سوال:سریہ کُرز بن جابر کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:سریہ کُرز بن جابریہ سریہ شوال ۶؍ہجری میں عرانیین کی طرف ہوا۔
سوال: اس سریہ کی تفصیل حضور انور نے کیا بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اس سریے کی تفصیل یوں ہے کہ عُکل اور عرینہ قبائل کے تقریباً آٹھ آدمی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو بیمار بھی تھے اور عرض کی کہ ہمیں پناہ دیں اور ہمیں کھانا کھلائیں۔ وہ مسجدِ نبوی میں مقیم ہوئے اور جلد ہی صحت مند ہوگئے مگر انہیں مدینےکی آب و ہوا راس نہ آئی ۔چنانچہ آنحضرتﷺ کی اجازت اور حکم سے یہ اونٹوں کی چرا گاہوں میں چلے گئے۔ آنحضرتﷺ کے بے پناہ شفقت کے اس سلوک کے باوجود جب یہ لوگ چرا گاہوں میں اونٹنیوں کے پاس آئے تو کافر ہوگئے اور اونٹنیوں کو ہانک کر اپنے ساتھ لے گئے، گویا صحت مند ہوکر انہوں نے آنحضورﷺ سے دھوکاکیا۔ آنحضرتﷺ کے آزاد کردہ غلام یسار اور ان کے چند ساتھیوں نے ان کا پیچھا کیا تو انہوں نے مسلمانوں سے لڑائی کی اور نہایت بےرحمی سے یسار کے ہاتھ پیر کاٹ کر، ان کی آنکھوں اور زبان میں کانٹے چبھوئے اور انہیں شہید کردیا۔ پھر یہ چرواہوں کی طرف آئے اور ان سب کو بھی قتل کردیا۔ بچ جانے والا ایک شخص آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ انہوں نے میرے ساتھی کو قتل کردیا ہے اور اونٹوں کو لے کر چلے گئے ہیں۔ اس اطلاع کے ملنے پر آنحضرتﷺ نے بیس افراد کی ایک پارٹی روانہ کی، جس نے آنحضورﷺ کی دعا کے طفیل اسی روز یا اگلے روز ان لوگوں کو گرفتار کرلیا اور یہ لوگ آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش کیے گئے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے ان کے ساتھ کیا سلوک فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرتﷺ نےان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک فرمایا جو انہوں نے مسلمان چرواہوں کے ساتھ کیا تھا، مگر اُس وقت تک مثلے کی ممانعت کی اسلامی تعلیم نازل نہ ہوئی تھی ، بعد میں جب یہ ممانعت نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ جس بھی لشکر کو روانہ کیا کرتےاسے مثلے سے منع فرماتے اور صدقے کی تعلیم دیتے۔
سوال: ان ظالموں کو سزا دیے جانے کے متعلق حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓنے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ان ظالموں کو سزا دیے جانے کے متعلق حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓفرماتے ہیں: اس معاملے میں ظلم کی ابتدا کفار کی طرف سے تھی۔پھر یہ فیصلہ بھی موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا تھا، لیکن پھر بھی اسلام نے اسے برقرار نہیں رکھااور آئندہ کے لیے ایسے طریق سے منع کردیا۔
سوال: میور صاحب نے اس واقعہ پر کیا اعراض کیا؟
جواب: حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓفرماتے ہیں: میور صاحب نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اس معاملے میں اسلام کا دامن بالکل پاک نظر آتا ہے کیونکہ دراصل یہ فیصلہ اسلام کا نہیں تھا بلکہ حضرت موسیٰ کا تھا جن کی شریعت کو حضرت مسیح ناصری نے منسوخ نہیں کیا بلکہ برقرار رکھا۔
سوال: میور صاحب کئےاعتراض میں حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓنے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓفرماتے ہیں: اگر ہمارے معترضین کے پیشِ نظر حضرت مسیح کا یہ قول ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا گال بھی سامنے کردو… سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلیم کسی عقل مند کے نزدیک قابلِ عمل ہے اور کیا آج تک کسی مسیحی مرد یا عورت یا کسی مسیحی جماعت یا حکومت نے اس تعلیم پر عمل کیا ہے؟ منبروں پر چڑھ کر وعظ کرنے کےلیے بیشک یہ ایک عمدہ تعلیم ہے مگر عملی دنیا میں اس تعلیم کو کوئی بھی وزن حاصل نہیں۔ فرمایا اسلام افراط و تفریط کے رستے کو چھوڑ کر وہ وسطی تعلیم دیتا ہے جو دنیا میں حقیقی امن کی بنیاد ہے۔ یعنی ہر بدی کی سزا اس کے مناسبِ حال اور اس کی شدّت کے مطابق ہونی چاہیے لیکن اگر حالات ایسے ہوں کہ معاف کرنے یا نرمی کرنے سے اصلاح کی امید ہو تو پھر معاف کرنا یا نرمی کرنا بہتر ہےاور ایسا شخص خداکے نزدیک نیک اجر کا مستحق ہوگا۔
سوال: غزوہ ذی قرد کب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے اس غزوہ کو محرم ۷؍ہجری کا غزوہ بیان کیا ہے۔
سوال: اس غزوہ کی حضور انور نے کیا تفصیل بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس غزوے کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ رسول اللہﷺ کی بیس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں اور کچھ دوسرے اونٹ بھی شامل تھے۔ یہ اونٹنیاں چراگاہ میں چرتی تھیں اور ایک چرواہا روز مغرب کے وقت ان کا دودھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں لایا کرتا تھا۔ ایک روز عیینہ فزاری نے بنو غطفان کے چالیس گھڑسواروں کے ساتھ ان پر حملہ کردیا اور یہ لوگ اونٹنیاں لے گئے۔ حملے کے دوران ان لوگوں نے حضرت ابوذرکے بیٹے ذر کو قتل کردیا جو ان اونٹنیوں کا چرواہا تھا اورحضرت ابو ذر کی بیوی لیلیٰ کو قیدکرکے لے گئے۔ عیینہ غزوہ احزاب کے موقعے پر قبیلہ بنو فزارہ کا سردار تھا،عیینہ نے فتح مکہ کے بعد یا ایک روایت کے مطابق فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا، اس نے غزوہ
حنین اور طائف میں بھی شرکت کی۔ نبی کریمﷺ نے اسے بنو تمیم کی سرکوبی کے لیے پچاس سواروں کے ساتھ بھیجا تھا، اس میں کوئی بھی مہاجر یا انصار صحابی موجود نہ تھا۔ عہدِ صدیقی میں یہ ارتداد کا شکار ہوگیا، اور طلیحہ کے دعوے کے بعد اس کے ساتھ مل گیا، اور اس کی بیعت کرلی، جب یہ قید ہوکر حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا تو آپؓنے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے معاف کردیا، اس کے بعد اس نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا۔
سوال: غزوہ ذی قرد میں حضوراکرمﷺ نے کس کے نیزے پر جھنڈا باندھا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضوراکرمﷺ نے مقداد بن اسودکے نیزے پر جھنڈا باندھا ۔
سوال: جب آنحضرت ﷺ کو حضرت ابوذرؓکے بیٹے کی شہادت اور ان کی بیوی کے قید کئے جانے کی اطلاع میلی تو آپؐنے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرتﷺ نے حضرت ابوذرؓکو غابہ کی طرف جانے سے روکا تھامگر آپ اس جانب چلے گئے تھے، اور پھر آنحضرتﷺ کے بیان فرمودہ نقشے کے مطابق ابوذرؓکا بیٹا شہید ہوا اور بیوی قیدی بنائی گئی۔ سلمہ بن اکوع نے اونٹنیاں لے جانے والوں کاتعاقب کیا اور ان پر بڑا بھرپور حملہ کیا اور کئی اونٹنیاں واپس لینے میں کامیاب ہوگئے۔ جب رسول اللہﷺ کو اس سب معاملے کا علم ہوا تو مدینے میں منادی کروادی گئی ، اس منادی پر کئی اکابر صحابہؓ حاضر ہوگئے، رسول اللہﷺ نے سعد بن زیدؓکو امیر مقرر فرمایا اور تعاقب کے لیے روانہ کیا اور خود رسول اللہﷺ پانچ سَو یا سات سَو صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اس غزوے میں صحابہؓ نے بڑی بہادری اور جاں نثاری سے لڑائی کی اوربعض صحابہؓ نے بڑی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا۔