ہے کیونکہ رَبَّنَا کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ بعض اور ربّوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بیزار ہوکر اُس ربّ کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درد اور گدازکے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔ ربّ کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو… بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا ربّ بنایا ہواہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بدوں گزارا ہی مشکل ہےبعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہو کو اپنا ربّ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کاراہ ہی نہیں ہے۔ سو ان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔ دیکھو ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقعہ بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اس کا رزق آ سکتا ہے؟ وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔ غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے ان کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت؟ دعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اس دَر کے نہ ہو۔ اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔ غرض رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً…الخ ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا ربّ جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے ربّ کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ ہیچ ہیں ۔
… اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمین و آسمان کی جو نعمتیں مہیا فرمائی ہیں، زمین و آسمان کی جو چیزیں ہمارے ربّ نے ہماری خدمت کے لئے لگائی ہوئی ہیں یہ بے شمار ہیں جن کے نام لیتے چلے جائیں تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی۔