سوال: مفردات کے حوالے سے رب کے کیا معنی بیان ہوئے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مفردات کے حوالے سے یہ درج ہے کہ ربّ کے معنی کسی چیز کو پیدا کرکے تدریجی طورپر کمال تک پہنچانے کے ہیں۔ عربی زبان میں بعض دفعہ ربّ کا لفظ انسان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر انسان کی طرف منسوب ہو تو صرف تربیت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں یہ لفظ ماں باپ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور یہ دعا سکھائی گئی ہے۔ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا اے میرے ربّ ان پر رحم فرما کیونکہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی، میری تربیت کی۔
سوال: اقرب لغت کی کتاب میں رب کے کیا معنی بیان ہوئے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اقربؔ جو لغت کی ایک کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ ربّ کے معنی مالک کے بھی ہوتے ہیں، سردار اور مُطاع کے بھی ہوتے ہیں اور ربّ کے معنی مُصلح کے بھی ہوتے ہیں۔ بحرمُحیط میں ہے کہ ربّ کے معنے خالق کے بھی ہیں۔ مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ ربّ کا لفظ بغیر اضافت کے صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اور اضافت کے ساتھ اللہ اور غیر اللہ دونوں کے ساتھ آتا ہے۔ مثلاً رَبُّکُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَ وَّلِیْن یہاں ربّ کے لفظ کے ساتھ جو کُمْ کا لفظ لگایا گیا ہے یا اٰبَآءِ کُمْ کا لفظ لگایا گیا
ہے یعنی تمہارا رب یا تمہارے باپ دادا کا ربّ، یہ اضافت ہے، زائد چیز آگے بیان کی گئی ہے۔ پس جب اللہ کے علاوہ ربّ کا لفظ کسی کے ساتھ لگتا ہے تو جیسا کہ بتایا اس میں صرف اضافت کے ساتھ لگ سکتا ہے۔ مثلاً رَبُّ الدَّار گھر کا مالک یا رَبُّ الْفَرَسِگھوڑے کا مالک۔ خالی ربّ کا لفظ جہاں بھی استعمال ہو گاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہو گا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ربّ کی کیا تشریح فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتابیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں ربّ کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔ مَالِک، سَیِّد، مُدَبِّر، مُرَبِّی، قَیِّم، مُنْعِم، مُتَمِّم۔ چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنے خداتعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضۂ تامہ ہو‘‘ یعنی و ہ مالک ہے کہ جو اس کے ماتحت ہے، جو اس کی ملکیت میں ہے اس پر اس کا مکمل قبضہ ہو’’اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہواور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خداتعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پا سکتا کیونکہ قبضہ تامہ اور تصرف تام اور حقوق تامہ بجز خداتعالیٰ کے اور کسی کے لئے مُسلَّم نہیں ۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ربّ العالمین کی جو وضاحت فرمائی ہے اسکا کیا خلاصہ حضور انور نے پیش کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: پہلی بات تو یہ کہ اس جہان کا خالق تمام نقصوں سے پاک ہے اور تمام خوبیاں اس کے اندر جمع ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ہر چیز کی کُنہ اور حقیقت سے واقف ہے۔ گزری ہوئی، موجودہ اور آئندہ آنے والی ہر چیز کی حقیقت اس پر واضح ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کامل حمد کامالک ہے۔ اور کامل حمد کا مالک ہو کر ہی ربّ العالمین کہلا سکتا ہے، اس کے بغیرنہیں۔ چوتھی بات یہ بیان کی کہ انسان کے اندر جو بھی خصوصیات ہیں، لیاقت ہے، جسمانی یا روحانی ترقیات ہیں، یہ سب اس ربّ العالمین کے انعامات ہیں۔پانچویں بات یہ بیان کی کہ حمد کو ربوبیت اور عالمین سے جوڑ کر یہ بتایا کہ انسان کو حقیقی خوشی اس وقت ہونی چاہئے جب اللہ تعالیٰ کی صفت ربّ العالمین ظاہر ہو اور اس کو ظاہر کرنے کے لئے اس کی خواہش اور کوشش یہ ہو گی کہ صرف اپنے فائدے پرہی خوش نہ ہوتا رہے بلکہ دنیا کے نقصان پر نظر رکھے اور ہر ایک کو آرام پہنچانے کی کوشش ہو۔چٹھی بات یہ بیان کی کہ اللہ تعالیٰ ربّ العالمین ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک کی ربوبیت قابل غور ہے اور ارتقاء کے قانون کے ماتحت ہے۔ اور ساتویں بات یہ ہے کہ ربّ کے معنے کسی چیز کو مختلف وقتوں اور مختلف درجوں میں ترقی دے کر کمال تک پہنچانا ہیں۔ اس لئے ارتقاء بھی مختلف درجوں اور وقتوں میں حاصل ہوتا ہے۔آٹھویں بات یہ ہے کہ ارتقاء اللہ تعالیٰ کے وجود کے منافی نہیں ہے بلکہ اس ترقی کی طرف قدم سے وہ قابل تعریف اور حمد کا مستحق ٹھہرتا ہے اور مومن ہر ترقی پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھتا ہے۔ نویں بات یہ کہ انسان لامتناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیاہے، اس کا قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہئے۔ علم میں آگے بڑھو، نیکیوں میں آگے بڑھو، عبادتوں میں آگے بڑھو اور پھر ربّ العالمین کا شکر ادا کرو کہ اس نے اپنی ربوبیت کے تحت ہمیں یہ مواقع عطا فرمائے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ اسلام کیونکہ ربّ العالمین کی صفت کا کامل مظہرہے اور سب دنیا کی طرف آیاہے، پہلے مذاہب کی طرح صرف ان خاص قوموں کی طرف نہیں آیا جن میں وہ نبی مبعوث ہوئے تھے، لہذا اسلام کے آنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی کا مل حمد شروع ہوگئی ہے۔
سوال: لفظ اَلسَّیِّدکی حضور انور نے کیا تشریح فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سیّد کا لفظ عزت اور شرف کے معنوں میں بطور لقب کے استعمال ہوتا ہے اور ہر نوع میں سے اعلیٰ اور افضل شیٔ کو سیّد کہا جاتا ہے مثلاً اَلْقُرْآنُ سَیِّدُ الْکَلَام یعنی قرآن سب کلاموں کا سردار ہے۔ پس سیّد کا مطلب یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ اور افضل اور معزز جس کی اطاعت لازم ہو۔
سوال: حضور انور نے اَلْمُدَبِّر کی کیا تشریح بیان فرمائی ہے ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:پھر ربّ کے معنوں میں اَلْمُدَبِّرْ کا لفظ ہے۔ لغت میں دَبَرَ کا مطلب ہے کہ کسی کے بعد یا پیچھے آیا دَبَّرَ الْا َمْرَکا مطلب ہے کہ کسی چیز کی عاقبت اور نتیجے کے بارے میں سوچا اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کسی کام کو ایسے طور پر چلایا کہ وہ صحیح نتیجہ پیدا کرے۔ پس اَلْمُدَبِّر کا مطلب ہے کہ ہر کام کے آخری نتیجہ پر نظر رکھنے والا اور اس کو ایسے طریق پر چلانے والا کہ اس کا صحیح نتیجہ نکلے۔
سوال: حضور انور نے قَیِّم کے کیا معنی بیان فرمائے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: قَیِّم کے معنی کسی چیز کی نگرانی اور درست کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اَلْقَیِّم ہونے کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کے کام بناتا، ان کو سہارا دیتا اور صحیح راستے پر قائم رکھتا ہے۔
سوال:حضور انور نےاَلْمُنْعِم کے کیا معنی بیان فرمائے؟
جواب: حضور انور نےایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:لغت میں نَعَمَ کا مطلب ہے کوئی چیز نرم و نازک ہو گئی۔ اسی سے نعمت ہے جس کا مطلب ہے اچھی اور خوشحالی کی حالت۔ انعام کا مطلب ہے کسی کو بھلائی اور خیر پہنچانا، کسی پر احسان کرنا۔ پس اَلْمُنْعِم کا مطلب ہوا وہ ذات جو بھلائی اور خیر اور خوشحالی سے نوازے اور دوسرے سے احسان کرے۔