سوال: 20 فروری کی جماعت احمدیہ میں کیا اہمیت ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: 20؍فروری جماعت میں پیشگوئی مصلح موعودکے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اس دن یا ان دنوں میں آگے پیچھے جماعتوں میں پیشگوئی مصلح موعود کے جلسے بھی ہوتے ہیں۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک لمبی پیشگوئی ہے جس میں ایک بیٹے کی پیدائش اور اس کی خصوصیات کا ذکر ہے۔ 20؍فروری 1886ء کو اس کو اشتہار کی صورت میں شائع کیا گیا۔ اس پیشگوئی میں لڑکے کی خصوصیات کے بارے میں الہامی الفاظ کا ایک حصہ اس طرح سے ہے کہ ’’وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا‘‘ اور پھر ہے کہ ’’…علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔‘‘
سوال: حضرت مصلح موعود علیہ السلام کی دنیاو ی تعلیم اور دینی تعلیم میں کیا امتیاز تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:دنیاوی لحاظ سے تو آپ کی تعلیم شاید پرائمری تھی بلکہ یہ بھی نہیں تھی۔ ہاں سکول جاتے رہے لیکن امتحانوں میں حضرت مصلح موعودؓ نے خود لکھا ہے کہ کبھی پاس نہیں ہوتے تھے۔ دنیاوی مضمونوں میں بہت کمزور تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؓسے ایسے ایسے علمی اور دینی اور انتظامی کام کروائے ہیں کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی آپؓکے سامنے طفلِ مکتب لگتے ہیں، بالکل بچے لگتے ہیں اور آپؓکا باون سالہ دورِ خلافت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعودؓسے کیسے کام کروائے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعودؓسے ایسے ایسے علمی اور دینی اور انتظامی کام کروائے ہیں کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی آپؓکے سامنے طفلِ مکتب لگتے ہیں، بالکل بچے لگتے ہیں اور آپؓکا باون سالہ دورِ خلافت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوال: مسلمان نکبت و ادبار سےکس طرح بچ سکتے ہیں؟
جواب: حضرت مصلح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مسلمان اپنی غلطی سے تائب ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور خود اسلام کو سمجھیں اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہوں اور دوسروں کو آگاہ کریں تا کہ وہ نکبت و اِدبار جو اس وقت مسلمانوں پر آ رہا ہے وہ دُور ہو … اگر مذہب کی خاطر انہوں نے تبلیغ نہیں کی، اگر خدا کے حکم کے ماتحت انہوں نے اس بے نظیر تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیاتو اب اپنی حیات کے قیام کےلیے ہی کچھ کوشش کریں۔کیونکہ ان کی زندگی اور اسلام کی تبلیغ دونوں لازم و ملزوم ہو گئے ہیں ۔
سوال: کس طرق پر مخالف قوم کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعودؓ نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ باہمی تفرقہ اور اختلافات کو ترک کر دیں اور قومی مفاد کی خاطر اتفاق اور اتحاد سے کام کریں۔ صرف اسی طریق پر وہ مخالف قوم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
سوال: ’’آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر ‘‘پمفلٹ حضرت مصلح موعود ؓ نے کب تحریر فرمایا ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آپؓنے ’’آل مسلم پارٹیز
کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے ہدایات دیں۔ یہ پمفلٹ حضور نے آل انڈیا مسلم پارٹیز کانفرنس کے اجلاس میں پیش کرنے کےلیے 13؍جولائی 1925ء کو تحریر فرمایا۔
سوال: حضرت مصلح موعودؓ نے ’’آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر‘‘ میں مسلمانوں کے باہمی تنازعات کو ختم کر کے باہم اتحاد اور یگانگت کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مصلح موعودؓنے مسلمانوں کے باہمی تنازعات کو ختم کر کے باہم اتحاد اور یگانگت کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ پھر ایک دفعہ اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے میں اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ سب محنت رائیگاں اور سب تدبیریں عبث جائیں گی اگر اس امر کو اچھی طرح نہ سمجھ لیا گیا کہ ہم باوجود ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اغیار کی نظروں میں مسلمان ہیں اور ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان ہے۔ پس سیاسی میدان میں ہمیں مذہبی فتووں کو نظر انداز کر دینا چاہیے کیونکہ وہ ان کے دائرہ عمل سے خارج ہیں۔ اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی سیاسی ضروریات کےلیے ان لوگوں سے مل کر کام نہیں کر سکتے جن کو تم مسلمان نہیں سمجھتے۔ اگر رسول کریم ﷺمشرکوں کے مقابلہ میں یہود سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان کہلانے والے فرقے اسلام کی سیاسی برتری بلکہ کہو کہ سیاسی حفاظت کےلیے اس
میں مل کر کام نہ کر سکیں۔ اگر ہم اس موقع پر اتحاد نہ کر سکیں گے تو یقیناً اس سے یہ ثابت ہو گا کہ ہمارا اختلاف اسلام کےلیے نہیں بلکہ اپنی ذات کےلیے ہے، اپنے نفسوں کےلیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بدبختی سے محفوظ رکھے۔
سوال:’’ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض ‘‘کتاب کب تحریر فرمائی اور اس کتاب کو لکھنے کی کیا وجہ حضور انور نے بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؓنے’ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض‘کے نام پر ایک مشورہ دیا، اس پر تبصرہ کیا اور یہ 1919ء کی بات ہے یعنی آپؓکی خلافت کے ابتدائی دور کی۔ اس کا خلاصہ یا تعارف یہ ہے کہ اتحادِ ملت کے ہر موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کےلیے حضورؓنے ایسے وقت میں جبکہ ترکیہ حکومت خطرے میں تھی نہایت مدبّرانہ راہنمائی کرتے ہوئے 18؍ستمبر 1919ء کو یہ کتاب تحریر فرمائی۔
سوال:دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس بارے میں بھی آپؓنے لکھا۔عالمگیر امن کے بارے میںجو تقریریں ہوئی تھیں۔ خلاصۃًبیان کر دوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے عالمگیر امن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پرمعارف تقریر 9؍اکتوبر 1946ء کو بوقت شام ساڑھے پانچ بجے 8 پارک روڈ دہلی کے وسیع صحن میں ارشاد فرمائی۔ اس تقریر کو سننے کےلیے کئی سو غیر احمدی اور غیر مسلم معززین تشریف لائے اور انہوں نے نہایت توجہ اور سکون کے ساتھ حضور کی تقریر کو سنا۔ یہ تقریر پہلی دفعہ مورخہ 15؍اپریل 1961ء کو الفضل میں شائع
ہوئی…اس تقریر کے بارے میں اخبار ’’تیج‘‘ دہلی نے اپنی 14 اکتوبر 1946ء کی اشاعت میں حسب ذیل نوٹ شائع کیا: ’’احمدیوں کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ امن اور شانتی کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود انسان کیونکہ انسانی فطرت کے ساتھ اس کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ اگر اس کا قیام مطلوب ہے تو اس کےلیے جذبہ دشمنی و نفرت کو ختم کرنا پڑے گا۔ مسئلہ سیاسی نہیں ہے بلکہ اخلاقی ہے اور اگر ہم خدا کی خدائی سے باخبر ہوں اور روٹی کا پیار، لالچ وغیرہ کو چھوڑ دیں تو اس کے بعد ہم میں نفرت اور لالچ کے بجائے برادری اور محبت کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مذہبی دنیا کے اختلافات ختم ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ہم ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا سیکھیں۔ اور اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کریں۔ جس طرح مذہبی معاملات میں تحمل کی ضرورت ہے ٹھیک اسی طرح دنیا داری کے معاملات میں بھی اس کا ہونا لازمی ہے مسلمانوں اور ہندوؤں کے زمانے میں بھی یہ مسئلہ عیسائیوں کے ساتھ بھی کافی تھا۔ ہمیں قومیت و رنگ کے جھگڑوں کو ختم کر کے عالمگیر برادری کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔
سوال: حضرت مصلح موعود ؓ کی تصانف کے بارے میںغیر احمدی احباب کی رائے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون صاحب ایم ایل اے کراچی کہتے ہیں’’میری رائے میں سیاست کے باب میں جس قدر کتابیں ہندوستان میں لکھی گئی ہیں ان میں کتاب ’’ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل‘‘ بہترین تصانیف میں سے ہے۔‘‘
علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال لکھتے ہیں کہ’’تبصرہ کے چند مقامات کا میں نے مطالعہ کیا ہے نہایت عمدہ اور جامع ہے۔‘‘
اخبار انقلاب لاہور نے لکھا۔ ’’جناب مرزا صاحب نے اس تبصرہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔ یہ بڑی بڑی اسلامی جماعتوں کا کام تھا جو مرزا صاحب نے انجام دیا۔‘‘