سوال: ایک مومن کیلئے کیا چیز سب سے زیادہ ضروری ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے جس کا اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ اس سے ہر ضرورت کے وقت مانگے اور اس کے لئے دعا کرے، حتی کہ جوتی کا تسمہ بھی مانگنا ہے تو خدا سے مانگے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین رہے، یہ احساس رہے کہ ہر بڑی سے بڑی چیز بھی اور ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اگر کوئی دینے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے فضل کے بغیر ہمیں کچھ نہیں مل سکتا۔ برائیوں سے بچنا ہے تو اس سے دعا مانگو کہ اے اللہ! مجھے برائیوں سے بچا۔ نیکیاں بجا لانی ہیں تو اس کے آگے جھکتے ہوئے، اس سے توفیق مانگتے ہوئے نیکیاں بجالانے کی توفیق
حاصل کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ ہم نیکیاں بجا لا سکتے ہیں، نہ برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہ ہم جہنم کی آگ سے بچ سکتے ہیں، نہ اس کے فضل کے بغیر ہم دنیا و آخرت کی جنت کے نظارے دیکھ سکتے ہیں۔ پس جب سب کچھ اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ملنا ہے تو کس قدر ضروری ہے کہ ہم ہر معاملے میں خدا کو یاد رکھتے ہوئے اس سے مانگیں اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےقُلْ مَایَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لاَ دُعَآؤُکُمْکہ توُکہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا ربّ تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔
سوال: رحمت خاصہ کن کے شامل حال ہوتی ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: خد اکے قانون میں یہی انتظام مقرر ہے کہ رحمت خاصہ انہیں کے شامل حال ہوتی ہےکہ جو رحمت کے طریق کو یعنی دعااور توحید کو اختیار کرتے ہیں۔ اس باعث سے جو لوگ اس طریق کو چھوڑ دیتے ہیں وہ طرح طرح کی آفات میں گرفتا ر ہو جاتے ہیں ……خد اکو تو کسی کی زندگی اور وجود کی حاجت نہیں وہ تو بے نیاز مطلق ہے۔
سوال: ایک مومن شخص کا کیا کام ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: مومن شخص کا کام ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے اور پھر اس کے مطابق کام کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَایَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُکُمْ خداکو تمہاری پرواہ ہی کیا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو اور اس سے دعائیں نہ مانگویہ آیت بھی اصل میں پہلی آیت وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ کی شرح ہے۔
سوال: دین سے غافل لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کیا سلوک کرتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:خدا تعالیٰ دین سے غافلوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے پرواہ نہیں کرتا… جو دین سے غافل نہ ہوں ان کی ہلاکت اور موت میں خداتعالیٰ جلدی نہیں کرتا۔
سوال: جو انسان دعا نہیں کرتا اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دعا میں لگے رہو … ایک انسان جو دعا نہیں کرتا اس میں اور چار پائے میں کچھ فرق نہیں ۔
سوال:استجابت دعا کے مسئلے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: استجابت دعا کا مسئلہ درحقیقت دعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہےاور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ اور شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اس کو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھوکے لگتے ہیں … اور دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے ربّ میں ایک تعلق جاذبہ ہے۔ یعنی پہلے خداتعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خداتعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔ سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہوکر خداتعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے
میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ تب اس کی روح اُس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب میں جو اُس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خداتعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ تب اللہ جلّشانہٗ اس کام کے پوراکرنے کی طرف متوجہ ہو تا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پرڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً اگر بارش کے لئے دعا ہے توبعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبیعہ جو بارش کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں اور ا گر قحط کے لئے بددعا ہے تو قادر مطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ بات اربابِ کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل کی دعا میں ایک قوت تکوین پیدا ہو جاتی ہے یعنی باذنہٖ تعالیٰ وہ دعا عالم سفلی اور عُلوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اُس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤید مطلوب ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے بارہ میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ:یا الٰہی تو اس سے پاک ہے کہ کوئی تیرے وجود سے انکار کرکے نالائق صفتوں سے تجھے موصوف کرے سو تو ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا۔ یعنی تجھ سے انکار کرنا عین دوزخ ہے۔
سوال:ہر وہ احمدی جس نے اپنے بچے وقف نو میں دئیے ہوئے ہیں ان کے نمونے کس طرح کے ہونے چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہر وہ احمدی جس نے اپنے بچے وقف نو میں دئیے ہوئے ہیں کہ وہ دین کے خادم بنیں، وہ اس گروہ میں شامل ہوں جو دنیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والا گروہ ہے، وہ ایسے بچوں کے باپ ہیں جنہوں نے ایک عمر کو پہنچنے کے بعداسماعیل کی طرح اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کیا ہے۔ ایسی صورت میں اُن باپوں کو بھی تو وہ نمونہ دکھانا ہو گا جو حضرت ابراہیم ؑ کا نمونہ ہے۔