اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-04-24

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ29؍ستمبر 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: خطبہ کےآغازپر حضور انور نے کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:خطبہ کے آغازپرحضور انور نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 186 کی تلاوت فرمائی:شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔
سوال:ہم قرآن کریم کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہم اس ہدایت سے تبھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب اس کو پڑھ کر اس پر عمل بھی کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت سے احکامات
اتارے جو ہمارے کرنے کے لئے ہیں۔ بہت سے احکامات ایسے اتارے جن میں بعض قسم کی باتوں سے روکا گیا ہے۔ پھر بہت سی دعائیں سکھائیں جو گزشتہ انبیاء کی دعائیں ہیں اور ایسی دعائیں بھی سکھائیں جو آنحضرت ﷺ کو سکھائی گئیں اور قرآن کریم میں ان دعاؤں کے بیان کرنے کا مقصداُمّت کو اس طرف توجہ دلانا تھا کہ مختلف قسم کے حالات پیدا ہوں تو اُن حالات کے پیش نظر قرآن کریم میں جومختلف قسم کی دعائیں ہیں وہ دعائیں کرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے یہ مختلف قسم کی دعائیں قرآن کریم میں اس لئے جمع کی
ہیں تاکہ ایک مومن بندہ ان سے فائدہ اٹھائے۔ اور خالص ہو کر اس کی صفات کے حوالے سے، اس حوالے سے کہ اے خدا توُ نے خود یہ دعائیں ہمیں سکھائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے جب اس سے دعائیں مانگے تو خداتعالیٰ قبول فرماتا ہے۔
سوال:رمضان کے مہینہ کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رمضان کے مہینے کی یہ اہمیت ہے کہ اس مہینے میں پہلے سے بڑھ کر اپنے بندے پر نظر رکھتا ہوں، اس کی دعائیں قبول کرتا ہوں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
سوال: برائیوں سے بچنے کے لئے اور نیکیوں میں ترقی کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: برائیوں سے بچنے کے لئے اور نیکیوں میں ترقی کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اس مہینے میں خاص طور پر ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور یہ کوشش ہو کہ اپنی نمازوں کو سنوار کر ادا کرے اور سنوار کر ادا کرتے رہنے کے لئے دعا کرنی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل ہمیشہ جاری رہے۔
سوال: انسان کی پیدائش کا کیا مقصد ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کا خوف د ل میں رکھتے ہوئے، اس کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اُن تمام شرائط پر عمل کرتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں نمازیں ادا کرے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کے مہینہ کےمتعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔ کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوےاور تجلی قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کون سی دعا بتائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بھی بتائی کہ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّک اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔اے ہمارے رب! ہمیں اپنے دو فرمانبردار بندے بنا دے اور ہماری ذریت میں سے بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کر دے اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا اور ہم پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جا۔ یقینا تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے آیت رَبَّنَا اٰ تِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارکی کیا تفسیر بیان فرمائی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: رَبَّنَا اٰ تِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ ہیچ ہیں۔ آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہوگی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتاہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہیں۔ تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے۔ طرح طرح کے عذاب، خوف، حزن، فقرو فاقے، امراض، ناکامیاں، ذلت و ادبار کے اندیشے، ہزاروں قسم کے دکھ، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں الجھن غرض یہ سب آگ ہیں۔ تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔ جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔
سوال: کون سی دعا ہمیں اپنے لئے اور اپنی نسلوں کیلئے ہر وقت مانگنی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: قرآن کریم میں ہمیں ایسی دعا سکھائی جو نہ صرف ہمارے لئے بلکہ ہماری نسلوں کے لئے بھی ہے۔ اور جب نسلاً بعد نسلٍ جب یہ دعا مانگی جاتی رہے گی تو اللہ تعالیٰ اپنی اس دعا کے طفیل جو اس نے ہمیں سکھائی ہے عبادت کرنے والے بھی پیدا فرماتا چلا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِن ذُرِّیَّتِیْ ٭ۖ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ اے میرے ربّ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری نسلوں کو بھی۔ اے ہمارے ربّ اور میری دعا قبول کر۔
سوال:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل کیلئے کون سی دعا مانگی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی کہ جس طرح مجھے نمازوں پر قائم کیا ہے اسی طرح میری نسلوں میں بھی قائم کرتا رہ۔