سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےصفت ربّ العالمین کی کیاوضاحت فرمائی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ربّ العالمین کی صفت کی جو وضاحت فرمائی تھی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس میں تمام صفات جمع ہیں، وہ بھی جن کا ہمیں علم ہے اور وہ بھی جن کا ہمیں علم نہیں اور یہ تمام صفات انتہائی نقطۂ کمال تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر نقص سے پاک ہے اور حسن و احسان کے اعلیٰ نقطے پر پہنچا ہوا ہے جو اس کی صفات سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ حُسن اور احسان خوبصورتی کے اُس اعلیٰ نقطہ تک پہنچا ہوا ہے کہ جس کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا۔ ربّ العالمین کے بندے پر جو انعامات اور فضل ہیں یہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کی دین ہیں نہ کہ بندے کا کمال، یہ ایک ایسا احسان ہے جس کا مقابلہ تو کیا احاطہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
سوال: احسان کی صفت کس کے اظہار سے ظاہر ہوتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: احسان کی یہ صفت ربّ العالمین کے اظہار سے ظاہر فرمائی ہے۔
سوال: صفتِ ربوبیت سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: صفتِ ربوبیت سے اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق جو اس کائنات میں موجود ہے، جسے ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے، جو سائنس دانوں کے علم میں آئی ہے یا نہیں آئی، یہ سب فائدہ اٹھا رہی ہے۔
سوال: ربّ العالمین ہمیں کن چیزوںسے بچاتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ربّ العالمین صرف مشکل سے ہی نہیں نکال رہا بلکہ احسان یہ ہے کہ اسکے ساتھ انعامات کی بارش بھی ہو رہی ہے۔ صرف تکلیف دُور کرنے کا احسان نہیں ہے بلکہ انعامات سے نوازنے کا احسان بھی ہے۔ اگر دل مردہ نہ ہو جائیں اور احساس مر نہ جائیں تو انسان اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور ربوبیت کا کبھی شمار نہیں کر سکتا۔
سوال: احسان کا سلوک کس بات کا تقاضا کرتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: احسان کا جوسلوک ہے، یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور ایک مومن بندے کی اس طرف توجہ ہونی چاہئے کہ وہ اس ذات کی طرف کھنچے اور متوجہ ہو جس کے انعاموں اور احسانوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کی وجہ سے اس کے ایسے عبادت گزار بنیں اور اس کی ایسی عبادت کریں جو روح کے جوش سے ہو رہی ہو ایسی عبادت ہو جس میں ایک کشش ہو، صرف خانہ پُری والی عبادت نہ ہو۔ پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے شکرانے کا اظہار جو ایک مومن بندے کی طرف سے ہونا چاہئے۔
سوال: اللہ تعالیٰ ربّ العالمین کیوں ہے اس کی تفسیر میں علاّمہ رازی نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: علاّمہ رازی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ربّ العالمین ہے اس وجہ سے کہ وہی ہے جو ہر چیز کو جب تک وہ برقرار اور باقی ہے، بقا عطا کر رہا ہے۔ یعنی وہی قائم رکھتا ہے، وہی سہارا دیتا ہے، صحیح راستے پر ڈالتا ہے، کسی بھی چیز کی بقا کے لئے جو کچھ ضروری ہے وہ مہیا فرما رہا ہے۔
سوال: مربی کے کیا معنی ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:پھر وہ لکھتے ہیں کہ مُرَبّی یعنی پرورش اور تربیت کرنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اس غرض سے پرورش اور تربیت کرتے ہیں تا وہ مُرَبّی خود اس سے فائدہ اٹھائے۔ یعنی تربیت کرنے والا خود اُس سے فائدہ اٹھائے جس کی وہ تربیت کر رہا ہے۔ دوسرے وہ جو اس غرض سے پرورش کرتے ہیں تا وہ شخص جس کی پرورش کی جا رہی ہے وہ فائدہ حاصل کر سکے(ذاتی فائدہ نہ ہوبلکہ دوسرے کے فائدہ کے لئے) تو کہتے ہیں کہ مخلوقات میں سے سب کی تربیت و پرورش پہلی قسم کی ذیل میں آتی ہے کہ انسان اگر کسی کی پرورش کر رہا ہے تو اسلئے کر رہا ہے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔
سوال: خدا تعالیٰ کافیض تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر کیوں محیط ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا۔ یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔ پس اس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیااور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھیرایا۔
سوال: اللہ تعالیٰ نیک کام کرنے پر کس طرح نوازتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو پاک کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کرے اور پاکیزہ چیز ہی اللہ کی طرف جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے پھر اسے بڑھاتا جاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے (گھوڑے کے بچے) کی پرورش کرتا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کر کے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے ہم پر اتنے احسانات ہیں جن کو تم گن نہیں سکتے۔ہمیں شکر گزار بندے بنتے ہوئے، اس کے آگے جھکتے ہوئے اسی کی عبادت کرنی ہے۔ اس سے مانگنے کے لئے کسی اور ربّ کی تلاش نہ کرو۔ شیطان کے بہکاوے میں آکر اپنے ربّ کے حکموں کی نافرمانی نہ کرو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ وہی ایک معبود ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ورنہ تم اگر کسی اور کو معبود سمجھ رہے ہو توپھر بھٹکتے پھرو گے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے ہماری بقا کے لئے کیا سامان مہیا کئے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:زمین و آسمان کی بے شمار مخلو ق تمہاری خدمت کے لئے لگائی۔ تمہیں خوبصورت شکل عطا کی، تمہیں رزق بخشا۔ یہ سب چیزیں، یہ سب باتیں تمہیں اس طرف توجہ دلاتی رہیں کہ تمہارا ایک ربّ ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے، اس کے آگے جھکے رہو گے تو انعامات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔ شکر گزار بندے بنو گے تو اور اضافہ ہو گا، اَور ملے گا، تمہاری جسمانی او ر روحانی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی۔
سوال: کس خدا پر ایمان لانا ہر ایک بندے پر فرض ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ ربّ العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا ربّ ہے اور تمام مکانوں کا ربّ ہے۔