اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-22

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ20؍اکتوبر 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ۔ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَاۨ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا وَ تَرَکُوْکَ قَآئِمًا ۔ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّہْوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ ۔وَ اللّٰہُ خَیْرُ الرّٰزِقِینَ۔ (الجمعۃ: 10تا 12)
سوال: اللہ تعالیٰ کی نظر میںرمضان میں خالص ہو کر گزرا ہوا ایک لمحہ بھی کیسا ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خالص ہو کر اس کی راہ میں گزرا ہوا ایک لمحہ بھی انسان کی کایا پلٹ سکتا ہے اور خداتعالیٰ اپنی طرف آنے والے کو ماں باپ سے بھی زیادہ بڑھ کر پیار کرتا ہے۔ وہ جب اپنے بندے کو اپنے ساتھ چمٹاتا ہے تو وہ بندہ وہ نہیں رہتا جو پہلے تھا۔ اس ایک سچے اور خالص لمحے کی دعا انسان کو برائیوں سے اتنا دور لے جاتی ہے، اس کی طبیعت میں اتنا فرق ڈال دیتی ہے جو مَشْرِقَیْن کا فرق ہے۔
سوال:حضور انور نے نماز جمعہ میں جلدی آنے کے متعلق تجارت اور کاروبار کرنے والوں کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:یاد رکھیں کہ جمعہ کی نماز پر جلدی آؤ اور اپنی تجارت، اپنے کاروبار اور اپنے کام چھوڑ دیا کرو اور ہمیشہ یاد رکھو کہ رزق دینے والی ذات خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے، بظاہر نقصان اٹھاتے ہوئے بھی جمعہ کے لئے آؤ گے تو خداتعالیٰ ایسے سامان پیدا فرمادے گا کہ جس نقصان سے تم ڈ ر رہے ہو وہ نہیں ہوگا اور اگر بالفرض
کہیں کوئی تھوڑی بہت کمی رہ بھی جاتی ہے تواللہ تعالیٰ اس وجہ سے تمہیں اور ذریعوں سے برکتوں سے بھر دے گا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔
سوال:نماز جمعہ کی اہمیت کے بارے میں حضور انور نے کون سی حدیث بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک حدیث میں آتا ہے،حضرت جابرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعہ کے دن جمعہ پڑھنا فرض کیا گیا ہے۔ سوائے مریض، مسافر، عورت، بچے اور غلام کے۔ جس شخص نے لہو و لعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لاپرواہی برتی اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہی کا سلوک کرے گا۔ یقینا اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد والا ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کی اہمیت کے بارے میں کیافرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جمعہ کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں، یہ ایک میموریل تھا جو جمعہ کی رخصت کی بدلی کے وقت وائسرائے کوبھیجا
گیا تھا۔ تو بہرحال اس میں جمعہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ روز جمعہ ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص کرکے اس دن کو تعطیل کا دن ٹھہرایا ہے اور اس بارے میں خاص ایک سورۃ قرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعہ ہے اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی بانگ دی جائے (اذان دی جائے) تو تم دنیا کا ہر ایک کام بند کر دو اور مسجدوں میں جمع ہو جاؤ۔ اور نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو اور جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ سخت گناہگار ہے۔ اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہو اور جس قدر جمعہ کی نماز اور خطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدر عید کی نماز کی بھی تاکید نہیں۔
سوال:آج کل کے حالات کے لحاظ سے حضور انور نے کون سی دعا بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک دعا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائی ہے وہ آج کل کے حالات کے لحاظ سے بھی بہت اہم ہے۔ کیونکہ آج کل جومعاشرے کا حال ہے، گندگیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ دعا ہے رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ کہ اے میرے رب اس فساد کرنے والی قوم کے خلاف میری مدد کر۔
سوال:سیدھے راستے پر چلنے کی کون س دعا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت زیادبن علاقہؓ اپنے چچا عتبہ بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺیہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ مُنْکَرَاتِ الْاَخْلَاقِ وَ الْاَعْمَالِ وَالْاَ ھْوَاءِکہ اے میرے اللہ میں بُرے اخلاق اور بُرے اعمال اور بُری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
سوال:بخشش اور مغفرت کے لئے کیادعا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺیہ دعا کیا کرتے تھے کہ رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ وَ جَہْلِیْ وَاِسْرَافِیْ فِیْ اَمْرِیْ کُلِّہٖ وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَعَمَدِیْ وَجَہْلِیْ وَ جِدِّیْ وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَ مَااَعْلَنْتُ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُوَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ کہ اے میرے رب! میری خطائیں، میری جہالتیں، میری تمام معاملات میں زیادتیاں جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے مجھے بخش دے۔ اے میرے اللہ! مجھے میری خطائیں، میری عمداً کی گئی غلطیاں، جہالت اور سنجیدگی سے ہونے والی میری غلطیاں مجھے معاف فرما دے اور یہ سب میری طرف سے ہوئی ہیں۔ اے اللہ! مجھے میرے وہ گناہ بخش دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو مجھ سے بعد میں سرزد ہوئے ہیں اور جو میں چھپ کے کر چکا ہوں اور جو میں اعلانیہ کر چکا ہوں۔ مقدم ومؤخر تو ہی ہے اور تو ہر ایک چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ پس اللہ ہی ہے جو ہمیں معاف رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔
سوال:دنیا و آخرت کی آفتوں سے بچنے کی کون سی دعا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: خداتعالیٰ سے دعاکرو کہ ہم تیرے گناہگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے۔ تو ہم کو معاف کر اور دنیا اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت کو دعائوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دعا بہت کرتے رہو اور عاجزی کو اپنی خصلت بناؤ۔ جو صرف رسم اور عادت کے طور پر زبان سے دعا کی جاتی ہے کچھ بھی چیز نہیں۔ جب دعا کرو تو بجز صلوٰۃ فرض کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جاؤاور اپنی زبان میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ ہوتاہے خداتعالیٰ کے حضور میں دعا کرو اے رب العالمین !تیرے احسان کا میں شکر نہیں کر سکتا۔ تو نہایت رحیم و کریم ہے اور تیرے بے انتہا مجھ پر احسان ہیں۔ میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔ میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو۔ اور میری پردہ پوشی فرما۔ اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جاوے۔ میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔ رحم فرما اور دنیا و آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ آمین ثم آمین۔
سوال: انسان کبائر گناہ سے کس طرح بچ سکتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر انسان کبائر گناہ سے بچے تو پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور رمضان سے اگلا رمضان ان دونوں کے درمیان ہونے والی لغزشوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔