سوال: غزوہ احد میں نبی کریم ﷺ نے تیر اندازوں کے دستے کو حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کی قیادت میں کیا ہدایت فرمائی تھی؟
جواب: آپ ﷺ نے تاکید فرمائی تھی کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، خواہ دیکھو کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں تب بھی نہ ہٹنا اور اگر دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں تب بھی ہماری مدد کو نہ آنا۔
سوال: غزوہ احد کے دوران مسلمان تیر اندازوں سے درّہ چھوٹنے پر کیا نتیجہ نکلا؟
جواب: جب درّہ چھوڑ کر لوگ مالِ غنیمت کی طرف آئے تو جنگ پلٹا کھا گئی، دشمن نے دوبارہ حملہ کر دیا اور ستّر مسلمان شہید ہو گئے۔
سوال:غروہ احد کے موقع پر ابو سفیان کے فتح کے نعرے ’’اُعلُ ھُبَل‘‘ کے جواب میں آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو کیا نعرہ سکھایا؟
جواب: جب شرک کا نعرہ مارا گیا تو آپ ﷺ نے بیتاب ہو کر صحابہ ؓ کو فرمایا کہ کہو:’’اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ‘‘ (اللہ سب سے بلند ہے اور سب سے بزرگ ہے)۔
سوال: غزوہ احد میں ابو سفیان کے اس نعرے پر کہ ’’ہمارے لیے عُزّیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عُزّیٰ نہیں‘‘، آپ ﷺ نے کیا جواب دلایا؟
جواب: آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ جواب میں کہو:’’اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں‘‘۔
سوال: حضرت عبیدہ بن الجراح ؓ کے دو دانت کس واقعے میں ٹوٹے تھے؟
جواب: غزوہ احد کے دن جب انہوں نے اپنے دانتوں سے نبی کریم ﷺ کے سر مبارک میں گھسی ہوئی کیل کو زور سے نکالا تو ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔
سوال: غزوہ احد کے نازک وقت میں آپ ﷺ کے ’’اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ‘‘ کے دلیرانہ جواب کا کفار کے لشکر پر کیا اثر ہوا؟
جواب: کفار پر اس کا اتنا گہرا اثر پڑا کہ مٹی بھر زخمی مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کرنے کی ان کی ہمت نہ ہوئی اور وہ مکہ واپس لوٹ گئے۔
سوال: ایک شخص نے آپ ﷺ سے کہا ’’جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں‘‘تو آپ ﷺ نے کیا تنبیہ فرمائی؟
جواب: آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر ٹھہرا دیا ہے؟ بلکہ یوں کہو کہ جو خداتعالیٰ اکیلا چاہے‘‘۔
سوال: آپ ﷺ نے اپنے مرصِ وفات میں یہود و نصاریٰ پر کس بات کی وجہ سے لعنت فرمائی؟
جواب: آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ لعنت کرے یہود اور نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں (عبادت گاہ) بنا لیا۔
سوال: مشرکین کے اس سوال پر کہ ’’اپنے ربّ کا نسب بتائیں‘‘، کون سی سورۃ نازل ہوئی؟
جواب: اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاخلاص نازل فرمائی: قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ... کہ اللہ ایک ہے اور بے نیاز ہے۔
سوال: غزوہ بدر کے لیے روانگی کے وقت حَرَّةُ الْوَبَرة کے مقام پر ایک بہادر شخص کے مدد کی پیشکش کرنے پر آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب: آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اس کے 'نہ' کہنے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔
سوال: آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق جنت اور جہنم کو واجب کرنے والی دو بنیادی باتیں کون سی ہیں؟
جواب: جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا وہ جنت میں جائے گا، اور جو شرک کی حالت میں مرا وہ آگ میں جائے گا۔
سوال: آپ ﷺ نے شرکِ اصغرکس چیز کو قرار دیا ہے اور اس کی کیا وجہ بیان فرمائی؟
جواب: آپ ﷺ نے 'ریاء' (دکھاوے) کو شرکِ اصغر قرار دیا کیونکہ یہ اعمال خدا کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
سوال: جب ایک دیہاتی نے اسلام کے احکام و قواعد کی زیادہ تعداد پر آسان نصائح کا پوچھا تو آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب: آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری زبان مسلسل یادِ الٰہی سے تر رہے‘‘۔
سوال: ایک روایت کے مطابق سب سے افضل ذکر اور سب سے افضل دعا کون سی ہے؟
جواب: آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے افضل ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ہے اور سب سے افضل دعا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ہے۔
سوال: آپ ﷺ کو وادیِ بطحا (مکہ) کو سونے کا بنانے کی پیشکش کی گئی تو آپ ﷺ نے خدا سے کیا التجا کی؟
جواب: آپ ﷺ نے عرض کیا کہ میں ایک دن پیٹ بھر کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں تاکہ بھوک میں آہ و زاری کروں اور سیر ہو کر تیرا شکر ادا کروں۔
سوال: بستر پر لیٹتے وقت آپ ﷺ نے حضرت براء بن عازب ؓ کو کون سا مسنون طریقہ اور دعا سکھائی؟
جواب: آپ ﷺ نے وضو کر کے دائیں کروٹ لیٹنے اور یہ اقرار کرنے کا حکم دیا کہ "اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا اور تیرے اترے ہوئے احکام و نبی پر ایمان لایا"۔
سوال: صحابہ کے پوچھنے پر کہ "سونے چاندی کے خرچ اور جہاد میں گردنیں مارنے سے بھی افضل عمل کون سا ہے؟" آپ ﷺ نے کیا جواب دیا؟
جواب: آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عمل "اللہ کا ذکر" ہے جو تمام جہادوں سے بڑھ کر اور عذاب سے نجات دلانے والا ہے۔
سوال: زندگی کے آخری لمحے میں افاقہ ہونے پر آپ ﷺ کی زبان مبارک پر کیا الفاظ تھے؟
جواب: آپ ﷺ نے چھت کی طرف نظر بلند کر کے فرمایا: "اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی" (اے اللہ!رفیقِ اعلیٰ)۔