اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-17

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ28؍مارچ 2025بطرز سوال وجواب

سوال: اللہ تعالیٰ کی نظر میں کون سا شخص کامیاب ہوتا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ وہ آدمی فلاح پا گیا جو پاک ہو گیا یعنی قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ مقصد کو پا گیا۔ جب اس پر عمل کرو گے تو تبھی تمہیں فائدہ ہو گا۔ آپؑنے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ہزاروں چور ہیں، زانی ہیں، بدکار ہیں، شرابی ہیں، بدمعاش ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺکی امت میں سے ہیں مگر کیا وہ درحقیقت ایسے ہیں ؟ کیاوہ حق رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی امت کہلا سکیں۔ فرمایا ہرگز نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ امتی وہی ہے جو آپؐکی تعلیمات پر پورا کار بندہے۔
سوال: ہمیں اپنے اعمال کو کس طرح ڈھالنا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہم نے اپنے اعمال کو اس کے مطابق ڈھالنا ہے جو اسلامی تعلیم ہے، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں، جن کا آنحضرت ﷺنے ہمیں ارشاد فرمایا ہے اور اس زمانے میں جن کی طرف ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نےتوجہ دلائی ہے۔
سوال: جماعت احمدیہ کے افراد کو مخالفت پرکس طرح کا نمونہ ظاہر کرنا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعودؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ اس جماعت میں جو داخل ہوئے ہو تو اس کی تعلیم پر عمل کرو۔ فرمایا کہ جماعت میں داخل ہونے کے بعد تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں۔ اگر تکلیفیں نہ پہنچیں تو پھر ثواب کیونکر ممکن ہے۔ فرمایا کہ پیغمبر خدا ﷺ نے مکہ میں تیرہ برس تک دکھ اٹھائے اور تمہیں تو پتہ ہی نہیں کہ اس زمانے کی تکلیفیں کیا تھیں۔ پس ہمیشہ یاد رکھو کہ تکلیفیں تو پہنچتی ہیں لیکن جب مکہ میں صحابہؓ کو بھی اور آنحضرت ﷺکو بھی یہ تکلیفیں پہنچ رہی تھیں تو اس وقت بھی آنحضرت ﷺ نے صبر کی تعلیم دی تھی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آخر کار دشمن فنا ہو گیا۔ فرمایا کہ تم دیکھو گے کہ یہ جو شریر لوگ ہیں، جو تمہاری مخالفت کرتے ہیں یہ بھی اس وقت نظر نہیں آئیں گے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت احمدیہ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کی حمایت میں ہے اور دکھ اٹھانے سے ایمان قوی ہوجاتا ہے۔ صبر جیسی کوئی شے نہیں ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کے بارے میں کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےتقویٰ کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو تاریخ بتاتی ہے کہ اوائل میں جو سچا مسلمان ہوتا ہے اسے صبر کرنا پڑتا ہے۔ صحابہ پر بھی ایسا ہی زمانہ آیا کہ پتّے کھا کر گزارہ کیا۔ بعض اوقات روٹی کا ٹکڑابھی میسر نہیں آتا تھا۔ فرمایا کہ کوئی انسان کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ بھلائی نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ بھلائی کرنا چاہے تو پھر ہی انسانوں کی طرف سے بھی بھلائیاں ہوتی ہیں۔ جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ پھر اس کے واسطے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ تمہارا خیال ہے کہ لوگ تمہارے لیے بھلائی کریں گے لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا ابھی یہ ارادہ نہیں ہے کہ بھلائی ہو تو تم لاکھ کوششیں کر لو لوگ بھلائی نہیں کر سکتے۔ نیکی پر چلنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا ضروری ہے اور جب اس کی رضا حاصل ہو گی اور جب ہم تقویٰ پر چلنے لگیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے دروازے بھی کھولے گا۔ ان شاءاللہ۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ۔ اس سے سب کچھ حاصل ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۔ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ ۔
سوال: حقوق العباد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپس میں مل جل کے بیٹھو۔ جس قدر تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرو گے اسی قدر اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے گا۔
سوال: اصل تقویٰ کس کو کہتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: متقی بننے کے لیے ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا،چوری ،تلف حقوق ،ریاء، عُجب ،حقارت ،بخل کے ترک میں پکا ہو اخلاق رذیلہ سے پرہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔ یہ بات تقویٰ کے لیے ضروری ہے کہ موٹی موٹی برائیاں جو ہیں ان سے دور رہے۔ جو گھٹیا اخلاق ہیں ان سے بچے ۔گھٹیا باتوں سے بچے۔ لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے بلکہ اچھے اخلاق اس کے مقابلے میں پیدا ہوں تو پھر ہی اصل تقویٰ ہے۔ صرف برائیاں دور کر کے نیکیوں پہ قدم مارنا یہ اصل چیز ہے۔ برے اخلاق کو ختم کرنا اور اچھے اخلاق کو اپنانا یہ اصل چیز ہے۔صرف برائی سے بچنا تقویٰ نہیں ہے بلکہ برائی سے بچ کر نیکیوں کو بجا لانا تقویٰ ہے۔
سوال: حضور انور نے اس پر آشوب زمانے میں جماعت کو کس طرف توجہ دلائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہماری جماعت کے لیے ضروری ہے کہ اس پُرآشوب زمانے میں جبکہ ہر طرف ضلالت اور غفلت اور گمراہی کی ہوا چل رہی ہے تقویٰ اختیار کریں۔
سوال: ہمیں کشتی نوح کو کیوں پڑھنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کشتی نوح کو بار بار پڑھو۔ اس میں تمہارے لیے نصائح ہیں اور جب اس کو بار بار پڑھو گے اورنصائح پر عمل کرو گے اور پھر اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرو گے اور جو اس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکےحکموں کے مطابق احکامات درج ہیں ان کو دیکھو گے تو پھر وہی تمہاری کامیاب زندگی ہے اور وہی چیز ہے جو تمہیں بیعت میں فائدہ دینے والی ہو گی۔
سوال: عبادتوں کے معیار کس طرح اونچے کئے جا سکتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے محبت سے پورا حصہ لو اور اصل توحید اسی سے قائم ہو گی اور اس کے لیے جہاں تم اقرار کرتے ہو کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے محبت ہے، اس کی توحید قائم کرنا چاہتے ہیں وہاں اس کی تصدیق لازمی ہے اس کے لیے پھر اللہ تعالیٰ کے حضور گرنا اور گڑگڑانا ضروری ہے۔ جب یہ باتیں ہوں گی تو تب ہی ہم حقیقی توحید کو بجا لانے والے اور اس پر عمل کرنے والے اور اس کو پھیلانے والے ہوں گے۔
سوال:خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت سے کیا مراد ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت سے مراد ہے کہ اپنے والدین اور اپنی جور و یعنی بیوی، اپنی اولاد، اپنے نفس ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیا جائے چنانچہ قرآن شریف میں آتا ہے۔ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا (البقرہ :201) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو جیسا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ اور سخت درجہ کی محبت کے ساتھ یاد کرو۔ آپؑنے فرمایا کہ یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تعلیم نہیں دی کہ تم خدا کو باپ کہہ کر پکارو بلکہ اس نے یہ سکھایا ہے کہ نصاریٰ کی طرح دھوکا نہ لگے۔ اس لیے یہ کہا ہے کہ نصاریٰ کی طرح دھوکا نہ لگے اور خدا کو باپ کہہ کر پکارا نہ جائے۔ اگر کوئی کہے کہ پھر باپ سے کم درجہ کی محبت ہوئی تو اس اعتراض کو رفع کرنے کے لیے اَشَدَّ ذِکْرًا رکھ دیا گیا۔ اَشَدَّ ذِکْرًا نہ ہوتا تو اعتراض ہو سکتا تھا مگر اب تو اس نے اس کو حل کر دیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ باپ سے زیادہ ذکر کرو۔