اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-04-17

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ17؍جنوری 2025بطرز سوال وجواب

سوال: سریہ عبداللہ بن رواحہ کس کی طرف بھیجا گیا اور یہ سریہ کب ہوا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سریّہ عبداللہ بن رواحہ اُسَیر بن رِزَام کی طرف بھیجا گیا تھا۔ یہ سریہ شوال 6ہجری میں اُسَیر یا یُسَیر بن رِزَام کی طرف خیبر میں ہوا۔
سوال: سریہ عبداللہ بن رواحہ کی حضور انور نے کیا تفضیل بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جب ابورافع سَلَّام بن ابی حقیق کو قتل کیا گیا تو یہودیوں نے اُسَیر بن رِزَام کو اپنا امیر مقرر کیا۔ وہ یہود میں کھڑا ہو کر خطاب کرنے لگا کہ اللہ کی قسم! محمد (ﷺ) جب بھی یہود میں سے کسی طرف چلے یا اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھیجا تو جس بات کا ارادہ کیا اس میں کامیاب ہو گئے لیکن میں وہ کام کروں گا جو میرے ساتھیوں میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کیا۔ یہود نے پوچھا کہ تمہارا کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ اُسَیر بن رِزَام کہنے لگا۔ میں قبیلہ غَطَفَان کی طرف جاتا ہوں اور ان کو اکٹھا کرتا ہوں اور ہم محمد ﷺکی طرف چل کر ان کے گھر میں گھس جائیں گے۔ جب بھی کوئی اپنے دشمن کے گھر میں آ کر حملہ کرتا ہے تو وہ اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔ تو یہود نے کہا کہ تمہارا خیال بہت اچھا ہے۔ چنانچہ وہ غَطَفَان اور دیگر قبائل کی طرف چلا گیا اور ان کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھا کرنے لگا۔ یہ خبر رسول اللہ ﷺکو پہنچ گئی تو رسول اللہ ﷺنے اس خبر کی حقیقت واضح کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن رَوَاحہؓ کو تین آدمیوں کے ساتھ ماہ رمضان میں خفیہ طور پر بھیجا۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے انصاری صحابی عبد اللہ بن رواحہ کو کتنے صحابی کی معیت میں خیبر کی طرف روانہ کیا اور انہیں کیا تاکید فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ نے انصاری صحابی عبداللہ بن رواحہ کوتین دوسرے صحابیوں کی معیت میں خیبر کی طرف روانہ فرمایا اور انہیں تاکید فرمائی کہ خفیہ خفیہ جائیں اور سارے حالات معلوم کر کے جلدترواپس آجائیں۔
سوال: عبداللہ بن رواحہؓ اور انکے ساتھیوںنے خیبر میں جاکر اُسَیر بن رِزَام کی سازشوں کاکس طرح پتہ کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: عبداللہ بن رواحہؓ اوران کے ساتھیوں نے ایسی ہوشیاری سے کام لیا کہ خیبر کے قلعوں کے آس پاس گھوم کر اور اُسَیر بن رِزَام کی مجلس گاہوں کے پاس پہنچ کرخود اُسَیر اور اس کے ساتھیوں کی زبانی یہ سن لیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے خلاف یہ یہ تدبیریں کر رہے ہیں۔ انہی دنوں میں ایک غیر مسلم شخص خارجہ بن حُسَیْل اتفاقاً خیبر کی طرف سے مدینہ میں آیا اور اس نے بھی عبداللہ بن رواحہ کی تصدیق کی اور کہا کہ میں اُسَیر کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اپنے لاؤ لشکر کوجمع کر رہا تھا۔
سوال: سریہ عمرو بن امیہ ضَمْرِی کس کی طرف بھیجا گیا تھا اور یہ سریہ کب ہوا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سریہ عمرو بن امیہ ضَمْرِی ابوسفیان کی طرف گیا تھا۔ ابن ہشام، ابن کثیر اور طبری وغیرہ نے اس سریہ کو 4ہجری کے ضمن میں واقعہ رجیع کے بعد بیان کیا ہے لیکن ابن سعد نے اس سریہ کو 6ہجری کے سرایا کے ذیل میں بیان کیا ہے اور زرقانی نے بھی ابن سعد کو ترجیح دیتے ہوئے 6ہجری کے ذیل میں اس سریہ کو بیان کیا ہے۔
سوال: سریہ عمرو بن امیہ ضَمْرِی جو کہ ابوسفیان کی طرف بھیجا گیا تھا اس کا کیا سبب تھا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس سریہ کی تفصیل یوں ہے کہ ابوسفیان نے قریش کے چند آدمیوں کو کہا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو محمد (ﷺ) کو اچانک قتل کر دے ایک آدمی نے کہا کہ تُو مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ مضبوط دل والا پائے گا۔ میری گرفت ان سے زیادہ سخت ہے اور میں سب سے تیز بھاگ سکتا ہوں۔ اگر تُو میری مدد کرے تو میں ان کی طرف جاؤں گا یہاں تک
کہ اچانک محمد (ﷺ) پر حملہ کر دوں اور میرے پاس ایک خنجر ہے جو گدھ کے پَر کی طرح ہے۔ اس سے میں محمد (ﷺ) پر حملہ کروں گا پھر میں کسی قافلے میں مل جاؤں گا اور بھاگ کر اس قوم سے آگے بڑھ جاؤں گا کیونکہ راستہ کا میں بہت ماہر ہوں۔ ابو سفیان نے کہا تُو ہی ہمارا ساتھی ہے۔ چنانچہ ابوسفیان نے اس کو اونٹ اور زادِراہ دیا اور کہا اپنے کام کو پوشیدہ رکھنا۔ مدینہ پہنچ گیا اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھنے لگا یہاں تک کہ اسکو آپ کے متعلق بتایا گیا تو اس نے اپنی سواری کو باندھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی طرف آیا اور آپ ﷺ بنوعبدالاشہل کی مسجد میں تھے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: یقیناً اس آدمی کا دھوکہ دینے کا ارادہ ہے۔ پہچان گئے اس کی حالت سے اور اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے ارادے کے درمیان میں حائل ہے۔چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے کے لیے چلا تو اُسَید بن حُضَیر نے اس کو اس کی چادر کے اندر والے کنارے سے پکڑ کر کھینچا تو اچانک اس کے ہاتھ سے خنجر گر پڑا اور وہ پکارنے لگا میرا خون میرا خون یعنی میری جان بخشی کر دو۔ پکڑا گیا۔ حضرت اُسَید نے اس کو گردن سے پکڑا پھر اس کو چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا مجھے سچ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں امان طلب کرتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔ اس نے اپنا کام اور جو کچھ ابوسفیان نے اس کے لیے مقرر کیا بتایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا اور اس شفقت پہ وہ مسلمان ہو گیا ۔
سوال:رسول اللہ ﷺ نے عَمرو بن امیہ اور سَلَمہ بن اسلم کو حرب کی طرف کیوں بھیجا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ نے عَمرو بن امیہ اور سَلَمہ بن اسلم کو ابوسفیان بن حرب کی طرف بھیجا اور فرمایا اگرتم دونوں اس کو غفلت کی حالت میں پاؤ تو اس کو قتل کر دینا۔
سوال: ڈسکہ میں مسجد کو مسمار کرنے کے تعلق سے حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ڈسکہ میں کل انہوں نے سڑک بنانے کے بہانے پہلے نوٹس بھیجا کہ اتنی جگہ ہم لیں گے اور وہاں بلڈوزر پھیر کے جگہ صاف کریں گے اس سے مسجد کا تھوڑا سا حصہ غسل خانے وغیرہ آتے تھے لیکن جب بلڈوزر لے کر آئے تو انہوں نے مولویوں کے کہنے پر ساری مسجد کو مسمار کر دیا اورشہید کر دیا۔ یہ مسجد پرانی بنی ہوئی ہے۔ پارٹیشن سے پہلے کی بنی ہوئی تھی اور حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے شاید بنوائی تھی۔ آجکل اب اس حد تک بڑھ گئے ہیں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کی جلد پکڑ کے سامان پیدا فرمائے اور ان کے مکر ان لوگوں پر الٹائے۔
سوال : حضور انور نے فلسطین کے حالات کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:فلسطین کے بارے میںبھی جو معاہدہ ہو رہا ہے کبھی کہتے ہیں ہو گیا کبھی کہا جاتا ہےنہیں ہوا۔ معاہدے کے بعد پھر واقعات ہو رہے ہیں۔ تو اس بات پہ بعض لوگ بے جا خوشی کا اظہار کرنے لگ گئے ہیں لیکن ان کو سمجھنا چاہیے کہ دجالی طاقتوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ یہ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیںاس لیے اتنی زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں ہے،ان کے لیے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے اور مسلمانوں کو عقل سے کام لے کر اپنے حق حاصل کرنے کی طرف بھی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مسلم قوم کو بھی اس کی عقل دے۔