اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-22

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ14؍فروری 2025بطرز سوال وجواب

سوال:کیا آنحضرتﷺ نے جنگ میں ظلم و تشدد کا مظاہرہ کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکی زندگی تو سب کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح تھی جو جنگ شروع کرنے سے پہلے سب کو حکم دیتے ہیں کہ خبردار! کسی بچے کو قتل نہ کرنا کسی عورت کو قتل نہ کرنا یہاں تک کہ درختوں کو بھی بے سبب نہ کاٹا جائے۔ جو جانوروں کو بھی کسی تکلیف میں دیکھنا پسند نہیں کرتے وہ انسانوں پر کیسے ظلم و تشدد کر سکتے ہیں۔
سوال:آنحضرتﷺ کا قلعہ کی طرف مٹھی کنکریوں کی پھینکنے کا کون سا واقعہ حضور انور نے پیش کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺتیر لگنے سے زخمی ہو گئے اور تیر لگنے سے آپؐکے کپڑے پھٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺنے تیر نکالا پھر آپؐنے ایک مٹھی کنکریوں کی لی اور اس قلعہ کی طرف پھینک دی جس سے ان کا قلعہ لرزنے لگا یہاں تک کہ مسلمانوں نے یہود کو پکڑ لیا پھر قبضہ ہو گیا۔
سوال: کِنانہ بن ربیع کے قتل کا سبب کون تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کِنانہ بن ربیع قتل ہوا لیکن اس کے قتل کا سبب ایک مسلمان سپہ سالار کا قتل تھا جس کے قصاص میں وہ خود قتل ہوا پس یہ ہے اصل حقیقت۔
سوال: خیبر کا دوسرا قلعہ کیا کہلاتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یہ دوسرا قلعہ، قلعہ صعب بن معاذ کہلاتا ہے۔
سوال : اس قلعے کی خاصیت باقی قلعوں سے کیا تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس قلعہ میں خیبر کے باقی تمام قلعوں سے زیادہ کھانا، جانور اور سازو سامان تھا اور اس میں پانچ سو جنگجو رہتے تھے۔
سوال:کتنے روز صعب بن معاذ کے قلعہ کا محاصرہ ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت کعب بن عمر ؓسے روایت ہے کہ انہوں نے تین روز تک صعب بن معاذ کے قلعہ کا محاصرہ رکھا۔
سوال: اس دوران بنو اسلم کو خیبر میں کس قدر بھوک کا سامنا کرنا پڑا ؟
جواب: حضرت مُعَتِّب اسلمیؓسے روایت ہے کہ بنو اسلم کو خیبر میں سخت بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بنو اسلم نے اتفاق کیا کہ حضرت اسماء بن حارثہ ؓکو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجیں۔ بنو اسلم نے حضرت اسماء بن حارثہؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺکو ہمارا سلام پیش کرنا اور عرض کرنا کہ ہمیں بھوک اور کمزوری نے آ لیا ہے۔ بہت برا حال ہے۔ حضرت اسماءؓ نے آپؐکو بنو اسلم کا سلام پیش کیا۔ عرض کی کہ ہمیں بھوک اور کمزوری نے سخت پریشان کر رکھا ہے۔ پس آپ ﷺاللہ سے ہمارے لیے دعا کریں۔ آپؐنے دعا کی پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے جس سے میں آپ لوگوں کو تقویت بخشوں۔ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ میں ان کا حال سمجھتا ہوں جو اس وقت بھوک سے نڈھال ہیں۔ پھر یہ دعا کی کہ اے اللہ!وہ قلعہ ان کے لیے فتح کر دے جو کھانے اور چربی سے بھرا پڑا ہے۔ پھر آپ نے جنگ کے لیے جھنڈا حُباب بن منذرؓکے حوالے کیا۔
سوال:یہود میں سے کون سا شخص مبارزت کیلئے آمنے سامنے مقابلہ کیلئے نکلا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یہود میں سے ایک شخص مبارزت کے لیے، آمنے سامنے مقابلے کے لیے، باہر نکلا جس کا نام یوشع تھا۔
سوال:یوشع کا قتل کس نے کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب یوشع مقابلے کے لیے للکارا تو فوراً حضرت حُباب بن منذرؓ اس کے مقابلے کے لیے آئے۔ وہ قتال کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت حُباب نے اس کو قتل کر ڈالا۔
سوال: زیاد نامی یہودی کو کس صحابی نے قتل کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: زیال نامی یہودی نے مبارزت طلب کی تو حضرت عمارہ بن عقبہ غفاریؓاس کے مقابلے کے لیے نکلے اور آگے بڑھ کر اس یہودی کے سر پر کاری ضرب لگائی جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔
سوال:یہودی سردار سَلَّام بن مِشکم کی موت کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہودی سردار سَلَّام بن مِشکم کی موت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ نطاۃ کے قلعوں کی جنگ میں سَلَّام بن مِشکم بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ سلام بنو نضیر کا ایک بڑا سردار تھا اور یہود کا قائد تھا لیکن وہ بیمار تھا اس لیے اس نے دیگر یہودی سرداروں کی طرح جنگ میں عملی طور پر حصہ نہیں لیا یعنی خود تلوار تیر کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ اس کے ساتھیوں نے اس کو یہ تجویز پیش کی کہ وہ کَتِیبہ کے علاقے میں چلا جائے کیونکہ وہ زیادہ محفوظ ہیں۔ لیکن سلّام بن مشکم نے دائمی مریض ہونے کے باوجود یہ تجویز قبول نہیں کی حتٰی کہ وہ نطاۃ ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
سوال:آنحضرت ﷺکی تیر اندازی کس طرح کی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت محمد بن مسلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ آپؐتیر اندازی کر رہے تھے اور آپؐکا ایک نشانہ بھی خطا نہ گیا۔ آپؐمیری طرف دیکھ کر مسکرائے۔
سوال: خیبر کی فتح کے بعد یہود کا خیبر میں قیام اور یہود کی نصف پیداوار پر خیبر کے باغات دینے کاکیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: معاہدے کے مطابق تو یہود کو شام کی طرف جلاوطن ہونا تھا مگر یہود نے رسول کریم ﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ انہیں خیبر میں رہنے دیا جائے تا کہ وہ یہاں کی زراعت اور کھیتی باڑی کرتے رہیں کیونکہ وہ اس کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں۔ رسول کریم ﷺنے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی تا کہ وہ زراعت کا کام کریں اور اس کے عوض نصف پھل حاصل کریں۔ ان سے بڑی نرمی کا سلوک کیا۔ صحیح بخاری کی روایت میں اس کا ذکر یوں ملتا ہے کہ حضرت عبداللہؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے خیبر یہود کو دیا کہ وہ اس میں کام کریں اور وہاں کھیتی باڑی کریں اور ان کے لیے نصف ہے جو وہاں پیدا ہو۔
سوال: قلعہ قَموص کب فتح ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: قلعہ قَموص کے فتح کے ضمن میں کتب سیرت میں لکھا ہے کہ اس کا محاصرہ بیس روز تک کیا گیا اور بالآخر حضرت علیؓکے ہاتھ یہ قلعہ یہود کے ساتھ سخت مقابلے کے بعد فتح ہوا۔ نیز اس قلعہ کی تسخیر کے ضمن میں بعض سیرت نگاروں نے کتب میں وہی واقعات درج کیے ہیں جو قلعہ ناعم کی تسخیر کے حوالے سے دیگر مصنفین نے بیان کیے ہیں۔