اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-10

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ21؍مارچ 2025بطرز سوال وجواب

سوال: 23 مارچ جماعت احمدیہ میں کس نام سے جانا جاتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جماعت احمدیہ کی تاریخ میں 23 مارچ کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 23 مارچ 1889ء کو جماعت احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیعت کے آغاز سے جماعت کی بنیاد ڈالی تھی۔
سوال: اگر اسلام کی مخالفت نہ ہوتی تو کس کے آنے کی ضرورت نہیں ہوتی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اگر اسلام کی مخالفت نہ ہوتی تو پھر مسیح موعود کو آنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج سے ایک سو چھتیس سال پہلے جب آپ نے دعویٰ کیا اس وقت سے لے کر آج تک اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔
سوال: جماعت احمدیہ پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکو خاتم النبیین نہیں مانتے اسکے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوت یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت ﷺکو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں…ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت ﷺکو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔
سوال: جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لی اس وقت اسلام کی کیا حالت تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیعت لی اس وقت اسلام کی جو حالت تھی اس پر آپ کا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ بڑا درد تھا آپ کے دل میں۔ اسلام پر تابڑ توڑ حملے غیر مذاہب کی طرف سے ہو رہے تھے خاص طور پر عیسائیت کی طرف سے لیکن ان کا کوئی جواب دینے والا نہیں تھا۔ مسلمان علماء بھی اس وقت سہمے رہتے تھے بلکہ یہ حالت ہو گئی تھی کہ بہت سے مسلمان اسلام چھوڑ کر لاکھوں کی تعداد میں عیسائیت کی گود میں گر رہے تھے۔ اس وقت جب مسلمانوں کی یہ حالت تھی اور اسلام پر اس طرح حملے ہو رہے تھے توحضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھڑے ہوئے اور اسلام کے دفاع کے لیے ایک جری اللہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا۔
سوال: کسوف و خسوف کے متعلق آنحضرت ﷺ نے کیا پیشگوئی بیان فرمائی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آسمانی نشانوں میں ایک نشان کسوف و خسوف کا آسمانی نشان تھا جس کے بارے میں آنحضرت ﷺنے فرمایا تھا کہ یہ میرے مہدی کی آمد کا خاص نشان ہے جو رمضان کے مہینے میں مقررہ تاریخوں پر لگنا تھا۔
سوال: آنحضرت ﷺکے عشق کا حال جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل میں تھا اس کے متعلق آپؑکیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدﷺ ہے۔(ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی تاثیرِ قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارِ افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہےوہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اِس کو دی گئی ہے۔
سوال: کس نازک دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: توحید حقیقی اور نبی کریم ﷺکی عفت، عزت اور حقانیت اور کتاب اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر ظلم اور زورکی راہ سے حملے کیے گئے ہیں توکیا خدا تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا نہیں ہونا چاہیے کہ ا س کاسرالصلیب کو نازل کرے؟کیا خداتعالیٰ اپنے وعدہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ کو بھول گیا؟ یقینا ًیادرکھو کہ خدا کے وعدے سچے ہیں۔اس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔ دنیا نے اس کوقبول نہ کیا مگرخدا تعالیٰ اس کو ضرورقبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں خداتعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہوکر آیا ہوں چاہو تو قبول کرو چاہو تو رد کرو مگر تمہارے رد کرنے سے کچھ نہ ہوگا۔ خداتعالیٰ نے جوارادہ فرمایا ہے وہ ہوکر رہے گا کیونکہ خداتعالیٰ نے پہلے سے براہین میں فرمادیا ہے صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے مقام کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:یاد رکھو کہ کتاب مجید کے بھیجنےاور آنحضرت ﷺکی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تا دنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوےجیسے فرمایا۔ وَ مَااَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ اور ایسا ہی قرآن مجید کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ یہ ایسی عظیم الشان اغراض ہیں کہ ان کی نظیر نہیں پائی جاسکتی۔
سوال: حضور انور نے پاکستان کے احمدیوں اور فلسطینی مسلمانوں کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ پاکستان کے احمدیوں کے حالات میں آسانیاں پیدا فرمائے۔ آجکل مخالفین پورا زور لگا رہے ہیں۔ ہر طرح تکلیفیں پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔کبھی مسجد کے مناروں کے نام پہ، کبھی محرابوں کے نام پہ ،کبھی نماز پڑھنے کی وجہ سے جو بھی بہانہ حیلہ ان کو ملتا ہے اس سے ان کا مقصد یہی ہے کہ احمدیوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی حفاظت کرے۔اسی طرح فلسطینی مسلمان جو ہیں ان پر دوبارہ ظلم کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی اس ظلم سے محفوظ رکھے۔ ان پر رحم فرمائے۔