اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-06-05

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ28؍فروری 2025بطرز سوال وجواب

سوال:خیبر کی جنگ کے بعد یہود کی طرف سے نبی کریم ﷺکو قتل کرنے کی ایک سازش ہوئی تھی اور زہر آلود بکری کا گوشت کھلانے کی کوشش کی گئی تھی اسکے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک روز یہود خیبر کی فوج کے سپہ سالار سَلَّام بن مِشْکَمْ کی بیوی زینب بنت حارث نے آنحضرت ﷺکی خدمتِ اقدس میں بھنی ہوئی بکری کا گوشت پیش کیا اور کہا کہ آپ کے لیے ہدیہ لائی ہوں۔ آنحضرت ﷺنے صحابہ سے فرمایا کہ قریب آجاؤ۔ اس کے بعد آپؐنے اس میں سے دستی کا گوشت اٹھایا اور اس میں سے تھوڑا سا ٹکڑا لیا۔ دوسرے لوگوں نے بھی لیا۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا اپنے ہاتھ روک لو کیونکہ یہ دستی کا گوشت بتا رہا ہے کہ یہ زہر آلود ہے۔ حضرت بِشر بن براءؓ جو وہاں موجود تھے کہتے ہیں کہ قَسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐکو یہ عزت و سربلندی عطا فرمائی۔ جو لقمہ میں نے کھایا اس میں مجھے کچھ محسوس ہوا تھا مگر میں نے صرف اس لیے اس کو نہیں اُگلا کہ آپ ﷺکاکھانا خراب ہوگا۔ پھر جب آپؐنے لقمہ اگل دیا تو مجھے اپنے سے زیادہ آپؐکا خیال ہوا اور مجھے یہ خوشی ہوئی کہ آپؐنے اس کو نگلا نہیں۔ حضرتبِشرؓابھی اپنی جگہ سے اٹھے نہ تھے کہ ان کے جسم کی رنگت تبدیل ہونی شروع ہو گئی اور پھر اس قدر بیمار پڑ گئے کہ خود سے کروٹ بھی نہیں بدل سکتے تھے۔ یہاں تک کہ قریباً ایک سال کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔
سوال: کیا آنحضرت ﷺ کی وفات اس زہر کی وجہ سے ہوئی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:یہود نے تو اس لیے زہر دیا تھا کہ اگر یہ خدا کا سچا نبی ہوگا تو اس زہر سے بچ جائے گا اور آپ ﷺکے بچ جانے کی وجہ سے انہوں نے جان لیا کہ آپؐواقعی خدا کے سچے نبی ہیں اور ان کی نگاہ میں تو یہ ایک معجزہ قرار پایا لیکن بعض سادہ لوح ہیں کہ وہ اس زہر سے آپ ﷺکی وفات کو تسلیم کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺکی وفات ہرگز ہرگز اس زہر کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو صرف ایک تکلیف کا اظہار تھا اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بعض اوقات کوئی جسمانی تکلیف یا زخم یا بیماری کبھی کبھی کسی خاص موقع پر یا خاص موسم میں کسی سبب سے باہر آ جاتی ہے۔ اگر اس کی تفصیل میں جائیں تو یہ بھی ملتا ہے کہ زہر ملا ہوا یہ گوشت آپ ﷺ نے منہ میں ڈال دیا تھا لیکن نگلا نہیں تھا اور منہ میں جانے کی وجہ سے آپ کے حلق یا کوے پر زخم آگیا تھا اور کبھی کبھار کھانے کے دوران اس میں تکلیف محسوس فرماتے تھے اور اسی تکلیف کا اظہار آپ ﷺنے آخری بیماری میں فرمایا ہوگا۔
سوال: آنحضرتﷺ کی حضرت صفیہؓکے ساتھ شادی کی تفصیلات کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت صفیہؓ کے آنحضرت ﷺکے حصے میں آنے اور آنحضرت ﷺکے ساتھ شادی کی تفصیلات یوں بیان ہوئی ہیں کہ خیبر میں جب قیدیوں کو اکٹھا کیا گیا تو حضرت دِحْیَہ آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے ان قیدیوں میں سے ایک لڑکی دیجئے۔ فرمایا جاؤ ایک لڑکی لے لو۔ انہوں نے حُیَیّ بن اَخْطَبْ کی بیٹی صفیہ کو لے لیا۔ اس پر ایک شخص نبی ﷺکے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبیؐ! آپؐنے دِحْیَہ کوحُیَیّ کی بیٹی دے دی ہے جو بنی قریظہ اور بنو نضیر کی شہزادی ہے۔ وہ تو آپؐکے علاوہ کسی کے لیے مناسب نہیں۔ فرمایا اسے اس کے ساتھ بلا لاؤ۔ وہ ان کو لے آیا۔ جب نبی ﷺنے اسے دیکھا تو فرمایا ان قیدیوں میں سے اس کے سوا کوئی اور لڑکی تم لے لو۔ حضرت انسؓنے کہا کہ نبی ﷺنے حضرت صفیہ ؓکو آزاد کر دیا۔
آنحضرت ﷺنے حضرت صفیہؓ سے فرمایا کہ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔ چاہو تو مجھ سے شادی کر لو اور چاہو تو اپنے قبیلہ کی طرف واپس چلی جاؤ۔ دو choicesہیں۔ جس پر انہوں نے آزادی اور نبی کریم ﷺسے شادی کو پسند کیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق آپ ﷺنے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
سوال: حضرت صفیہؓ کی شادی پر مستشرقین تنقید کرتے ہیں اور اعتراضات کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ نے ان سے شادی عیش و عشرت کیلئے کی تھی اس حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکی جوانی اور گزرے ہوئے یہ ماہ و سال اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ آپ کو نعوذ باللہ شادیوں کی عیش و عشرت سے کوئی دور کا بھی واسطہ اور تعلق نہ تھا۔ بعد میں جو آپ نے شادیاں کیں اس کی ایک حکمت تھی کہ مخالف قوم اور قبیلے کے درمیان صلح و آشتی اور محبت و موَدَّت کا تعلق پیدا ہو اور اعتماد کی فضا پیدا ہو۔ جیسے بنو مصطلق کے سردار حارث کی بیٹی جویریہ سے، قریش کے ابوسفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے۔ آپ ﷺکی گزری ہوئی زندگی پر نظر ڈالی جائے جس کی طرف قرآن کریم بھی بڑے خوبصورت انداز میں توجہ دلاتا ہے کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُـرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس: 17) کہ پس میں اس رسالت سے پہلے بھی تمہارے درمیان ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں تو کیا تم عقل نہیں کرتے۔ نبی ﷺنے اپنی بھرپور جوانی کیسے گزاری اس قوم میں جہاں شراب اور شباب کی محفلیں نہ صرف عام تھیں بلکہ فخر کے اظہار کے طور پر اس کا ذکر کیا جاتا تھا۔ آپ نے اپنی ساری جوانی ایک بیوہ اور معزز اور شریف عورت کے ساتھ شادی کر کے گزاری اور کم و بیش پچاس سال کی عمر تک اسی ایک بیوی کے ساتھ زندگی بسر کی۔ خوبصورت سے خوبصورت عورت کی پیشکش خود سرداران قریش نے آپ کو کی تھی جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے لیکن آپ نے ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓایک مشہور مستشرق ولیم میور کے حضرت صفیہؓ کی شادی پر کئے گئے اعتراض کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓایک مشہور مستشرق ولیم میور کے حضرت صفیہؓ کی شادی پر اس طرح کے اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ’’ مسٹر میور(Muir) نے اعتراض کیا مگر وہ جانتا نہ تھا کہ ملک عرب میں دستور تھا کہ مفتوحہ ملک کے سردار کی بیٹی یابیوی سے ملک میں امن و امان قائم کرنے اور اس ملک کے مقتدر لوگوں سے محبت پیدا کرنے کے لیے شادیاں کیا کرتے تھے۔ تمام رعایا اور شاہی کنبہ والے مطمئن ہو جایا کرتے تھے کہ اب کوئی کھٹکا نہیں۔ چنانچہ خیبر کی فتح کے بعد تمام یہود نے وہیں رہنا پسند کیا۔
سوال: کیا اس یہودی عورت کے قتل کر دیا گیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک روایت کے مطابق جب حضرت بِشر بن براءؓ نے وفات پائی تو رسول اللہ ﷺنے حکم دیا کہ اس (یہودی)عورت کو قتل کر دو تو اسے قتل کر دیا گیا… لیکن غالب امکان یہی ہے کہ اس عورت کو معاف کر دیا گیا تھا جیسا کہ مسلم کی حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہ خیال تھا ۔