اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-06-05

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ03؍نومبر 2006 بطرز سوال وجواب

سوال:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 273 کی تلاوت فرمائی:لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِکُمْ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ اللّٰہِ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۔
سوال: ہم خدا تعالیٰ کا قرب کس طرح پاسکتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اگر صالحین میں شمار ہونا ہے تو پھر کوشش کرکے ہی نیکیوں میں آگے بڑھنا ہو گا تبھی تم یہ مرتبہ پا سکتے ہو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گے تو ان قربانیوں اور نیکیوں سے ہی اللہ کے فضل سے اللہ کا قرب پاؤ گے۔ یہ مالی اور جان کی قربانیاں تمہاری فلاح کا ذریعہ بنیں گی۔ ہمیشگی کی زندگی تمہیں ان قربانیوں سے ہی حاصل ہو گی۔
سوال:حضور انور نے آیت وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ
خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِکُمْ کی کیا تشریح فرمائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِکُمْ یعنی جو کچھ بھی تم اپنے اچھے مال میں سے خرچ کرتے ہو وہ تمہیں فائدہ دے گا، وہ تمہارے فائدہ کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خیر کا لفظ استعمال کرکے ہمیں یہ توجہ دلا دی ہے کہ تم جومالی قربانیاں کرو، ایک تو یہ کہ محنت سے اور جائز ذرائع سے کمائے ہوئے مال میں سے کرو، یہ نہیں کہ شراب کی دکانوں پر کام کرکے یا سؤر بیچنے والی دکانوں پر کام کرکے یا پھر کوئی ایسا کام کرکے جو غیر قانونی ہو، پیسہ کما کر اس پر چندہ دے دو یا جس طرح ناجائز منافع خور کرتے ہیں کہ ناجائز پیسہ کما کر تھوڑی سی رقم غریبوں پر خرچ کر دی یا حج کر لیا اور سمجھ لیا کہ پیسہ پاک ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ایسا پیسہ نہیں چاہئے۔ اللہ کی راہ میں جو تم خرچ کرو اس میں خیر ہونی چاہئے۔ وہ جائز ہونا چاہئے اور پھرتم جو یہ جائز پیسہ کما رہے ہو اس پر چندہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق ہی دو، یہ نہیں کہ آمد تو لاکھ روپے ہے اور چندہ دس روپے دے دیا اور سمجھ لیا کہ میں نے قربانی کا حق ادا کر دیا۔
سوال: اللہ تعالیٰ کا احمدیوں پر کون سا بڑا احسان ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا احمدیوں پر بڑا احسان ہے کہ ہر احمدی مالی قربانی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے اور اس کا نیک ذرائع سے ہی کمایا ہوا مال ہوتا ہے۔ بعض دفعہ بعض لوگ غلط فہمی میں بعض کام کر جاتے ہیں لیکن عموماً نیک مال کی اور قربانی کی قبولیت کی تصدیق بھی فوری ہو جاتی ہے۔
سوال: کس طرح جماعت احمدیہ نے مای قربانیوں میں حصہ لیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپؐ کی قوت قدسیہ سے جو انقلاب آیا اور صحابہ ؓ نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے جان، مال کی جوقربانیاں کیں وہ ہمیں آپؐ کے غلام صادق کی جماعت میں بھی نظر آتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی جب ضرورت پڑی، کسی نے اپنے بیٹے کے کفن کی رقم چندے میں بھیج دی، کسی نے اپنی پس انداز کی ہوئی تمام رقم دینی ضروریات کے لئے چندہ میں دے دی، کسی نے اپنی تمام آمد اللہ تعالیٰ کے مسیح کے قدموں میں لا کر ڈال دی یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کہنا پڑا کہ بس آپ لوگ بہت قربانیاں کر چکے ہیں، کافی ہیں، مزید کی ضرورت نہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد خلفاء کی طرف سے جب بھی کوئی تحریک ہوئی افراد جماعت نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مالی قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔
سوال: سن 2006ء میں تحریک جدید کی کل وصولی کتنی ہوئی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:سن 2006ء میں تحریک جدید کی کل وصولی 35لاکھ پانچ ہزار پاؤنڈ ہوئی۔
سوال: کس طرح ہم دین کی ضروریات میں زیادہ سے زیادہ قربانی دی جا سکتی ہے؟
جواب: حضور انورنے فرمایا:آج جب مادیت کی دوڑ پہلے سے بہت زیادہ ہے اس طرف احمدیوں کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ سادگی اختیار کرکے ہی دین کی ضروریات کی خاطر قربانی دی جا سکتی ہے۔ بعض لوگوں کو بلا ضرورت گھروں میں بے تحاشا مہنگی سجاوٹیں کرنے کا شوق ہوتا ہے، سجاوٹ تو ہونی چاہئے، صفائی بھی ہونی چاہئے، خوبصورتی بھی ہونی چاہئے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سجاوٹ صرف مہنگی چیزوں سے ہی ہوتی ہے۔ تو بہت سارے ایسے بھی ہیں جو پیسے جوڑتے ہیں تاکہ سجانے کی فلاں مہنگی چیزخریدی جائے، بجائے اس کے کہ یہ پیسے جوڑیں کہ فلاں کام کے لئے چندہ دیا جائے۔ پھر شادیوں، بیاہوں پر فضول خرچیاں ہوتی ہیں۔ اگریہی رقم بچائی جا ئے تو بعض غریبوں کی شادیاں ہو سکتی ہیں، مساجد کی تعمیر میں دیا جا سکتا ہے، اور کاموں میں دیا جا سکتا ہے، مختلف تحریکات میں دیا جاسکتا ہے۔
سوال: سال 2006ء میں جو تحریک جدید کی بابرکت تحریک میںشامل ہوئے ان کی کتنی تعداد ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:چندہ تحریک جدید ادا کرنے والوں کی جو تعداد ہے، اس میں جو افراد شامل ہوئے ان کی تعداد 4لاکھ 82ہزار 460ہے، جو گزشتہ سال سے 40ہزار زیادہ ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جماعت احمدیہ سے کیا توقعات ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ ’’میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے۔ اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔ اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریّت کو نہایت ضرورت ہے۔ سو میں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیّبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر مَیں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم اور برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خداتعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں ‘‘۔
سوال:آج دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے ہر احمدی کا کیافرض ہے ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آج دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ دین کی اشاعت کے لئے اپنے پاک مالوں میں سے قربانی پیش کرنے کے لئے نہ صرف تیار رہیں بلکہ پہلے سے بڑھ کر پیش کریں۔ اور اس کے بدلے میں یقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اسی طرح وارث بنیں گے جس طرح وہ لوگ بنے جنہوں نے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔
سوال: اس سا ل چندہ تحریک جدید کی کتنی وصولی ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اس سال تحریک جدید کی کل وصولی 35لاکھ پانچ ہزار پاؤنڈ کی ہے۔