اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-03

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ14؍مارچ 2025 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ البقرہ آیت نمبر 186 کی تلاوت فرمائی: شَہرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَ الْفُرْقَانِ۔(البقرہ :186) یہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لیے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشان کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔
سوال : قرآن کریم کی مثال کس طرح کی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہےپھر آگے چل کر ایک اَور قسم کا چنتا ہے۔
سوال : قرآن کریم کی اہمیت اور نسبت کس کے ساتھ ہے؟
جواب : حضور انور نے فرمایا:قرآن کریم کی اہمیت اور نسبت رمضان کے ساتھ بہت زیادہ ہے۔
سوال : قرآن مجید کے ساتھ بچوں کو کس طرح لگائو پیدا ہوگا؟
جواب : حضور انور نے فرمایا : بچوں کی آمین کے لیے لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک فرض تو انہوں نے پورا کر دیا کہ بچوں کو قرآن کریم پڑھا دیا۔ اب اس قرآن کریم کو پڑھنے کا مستقل شوق پیدا کروانا بھی ان کا کام ہے اور وہ تبھی ہو سکتا ہے جب خود ماں باپ بھی اس طرف توجہ دیں۔ وہ خود بھی قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرنے والے ہوں تا کہ بچے دیکھیں کہ ہمارے ماں باپ تلاوت کر رہے ہیں۔
سوال: ہمیں جو کچھ بھی حاصل ہونا ہے وہ کس سے حاصل ہونا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں جو کچھ ملنا ہے قرآن کریم کی برکت سے ملنا ہے اور ہمیں اس طرف بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
سوال:ہمیں کامیابیاں کب حاحل ہونگی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: کامیابیاں ہمیں تب ملیں گی جب ہم قرآن مجیدکی تعلیم پر عمل کریں گے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کریں گے۔
سوال:اس شخص کی زندگی کیسی ہے جو نہ قرآن پڑھتا ہے نہ اس پر عمل کرتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے نہ اس پر عمل کرتا ہے تو اس کی زندگی تو پھر منافقت کی انتہا کی زندگی ہے۔ اس کا صرف زبانی دعویٰ ہے کہ میں مسلمان ہوں لیکن اسلام کی تعلیم پر کوئی عمل نہیں کیونکہ اسلام کی تعلیم پر عمل قرآن کریم کا علم حاصل کیے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن کریم کے احکامات پر غور کیے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔
سوال: قرآن مجید کو کس طرح پڑھنا چاہئے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: انسان کو چاہیے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔ جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے۔ اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے۔ اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے۔ اور ان بداعمالیوں سے بچے جس کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔
سوال: قرآن مجید کے فیوض اور برکات کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: اس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اسی طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت ﷺکے وقت تھا۔
سوال: کیا قرآن مجید ایک مشکل کتاب ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں، یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم بہت مشکل کتاب ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا۔ پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟
سوال: قرآن مجید کو چھوڑنے کے نتیجہ میں کیا ہوگا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔ صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا ﷺ کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کیے تھے پورے ہو گئے۔ ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺکی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جو صدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا۔
سوال: جو قرآن مجید پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کس طرح کی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ جو مومن قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال ایک ایسے پھل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی اچھا اور خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کریم نہیں پڑھتا مگر اس پر عمل کرتا ہے۔ اِدھر اُدھر سے باتیں سن لیں ان پر عمل کر لیا۔ اس کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو اچھا ہے مگر اس کی خوشبو کوئی نہیں۔ اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اس خوشبو دار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے مگر مزہ کڑوا ہے۔ اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایسے کڑوے پھل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہے اور جس کی خوشبو بھی کڑوی ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کامیاب لوگوں کی کیا پہچان بتائی ہے؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے مطابق چلتے ہیں۔
سوال: قرآن مجید کو ظاہری طور پر اور خفیہ طور پر پڑھنے والوں کی کیا مثال ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ قرآن کریم کو ظاہر کر کے پڑھنے والا ظاہری طور پر صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور قرآن کریم کو چھپا کر پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔
سوال: خدا تعالیٰ کے اہل کون ہوتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ لوگوں میں سے کچھ لوگ اہل اللہ ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں اس بات پر ہم نے آپؐسے دریافت کیا کہ یار سول اللہ! خدا کے اہل کون ہوتے ہیں؟ آنحضور ﷺنے فرمایا قرآن والے اہل اللہ اور اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں یعنی قرآن کریم پڑھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے اہل اللہ ہوتے ہیں۔