سوال: نیک اعمال بجالانے کی توفیق حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کیلئے کون سی دعا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نیک اعما ل بجالانے کی توفیق حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کی دعا ہے۔ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ (سورۃ النّمل : 20) اے میرے رب! مجھے توفیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی اور میرے ماں باپ پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جو تجھے پسند ہوں اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں داخل کر۔
سوال: نیک اور صالح اولاد کیلئے کون سی دعا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَاءِکہ اے میرے رب مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریّت عطا کر یقینا تو بہت دعا سننے والا ہے۔ ایسی پاک نسل عطا کر جو تیری رضا کی راہوں پر چلنے والی ہو۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے…… ان کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آ جایا کرتے ہیں توان کی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہئے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔
سوال: والدین کے حق میں کون سی دعا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا کہ اے میرے رب ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی تھی۔
سوال: آنحضرتﷺ نے والدین کی خدمت کے متعلق کون سی حدیث بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ مٹی میں ملے اس کی ناک، مٹی میں ملے اس کی ناک۔ یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ دہرائے۔ یعنی ایساشخص قابل مذمت ہے، بڑا بدبخت اور بدقسمت ہے۔ لوگوں نے عرض کی کونسا شخص؟ تو آپ نے فرمایا وہ شخص جس نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہو سکا۔
سوال: مخالفین کے شر سے محفوظ رہنے کیلئے کون کون سی دعائیں حضور انور نے بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہمیں مخالفین کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور رحم فرمائے اور ہمیشہ اپنے پیار کی نظر ہم پر ڈالے، ثبات قدم عطا فرمائے۔ بعض جگہ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جو احمدیوں کے لئے برداشت سے باہر ہوتے ہیں تو کبھی کسی احمدی کے لئے کوئی ایسا موقع نہ آئے کہ جہاں وہ ٹھوکر کھانے والا ہو۔ ہمیشہ ہم میں سے ہر ایک ان برکتوں کا وارث بنتا رہے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کے لئے مقدر کی ہیں۔ ایک دعا ہے رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذِّبُوْنِ اے میرے رب میری مدد کر کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ پھر ایک دعا ہے رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُالْفَاتِحِیْنَ ۔اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ مَیں یقینا بہت مغلوب ہوں میری مدد کر۔ فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَھُمْ فَتْحًا وَ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ پس میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما، مجھے اور میرے ساتھ ایمان والوں کو نجات عطا فرما۔
سوال: رسول کریم ﷺ جب کسی قوم کی طرف سے خوف محسوس کرتے تو کون سی دعا کرتے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابو بردہ بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ نبی کریم ﷺجب کسی قوم کی طرف سے خوف محسوس کرتے تھے تو ان الفاظ میں دعا کرتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔
سوال: ثبات قدم کے لئے، دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کیلئے کون سی دعا رسول کریم ﷺ کرتے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایاـ: ثبات قدم کے لئے، دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کیلئے آنحضرت ﷺ نے یہ دعا سکھائی۔ شہربن حوشب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ اے ام المومنین جب رسول اللہ ﷺآپ کے پاس ہوتے تھے تو ان کی اکثر دعا کیا ہوا کرتی تھی؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔
سوال: امت مسلمہ کے لئے کون سی دعا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:امت مسلمہ کے لئے دعا کریں کہ’’ رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔‘‘
سوال:دعاؤں کی اہمیت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتداء میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا نہ تلوار سے۔ ہر ایک امر کے لئے کچھ آثار ہوتے ہیں اور اس سے پہلے تمہیدیں ہوتی ہیں۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ بھلا اگر ان کے خیال کے موافق یہ زمانہ ان کے دن پلٹنے کا ہی تھا اور مسیح نے آکر ان کو سلطنت دلانی تھی تو چاہئے تھا کہ ظاہری طاقت ان میں جمع ہونے لگتی، ہتھیار ان کے پاس زیادہ رہتے، فتوحات کا سلسلہ ان کے واسطے کھولا جاتا۔ مگر یہاں تو بالکل ہی برعکس نظر آتا ہے۔ ہتھیار ان کے ایجاد نہیں، ملک و دولت ہے تو اور وں کے ہاتھ ہے، ہمت و مردانگی ہے تو اور وں میں۔ یہ ہتھیاروں کے واسطے بھی دوسروں کے محتاج۔ دن بدن ذلت اور ادباران کے گرد ہے۔ جہاں دیکھو، جس میدان میں سنو انہیں کو شکست ہے۔ بھلا کیا یہی آثار ہوا کرتے ہیں اقبال کے؟ ہرگز نہیں۔ یہ بھولے ہوئے ہیں۔ زمینی تلوار اور ہتھیاروں سے ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ابھی تو ان کی خود اپنی حالت ایسی ہے اور بے دینی اور لامذہبی کا رنگ ایسا ہے کہ قابل عذاب اور مورد قہر ہیں۔ پھر ایسوں کو کبھی تلوار ملی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ان کی ترقی کی وہی سچی راہ ہے کہ اپنے آپ کو قرآن کی تعلیم کے مطابق بناویں اور دعا میں لگ جاویں۔ ان کو اب اگر مدد آوے گی تو آسمانی تلوار سے اور آسمانی حربہ سے، نہ اپنی کوششوں سے۔ اور دعا ہی سے ان کی فتح ہے، نہ قوت بازو سے۔ یہ اس لئے ہے کہ جس طرح ابتداء تھی انتہا بھی اسی طرح ہو۔ آدم اول کو فتح دعا ہی سے ہوئی تھی… اور آدم ثانی کو بھی جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرنا ہے اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ فتح ہو گی۔