اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-01

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ06؍اکتوبر 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃالبقرہ آیت نمبر 187 کی تلاوت فرمائی:وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَاِن فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ۔
سوال: دعا کے بارے میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’دعا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے۔ مگر یہ یاد رکھو کہ یہ دعا زبانی بک بک کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خداتعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دعا کرنے والے کی روح پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الوہیت پر گرتی ہے اور اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لئے قوی اور مقتدر خدا سے طاقت اور قوت
اور مغفرت چاہتی ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں اس کو موت کہہ سکتے ہیں۔ جب یہ حالت میسر آ جاوے تو یقینا سمجھو کہ باب اجابت اس کے لئے کھولا جاتا ہے اور خاص قوت اور فضل اور استقامت بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر استقلال کے لئے عطا ہوتی ہے۔ یہ ذریعہ سب سے بڑھ کر زبردست ہے‘‘۔
سوال: دعا کے اندر قبولیت کا اثر کب پیدا ہوگا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجے کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بے چینی ہو رہی ہوتی ہے۔ جب انتہائی درجے کا اضطرار پیدا ہو جاتا ہے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔ پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔
سوال: اپنے اور پہلوں کے لئے حصول مغفرت اور دلوں میں سے کینوں کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کون سی دعا سکھائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک دعا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائی وہ اپنے اور پہلوں کے لئے حصول مغفرت اور دلوں میں سے کینوں کو دور کرنے کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نیک بندوں کا ذکرکرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اس طرح دعا کرتے ہیں کہ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَاتَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلَّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ۔ اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم پر سبقت لے گئے ہیں اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے کوئی کینہ نہ رہنے دے۔ اے ہمارے رب یقینا تو بہت شفیق اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
سوال: مخالفین کے شر سے بچنے اور مغفرت کیلئے اور قوم کے سیدھے راستے پر چلنے کیلئےحضور انورنے کون سی دعا بتائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مخالفین کے شر سے بچنےکیلئے اور مغفرت کے لئے اور قوم کے سیدھے راستے پر چلنے کے لئے ایک دعا ہے۔ رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَاغْفِرْلَنَارَبَّنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ اے ہمارے رب تجھ پر ہی ہم تو کل کرتے ہیں اور تیری طرف ہی ہم جھکتے ہیں اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ اے ہمارے رب ہمیں ان لوگوں کے لئے ابتلاء نہ بنا جنہوں نے کفر کیا اور اے ہمارے رب ہمیں بخش دے۔ یقینا تو کامل غلبے والا اور صاحب حکمت ہے۔
سوال: غیر ضروری سوالات سے بچنے کیلئے کون سی دعا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک دعا غیر ضروری سوالات سے بچنے کے لئے سکھائی ہے۔ وہ دعا یہ ہے کہ رَبِّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ وَاِلَّاتَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْٓ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ کہ اے میرے ربّ یقینا مَیں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے وہ بات پوچھوں کہ جس کے مخفی رکھنے کی وجہ کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ اور اگر توُ نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو مَیں ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔
سوال:روحانی ترقی اور مغفرت الٰہی حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کون سی دعا سکھائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: روحانی ترقی اور مغفرت الٰہی حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَآاَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَاوَاغْفِرْلَنَا اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کر دے اور ہمیں بخش دے یقینا ہر چیز پر جسے تو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کن دو مسئلوں کیلئے مبعوث کیا تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔ اوّل خدا کی توحید اختیار کرو۔ دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔ وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیر وں کے لئے کرامت ہو۔ یہی دلیل تھی جو صحابہ ؓ میں پید اہوئی تھی۔ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ۔ یاد رکھو تالیف ایک اعجاز ہے۔ یاد رکھو جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسندکرے، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔ اس کا انجام اچھا نہیں۔ مَیں ایک کتاب بنانے والا ہوں ‘‘۔
سوال: سورہ بقرہ کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کن دعائوں کی طرف توجہ دلائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سورۃ بقرہ کی آخری آیت ہے جس میں ہمیں مختلف دعائیں سکھائی گئی ہیں کہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَاتَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَۃَ لَنَابِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰـنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْن کہ اے ہمارے رب ہمارا مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے۔ اور اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر ان کے گناہوں کے نتیجہ میں توُ نے ڈالا ہے۔ اور اے ہمارے رب ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو۔ اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ توُ ہی ہمارا والی ہے، پس ہمیں کافر قوم کے مقابل پر نصرت عطا کر۔
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق دعا کی تھی پر میری دعا قبول نہیں ہوئی اس بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق دعا کی تھی پر میری دعا قبول نہیں ہوئی اللہ سے شکوے ہوتے ہیں کہ اے اللہ کیوں میری دعا قبول نہیں کی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر غور کر رہے ہیں تو یہ بات سامنے رہے گی کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ اس کو تمام آئندہ آنے والی باتوں کا بھی علم ہے۔ اس کو یہ بھی علم ہے کہ ہر ایک کے دل میں کیا ہے۔ اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ کیا چیز میرے بندے کے لئے ضروری اور فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے۔ اس لئے کسی قسم کے شکوے کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ وہ اپنے بندے کی بعض باتوں کو اس لئے رد ّکرتا ہے کہ وہ انہیں اس کے لئے بہتر نہیں سمجھتا۔ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بعض وعدے بھی کرتا ہے، ان کو بعض باتیں سمجھادیتا ہے لیکن اجتہادی غلطی کی وجہ سے بندہ سمجھ نہیں سکتا۔