اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-01

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ31؍جنوری 2025بطرز سوال وجواب

سوال: غزوۂ خیبر کے موقع پر روانگی کے وقت آنحضور ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوۂ خیبر کے موقع پر روانگی کے وقت آنحضرت ﷺنے فرمایا: جو مالِ غنیمت کی غرض سے نکل رہے ہیں وہ میرے ساتھ نہ نکلیں۔ صرف وہ لوگ میرے ساتھ روانہ ہوں جو صرف جہاد میں رغبت رکھتے ہیں۔
سوال:غزوۂ ذِی قَرَدْ کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے بہترین گھڑ سوار اور بہترین پیادہ کس کو کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوۂ ذِی قَرَدْ کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: آج کے بہترین گھڑ سوار ابو قتادہؓ اور بہترین پیادہ سَلَمَہ بِنْ اَكْوَع ہیں۔
سوال: غزوۂ ذِی قَرَدْ کے موقع پر آنحضرت ﷺاور آپ کے صحابہ ؓکو کیوں خدشہ ہوا کہ حضرت ابوقتادہؓشہید ہوگئے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ نے اپنے اس غزوہ میں جانے سے پہلے چند صحابہ ؓکو دشمن کی طرف روانہ فرمایا تھا اور آپؐپھر ان کے پیچھے اپنا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔جب آنحضرت ﷺ اور صحابہؓ آئے تو دشمن کے لشکر نے انہیں دیکھا اور وہ بھاگ گئے۔ جب مسلمان دشمن کے پڑاؤ کی جگہ پہنچے تو حضرت ابوقتادہؓکا گھوڑا وہاں موجود تھا جس کی کونچیں کٹی ہوئی تھیں۔ ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ !ابوقتادہ کے گھوڑے کی تو کونچیں کٹی ہوئی ہیں۔ آنحضور ﷺاس کے پاس کھڑے ہوئے اور دو مرتبہ فرمایا۔ تیرا بھلا ہو، جنگ میں تیرے کتنے دشمن ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺاور صحابہ آگے چل دیے یہاں تک کہ اس جگہ پہنچے جہاں حضرت ابوقتادہؓاور مَسْعَدَہ نے کشتی کی تھی، تو انہوں نے سمجھا کہ حضرت ابوقتادہؓچادر میں لپٹے پڑے ہیں۔ ایک صحابی نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ!لگتاہے کہ ابوقتادہؓشہید ہو گئے۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ ابوقتادہ پر رحم کرے۔ اس ذات کی قسم! جس نے مجھے عزت بخشی ہے ابو قتادہ تو دشمن کے پیچھے ہے اور رجز پڑھ رہا ہے۔
سوال: کب معلوم ہوا کہ حضرت ابو قتادہؓشہید نہیں ہوئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت ابوقتادہؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے لشکر نے جب میرے گھوڑے کو دیکھا کہ اس کی کونچیں کٹی ہوئی ہیں اور مقتول کو میری چادر میں لپٹے ہوئے دیکھا تو انہوں نے سمجھا کہ شاید میں شہید ہو گیا ہوں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلدی سے آگے بڑھے اور چادر ہٹائی تو مَسْعَدَہ کا چہرہ دیکھا۔ ان دونوں نے کہا اللہ اکبر! اللہ اور اس کے رسولؐنے سچ کہا۔ یا رسول اللہ!یہ مَسْعَدَہ ہے۔ اس پر صحابہؓ نے بھی تکبیر کہی اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی حضرت ابوقتادہ اونٹنیاں ہانکتے ہوئے آنحضرت ﷺکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوقتادہؓ!تمہارا چہرہ کامیاب ہو گیا۔ ابوقتادہؓگھڑ سواروں کے سردار ہیں۔ اے ابوقتادہؓ! اللہ تم میں برکت رکھ دے۔
سوال: حضرت سَلَمَہ ؓ کا دشمن سے ذُو قَرَدْ میں مقابلے کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور ننے فرمایا:اس غزوہ میں حضرت سَلَمَہ ؓ کا دشمن سے ذُو قَرَدْ میں مقابلے کا ذکر یوں ملتا ہے۔ حضرت سَلَمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں دشمن کے پیچھے دوڑتا جا رہا تھا یہاں تک کہ مجھے اس ذات کی قسم! جس نے آنحضور ﷺ کو عزت دی مجھے اپنے پیچھے صحابہ ؓ نظر نہیں آ رہے تھے اور نہ ہی مجھے ان کا گردو غبار نظر آ رہا تھا۔ دشمن غروبِ آفتاب سے پہلے ایک گھاٹی میں پہنچ گیا جہاں ذُوقَرَدْ نام کا ایک چشمہ تھا۔ انہوں نے وہاں سے پانی پینا چاہا تو مجھے دیکھا کہ میں ان کے پیچھے ہی ہوں تو وہ اس سے ہٹ گئے۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا تو اسے تیر مارا۔ میں نے صبح بھی اسے تیر مارا تھا۔ اب دوسرا تیر اسے مارا اور دونوں تیر اسے لگے۔ وہ دو گھوڑے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تو میں نے ان دونوں کو پکڑا اوراتنی دیر میں آنحضرت ﷺ آ گئے تھے تو پھر ان کو لے کے آنحضور ﷺکی خدمت میں ہانک لایا۔
سوال: اس غزوہ کیلئے آنحضرتﷺ کتنا عرصہ باہر رہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس غزوہ کے لیےآنحضرت ﷺ مدینہ سے کتنا عرصہ باہر رہےاس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺبدھ کی صبح روانہ ہوئے اور آپؐنے ایک رات ایک دن ذُوقَرَدْ میں قیام فرمایا تا کہ دشمن کی کوئی خبر مل سکے۔ پھر سوموار کے دن مدینہ واپس تشریف لائے۔ یوں آپ پانچ راتیں مدینہ سے باہر رہے۔
سوال: اس جنگ میں کون کون سے صحابہ ؓ شہید ہوئے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ کی تفصیل یوں ہے۔ مسلمانوں میں سے حضرت مُحْرِزْ بن نَضْلَہؓ شہیدہوئے۔ ابنِ ہشام کے مطابق ابنِ وَقَّاص بن مُجَزِّزْ بھی شہید ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ حضرت ابوذرؓکے بیٹے جنگ سے پہلے ہی اونٹوں کے باڑہ میں شہید کر دیے گئے تھے۔
سوال: اس جنگ میں کون کون کفا ر قتل ہوئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: کفار کے بارے میں لکھا ہے کہ کفار میں سے عبدالرحمٰن بن عُیَیْنَہ،حُبَیْب بن عُیَیْنَہ، مَسْعَدَہ بن حَکَمَہ فَزَارِی، اَوْبَار اور اس کا بیٹا عَمرو قتل ہوئے۔
سوال: سَرِیَّہ حضرت اَبَان بن سعیدؓکب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سَرِیَّہ حضرت اَبَان بن سعیدؓبطرف نَجْد کہلاتا ہے۔ یہ سَرِیَّہ محرم سات ہجری میں ہواجبکہ ایک روایت میں اس سَرِیَّہ کی تاریخ جُمَادَی الثانی 7 ہجری بیان ہوئی ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے بھی اس سَرِیَّہ کو محرم سات ہجری میں لکھا ہے۔
سوال: حضور انور نے حضرت اَبَانؓکا کیا تعارف بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت اَبَانؓکا تعارف یہ ہے کہ حضرت اَبَانؓکے والد اکابر قریش میں سے تھے۔ ان کے بھائی عمرو اور خالد پہلے مسلمان ہو گئے تھے اور حبشہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔ اَبَان جنگِ بدر میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے صلح حدیبیہ کے دوران حضرت
عثمانؓکو پناہ دی تھی۔ عمرو اورخالد حبشہ سے واپس آئے تو انہوں نے اَبَان کو پیغام بھیجا یہاں تک کہ تینوں اکٹھے خیبر کے ایام میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور اَبَان نے اسلام قبول کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت اَبَان بن سعیدؓنے صلح حدیبیہ اور غزوۂ خیبر کے درمیانی عرصہ میں اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت اَبَان بحرین پر عامل تھے۔ اس کے بعد وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور شام چلے گئے۔ آپؓتیرہ ہجری میںشہید ہوئے، ایک روایت کے مطابق ستائیس ہجری کو حضرت عثمانؓکی خلافت میں وفات پائی۔
سوال:جب رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرامؓکی تیاری کا علم مدینہ کے یہود کو ہوا تو انکی کیا کیفیت ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓکی تیاری کا علم مدینہ کے یہود کو ہوا تو ان پر یہ امر بہت گراں گزرا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر آپؐخیبر میں داخل ہو گئے تو خیبر ہلاک ہو جائے گا جیسا کہ بَنُو قَیْنُقَاع اور بنونضیر اور بنو قُریظہ ہلاک ہوئے تھے۔
سوال: رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول نے اپنے مددگار کے ذریعہ مدینہ کے یہودیوں کیلئے کیا خط بھیجا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول خاموش نہیں رہا بلکہ اپنے ایک مددگار کے ذریعہ ایک خط فوری طور پر خیبر کے یہود کی طرف بھیجا۔خط کا مضمون یہ تھا کہ محمد ﷺ تمہاری طرف آنے والے ہیں۔ اپنے بچاؤ کی تدابیر کر لو اور اپنے اموال کو اپنے قلعوں میں داخل کر لو اور آپ ﷺ سے جنگ کے لیےمیدان میں آ جاؤ اور ان سے بالکل خوفزدہ نہ ہو۔ تمہاری تعداد بہت ہے اور محمد (ﷺ ) کی قوم بہت تھوڑی ہے اور ان کے پاس صرف تھوڑے سے ہتھیار ہیں۔