سوال: حضرت مسیح موعوعلیہ السلام نے نوافل کے متعلق کیا بان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے کہ نوافل سے مومن میرا مقرب ہو جاتا ہے۔ ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل۔ یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں تا کہ فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تو نوافل سے پوری ہو جاوے۔
لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں۔ نہیں یہ بات نہیں ہے۔ ہرفعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔ انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے۔ قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دےکیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔
نوافل مُتمِّم فرائض ہوتے ہیں۔ نفل کے وقت دل میں ایک خشوع اور خوف ہوتاہے کہ فرائض میں جو قصور ہواہے وہ پورا ہوجائے۔ یہی وہ راز ہے جو نوافل کو قرب الٰہی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے گویا خشوع اور تذلّل اور انقطاع کی حالت اس میں پیدا ہوتی ہے اور اسی لئے تقرب کی وجہ میں ایام بیض کے روزے، شوال کے چھ روزے یہ سب نوافل ہیں۔ پس یاد رکھو کہ خدا سے محبت تام نفل ہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فرماتاہے کہ پھر مَیں ایسے مقرب اور مومن بندوں کی نظر ہوجاتاہوں، یعنی جہاں میرامنشاء ہوتاہے وہیں ان کی نظر پڑتی ہے۔
سوال:جب رسول کریم ﷺجب کسی بستی میں داخل ہوتے تو کیا دعا کرتے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت صہیبؓسے مروی ہے، آنحضرت ﷺجب کسی بستی میں داخل ہوتے تو داخل ہونے سے پہلے اسے دیکھتے ہی یہ دعا کرتے۔ اے اللہ جو ساتوں آسمانوں اور جن پر یہ سایہ فگن ہیں ان کا ربّ ہے اور جو ساتوں زمینوں اور جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں ان کا ربّ ہے اور جو شیاطین ہیں اور جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں ان کا ربّ ہے اور جو ہواؤں اور جن اشیاء کو وہ بکھیرتی پھرتی ہیں ان کا ربّ ہے، ہم تجھ سے اس بستی اور اس کے باشندوں کی بھلائی کے طالب ہیں اور ہم اس بستی کے شر اور اس کے رہنے والوں کے شر، اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
سوال: جب رسول کریم ﷺ کو کوئی پریشانی ہوتی تو آپؐکون سی دعا کرتے ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺکو جب کوئی پریشانی ہوتی تھی تو یہ دعاکرتے تھے یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث۔ اے حی و قیوم خدا مَیں تیری رحمت کا طلبگار ہوں۔
سوال: شریر کی شرارت سے بچنے کی کون سی دعا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چند دعائیں ہیں۔ ایک دُعا تو آپ کو پڑھنے کی تلقین کی گئی اور آپ کو الہاماً سکھائی گئی۔ رَبِّ کُلُّ شَیْ ئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ۔ اے میرے خدا ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔ اے میرے خدا شریر کی شرارت سے مجھے نگہ رکھ اور میری مدد کر اور مجھ پر رحم کر۔
سوال: کن ممالک میں جماعت کی مخالفت زیادہ ہورتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جس ملک میں بھی مسلمانوں کی تعداد کچھ اچھی ہو اور وہ ملک ترقی یافتہ نہ ہو وہاں عموماً یہ دیکھا گیاہے کہ احمدیت کی مخالفت ضرور ہوتی ہے۔
سوال: جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے کا نام نہاد ملاں کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جہاں بھی احمدیت کا اثر قائم ہو رہا ہے وہاں ضرور مخالفت کی جائے اور ان کو اس کام کے لئے نام نہاد علماء یا مُلّاں مل جاتے ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف اپنا اثر قائم کرنا اور دنیا کی دولت کمانا ہوتا ہے۔
سوال: مخالفین اور مُلّاں کا ہم کیوں شکر ادا کرتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہم مخالفین اور مُلّاں کے شکرگزار بھی ہیں کہ وہ ہمارے راستے صاف کرتے رہتے ہیں، جن لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف نہیں ہوتی وہ بھی احمدیت کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ دیکھیں یہ کیا چیز ہے جس کے خلاف مُلّاں اتنا بھرا بیٹھا ہے اور ایک صاف دل انسان جب ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر احمدیت کو قریب سے دیکھتا ہے تو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا حُسن اسے جماعت احمدیہ میں ہی نظر آتا ہے اور اُس کیلئے اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ ایک خوشبو دار اور شیریں پھل کی طرح احمدیت کی آغوش میں گر پڑے۔
سوال: ابتلائوں کے وقت احمدیوں کو کیا نمونہ پیش کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ابتلاؤں سے احمدیوں کو گھبرانا نہیں چاہئے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺکی اتباع کی وجہ سے مسیح محمدی کی قوت قدسیہ دیکھیں کہ دنیا کے ہر کونے میں احمدی اپنی جان، مال اور وقت کی قربانی کیلئے ہروقت تیار کھڑا ہے۔ چاہے وہ ایشیا ہے یا امریکہ ہے یا افریقہ ہے، مشرق بعید ہے یا جزائر ہیں۔ ہر جگہ احمدیت کی خاطر قربانی دینے والے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور یہ نظارے ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس مخالفت کے بعد ہر جگہ پرجماعت احمدیہ نے ترقی کی ہے۔
سوال: حضور انور نے پاکستان کے احمدیوں کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: میں پاکستان کے احمدیوں کو کہتا ہوں کہ آجکل جو حالات ہیں ان میں دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ یہ جو مقدمے بن رہے ہیں، حکومت کی طرف سے ہمارے تربیتی رسائل الفضل وغیرہ پر آئے دن جو پابندیاں لگائی جاتی ہیں، حکومت کا ایک اہلکار اٹھتا ہے اور انتظامیہ پر دہشت گردی کی دفعہ لگا دیتا ہے اور اُن دہشت گردوں کو جو حقیقت میں دہشت گرد ہیں جو بغیر کسی وجہ کے روزانہ درجنوں جانیں لے لیتے ہیں، جو قانونی کارروائی کرنے والے کو شہید کر کے اس لئے بچ جاتے ہیں کہ مرنے والا احمدی تھا، جو کئی معصوم عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کر دیتے ہیں ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا کہ ان کے بڑے بڑے لیڈروں کے ساتھ تعلقات ہیں، یہ ان کے پروردہ ہیں۔ لیکن الفضل اخبار یا جماعت کا کوئی رسالہ جو جماعت کی تربیت کیلئے نکالا جاتا ہے ان کے پرنٹر پر، مینیجرپر، پبلشر پر اس لئے مقدمہ کر دیا جاتا ہے کہ اس رسالے میں یہ کیوں لکھا ہے کہ اللہ میرا ربّ ہے اور محمد رسول اللہ ﷺاس کے رسول اور مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مسیح اور مہدی ہیں۔ اگر یہ دہشت گردی ہے تو ہزار جان سے ہمیں یہ دہشت گردی منظور ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرنے کیلئے کون سی دعا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرنے کیلئے آج کل جو دعا پڑھنی چاہئے وہ یہ ہے۔ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے پس تو ہمیں بخش دے، ہم پر رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سے بہترین ہے۔