سوال: خیبر کی فتح کس کے ہاتھ پر مقدر ہے؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:ایک دن رسول اللہ ﷺکو خداتعالیٰ نے بتایا کہ اس شہر (خیبر)کی فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مقدر ہے۔ آپؐنے صبح کے وقت یہ اعلان کیا کہ میں اسلام کا سیاہ جھنڈا آج اس کے ہاتھ میں دوں گا جس کو خدا اور اس کا رسول اور مسلمان پیار کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے اِس قلعہ کی فتح اس کے ہاتھ پر مقدر کی ہے۔
سوال: غزوہ خیبر میں رسول کریم ﷺنے دشمن کے سامنے آنے کےبارے میں کون سی دعا بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب تم دشمن کے سامنے آؤ تو یہ دعا کرو کہ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَ رَبُّهُمْ وَنَوَاصِیْنَا وَنَوَاصِيْهُمْ بِيَدِكَ وَاِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ۔اے اللہ !تُو ہمارا ربّ ہے اور ان کا ربّ ہے۔ ان کی پیشانیاں اور ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں۔
سوال: غزوہ خیبر کے لئے آنحضرت ﷺکی قیادت میں کتنا لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ کے خیبر کی طرف روانہ ہونے کی تفصیل یوں ہے کہ آنحضرت ﷺکی قیادت میں 1600 جاں نثاروں کا لشکر مدینہ سے روانہ ہوا۔
سوال:غزوہ خیبر میں کتنے گھڑ سوار تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس لشکر میں دو سو گھڑ سوار تھے ۔
سوال: اس دستے کے قاعد کون تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اس دستہ کے قاعد حضرت عَبَّاد بن بِشْر انصاریؓتھے۔
سوال: خیبر کے راستوں سے آگاہی کیلئے کن کو مقرر کیا گیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:خیبر کے راستوں سے آگاہی کے لیے دو رہبر یعنی گائیڈ بیس صاع کھجور کی اجرت پر لیے گئے۔ ان کے نام حَسِیْل بن خَارِجَہ اشجعی اور عبداللہ بن نُعَیم بیان کیے جاتے ہیں اور یہ دونوں اشجع قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔
سوال: رسول کریم ﷺکو جب خیبر کے قلعے دکھائی دیئےتو آپ نے کیا دعا کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺنے خیبر کی طرف اپنا سفر جاری رکھا اور شام کے اندھیروں میں جب خیبر کے قلعے دکھائی دیے تو آپؐنے صحابہؓ سے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔ پس وہ سب ٹھہر گئے تو آپ ﷺنے دعا کی۔اَللّٰهُمَّ رَبَّ الـسَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَمَا اَظْلَلْنَ وَ رَبَّ الْاَرْضِيْنَ السَّبْعَ وَ مَا اَقْلَلْنَ وَ رَبَّ الشَّيَاطِيْنَ وَمَا اَضْلَلْنَ وَ رَبَّ الرِّيَاح وَمَا اَذْرَيْنَ فَاِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هٰذِهِ الْقَرْيَۃِ وَ خَيْرِ اَهْلِهَا وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّھَاوَشَرِّ مَافِیْھَا اَقْدِمُوْا بِسْمِ اللّٰهِ۔اے ساتوں آسمان کے ربّ اور ہر اس چیز کے جس پر ان کا سایہ ہے! اور ساتوں زمینوں کے ربّ اور جو کچھ انہوں نے اٹھایا ہے! اور شیاطین کے ربّ اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے!اور ہواؤں کے ربّ اور جو کچھ وہ اڑاتی ہیں ! اے اللہ! ہم اس بستی کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں اور اس کے اہل کی اور اس بستی اور اس کے اہل کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں ۔پھر آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ کا نام لے کر آگے بڑھو۔
سوال: جب رسول کریم ﷺ نے یہود کو اپنی کدالیں اور ٹوکرے لے کر نکلتے ہوئے دیکھا تو کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب رسول کریم ﷺ نے یہود کو اپنی کدالیں اور ٹوکرے لے کر نکلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا :خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ۔خیبر برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے جانے والوں کی صبح بری ہوتی ہے۔
سوال: خیبر کے مختلف قلعوں کی تقسیم کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:تاریخ یعقوبی میں خیبر کے قلعوں کی تعداد چھ بیان کی گئی ہے اور ان میں قلعہ ناعم کا ذکر ہی نہیں جبکہ اکثر کتب سیرت میں جنگ خیبر کا آغاز ہی اس قلعہ یعنی ناعم سے بتایا جاتا ہے۔ زرقانی میں قلعوں کی تعداد دس بیان ہوئی ہے۔ ان تمام کتب کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ خیبر کا علاقہ تین حصوں نَطَاۃ، شَقّ اور کَتِیْبَہ میں منقسم تھا اور ان تینوں حصوں میں آٹھ قلعے درج ذیل تقسیم کے مطابق تھے۔ نَطَاۃمیں تین قلعے تھے یعنی نَاعِم، صَعْب اور قلعہ زُبَیر۔ اس قلعہ کا نام قُلَّہ تھا۔ یہ بعد میں حضرت زبیر بن عوامؓکے حصے میں آیا تھا ۔اس لیے اس کا نام قلعہ زبیر مشہور ہو گیا۔ شَقّْ میں دو قلعے تھے یعنی اُبَیْ اور بَرِیٔ یا بعض نے نَزَارْبیان کیا ہے اور کَتِیْبَہ میں تین قلعے تھے یعنی قَمُوصْ، وَطِیْح اور سُلَالِمْ۔
سوال: اس جنگ میں حضرت محمود بن مَسْلَمَہ ؓکی شہادت کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس جنگ میں حضرت محمود بن مَسْلَمَہ ؓکی شہادت کا ذکر بھی ملتا ہے۔حضرت محمود بن مَسْلَمَہؓکچھ تھک گئے اور اسلحہ بوجھل لگنے لگا اور گرمی نے خوب ستایا تو وہ ناعم کے قلعہ کی دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے۔ یہودی سردار مَرْحَبْ نے ان کو دیکھ لیا اور ان پر چَکّی لڑھکا دی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کِنَانَہ بن رَبِیع نے لڑھکائی تھی، اوپر سے پھینک دی۔ وہ چَکّی ان کے سر میں لگی اور ان کے سر کو اس طرح پھاڑ دیا کہ ان کے سر کی کھال کٹ کر چہرے پر آ پڑی۔ انہیں رسول اللہ ﷺکے پاس لایا گیا۔ آپ نے کھال کو واپس اس جگہ رکھا اور کپڑے سے اس پر پٹی باندھ دی مگر زخم اس قدر شدید تھا کہ حضرت محمود بن مَسْلَمَہ ؓجانبر نہ ہو سکے اور چند دن کے بعد وفات پا گئے۔
سوال: حضور انور نے مَرْحَبْ کی مبارزت اور عامر بن اَکْوَعؓ کی شہادت کا کیا ذکر فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مَرْحَبْ کی مبارزت اور عامر بن اَکْوَع ؓکی شہادت کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس کی تفصیل یوں ہے کہ انہی دنوں میں ایک دن مَرْحَبْ اس قلعہ کا یہودی سپہ سالار جو بہادری اور جرأت میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا قلعہ سے باہر آ کر مسلمانوں کو للکارنے لگا اور غرور اور تکبر سے اپنی تلوار لہراتے ہوئے یہ شعر پڑھنے لگا کہ
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ
شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تُلَهَّبُ
خیبر جانتا ہے کہ میں مَرْحَبْ ہوں ۔ ہتھیار بند ،بہادر ،تجربہ کار جبکہ جنگیں شعلہ بھڑکاتی ہوئی آئیں۔ مَرْحَبْ کا یہ چیلنج سن کر حضرت عَامِر بن اکوعؓ لشکر سے نکل کر سامنے آئے اور یہ رجزیہ شعر پڑھا کہ
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ
شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ
کہ خیبر کا چپہ چپہ آگاہ ہے کہ میں عامر ہوں ہتھیار بند، بہادر اور جنگی خطرات کے ریلے میں بےخوف و خطر کود پڑنے والا۔
اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے اور ایک دوسرے پر وار کرنے لگے۔ مَرْحَبْ نے تلوار کا وار کیا جسے حضرت عامرؓ نے اپنی ڈھال پر روکا اور فوراً جھک کر نیچے سے اس پر وار کیا لیکن ان کی تلوار چھوٹی تھی اس لیے ان کو لگنے کی بجائے حضرت عامرؓ کواپنی تلوار ہی لگ گئی جس سے انہیں گہرا زخم لگا اور ان کی شہادت ہو گئی۔ یہ اس جنگ کے دوسرے شہید تھے۔ دونوں کو ایک ہی قبر میں یعنی رجیع کے مقام پر دفن کیا گیا۔