اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-06

خطبہ جمعہ فرمودہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍ ستمبر 2007ء بطر زسوال و جواب

سوال: خطبہ کی ابتدائی آیت (البقرۃ: 187) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قبولیتِ دعا کے حوالے سے کیا یقین دہانی فرمائی ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں اور دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ اس لیے چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پا سکیں۔
سوال: رمضان المبارک کے مہینے کی خاص روحانی اہمیت اور مقصد کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مہینہ ہماری روحانی اور اخلاقی حالتوں کو سدھارنے، اپنی رضا کے حصول کی کوشش کرنے، بخشش کے سامان مہیا فرمانے اور ہماری دعاؤں کی قبولیت کے لیے خاص طور پر مقرر فرمایا ہے۔
سوال: جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے پاس آ کر کس شخص کے بارے میں ہلاکت کی بات کہی؟
جواب: ایک حدیث کے مطابق جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے پاس آ کر فرمایا کہ ہلاک ہوا وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن پھر بھی اس کی بخشش نہ ہو سکی۔
سوال: رمضان المبارک کی راتوں میں قیام (عبادت)کرنے کا کیا ثواب اور فائدہ بیان کیا گیا ہے؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
سوال: حدیث میں بیان کردہ رمضان المبارک کے تینوں عشروں کی کیا تفصیل ہے؟
جواب: حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے، درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے اور آخری عشرہ جہنم سے نجات دلانے والا
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےآیت وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِيکےماتحت مومنوں اور غیروں میں کیا فرق بیان فرمایا ہے؟
جواب: آپؑ نے فرمایا کہ مؤمنوں اور غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دُور ہیں۔ جب کوئی دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو میں اس کا ہم کلام ہو کر اس کی دعا کو پایۂ قبولیت میں جگہ دیتا ہوں۔
سوال: قبولیتِ دعا کے لیے جامع الصفات خدا کی ذات پر پختہ یقین کی کیا شرط ہے؟
جواب: پہلی شرط یہ ہے کہ انسان کا اس ذات پر پختہ یقین ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے جو تمام جہانوں کا ربّ اور ہر چیز کا مالک ہے، وہ صفات کا جامع ہے اور نہ کسی کا بیٹا ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔
سوال: انسان خداتعالیٰ سے ہم کلامی اور قرب کا مقام کس طرح حاصل کر سکتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "پس چاہیے کہ اپنے تئیں ایسے بناویں کہ میں ان سے ہمکلام ہو سکوں"، اور یہ مقام خدا کی ذات پر ایمان کامل کرنے، تقویٰ پیدا کرنے اور اپنے آپ کو پاک کرنے سے ہی ملتا ہے۔
سوال: دورِ حاضر میں خداتعالیٰ تک رسائی اور قبولیتِ دعا کے لیے آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان کیوں ضروری ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ سے تعلق اب اسی کا ہوگا جو آنحضرت ﷺ پر کامل ایمان لائے اور آپ ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق بھیجے گئے غلامِ صادق حضرت مسیح موعودؑ کو مان کر دعائیں کرے گا، وہی قبولیتِ دعا کے نظارے مشاہدہ کرے گا۔
سوال: گناہوں سے سچی توبہ کرنے کا انسان کے دل اور زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟
جواب: جب انسان سچے دل سے توبہ کا اقرار کرتا ہے کہ وہ تمام گناہوں سے بچے گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھے گا، تو خدا تعالیٰ اپنے وعدے پورے کرتا ہے اور اسی وقت سے بندے کے دل میں ایک نور کی تجلی شروع ہو جاتی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک سب سے اوّل اور ضروری دعا کون سی ہے؟
جواب: آپؑ کے نزدیک سب سے ضروری دعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کرنے کی دعا کرے۔ جب یہ دعا قبول ہو کر انسان مطہّر ہو جاتا ہے تو اس کی دوسری ضروری حاجات بغیر مانگے خود بخود قبول ہوتی چلی جاتی ہیں۔
سوال: دعا کی قبولیت میں صبر اور استقلال کی کیا اہمیت ہے اور اس سلسلے میں حضرت یعقوبؑ کی کیا مثال ہے؟
جواب: بغیر صبر کے دعا سے فیض نہیں اٹھایا جا سکتا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے چالیس برس تک استقلال سے دعائیں کیں اور بالآخر ان کے صبر اور مسلسل دعاؤں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کھینچ کر واپس لا کھڑا کیا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعاؤں میں تضرع اور زاری کو کس تمثیل کے ذریعے واضح فرمایا ہے؟
جواب: آپؑ نے شیرخوار بچے کی مثال دی کہ وہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اس کی چیخیں اور آہ و بکا ماں کے دودھ کو جوش میں لا کر جذب کر لیتی ہیں، اسی طرح ہماری اضطراری چلاہٹ خدا کے فضل و رحم کو جوش میں لاتی ہے۔
سوال: لفظ’’رمضان‘‘ کے لغوی معنی کیا ہیں اور اس میں کون سی دو تپشیں شامل ہیں؟
جواب: رمضان ’’رمض‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی سورج کی تپش کے ہیں۔ اس میں دو تپشیں ہیں: ایک کھانا پینا اور جسمانی لذتوں کو چھوڑنا، اور دوسری اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لانے کے لیے اندر ایک جوش پیدا ہونا۔
سوال: خطبے کے آخر میں حضور انور نے کراچی میں شہید ہونے والے کن دو ڈاکٹر صاحبان کا ذکر فرمایا؟
جواب: حضور انور نے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب (سابق واقفِ زندگی ڈاکٹر افریقہ) اور پروفیسر ڈاکٹر شیخ مبشر احمد صاحب کی کراچی میں ہونے والی مظلومانہ شہادت کا ذکر فرمایا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا فرمائی۔