اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-04-10

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ15؍ستمبر 2006 بطرز سوال وجواب

سوال:پوپ صاحب نے جرمنی میں ایک یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران اسلام کے بارے میں کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: پوپ صاحب نے جرمنی میں ایک یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران بعض اسلامی تعلیمات کا ذکر کیا اور قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں کسی دوسرے لکھنے والے کے حوالے سے ایسی باتیں کی ہیں جن کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
سوال:حضور انور نے پوپ کی اس حرکت پر کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:میرا خیال تھا کہ پوپ سلجھے ہوئے انسان ہیں اور عالم آدمی ہیں اور اسلام کے بارے میں بھی کچھ علم رکھتے ہوں گے لیکن یہ بات کرکے انہوں نے بالکل ہی اپنی کم علمی کا اظہار کیا ہے۔ جس مسیح کی خلافت کے وہ دعویدار ہیں اس کی تعلیم پر چلتے ہوئے ان کو تو دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی، اس نے تو دشمن سے بھی نیک سلوک کرنے کی تعلیم دی ہے۔ آنحضرت ﷺ اور قرآن کی طرف غلط باتیں منسوب کرکے ایک طرف تو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا گیا ہے (جیسا کہ مَیں نے کہا ہے) اور پھر ردّعمل کے طور پر جن کو جذبات پر کنٹرول نہیں ہے وہ ایسی حرکتیں کر جائیں گے جس سے مسلمانوں کے خلاف ان کو مزید Propaganda کا موقع مل جائے گا۔ دوسرے پوپ کے پیروکار اور مغرب میں رہنے والے لوگ جو اسلام کو شدت پسند مذہب سمجھتے ہیں ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف مزید نفرت پھیلے گی۔
سوال:حضور انور نے پوپ کے اعتراض کا کیا خلاصہ بیان فرمایاجو انہوںنے قرآن اور آنحضرت ﷺ پر کئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: پوپ کہتے ہیں کہ مَیں نے ایک مکالمہ پڑھا تھا جس کا متن ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے شائع کیا ہے اور یہ پرانا مکالمہ ایک علم دوست قیصر مینوئیل اور ایک فارسی عالم کے درمیان 1391ء میں انقرہ میں ہوا تھا اور پھر وہی عیسائی عالم
اس کو تحریر میں لایا۔ کیونکہ یہ مکالمہ عیسائی عالم کی طرف سے شائع ہوا ہے اس لئے انہوں نے اپنی زیادہ بات کی ہے۔ اپنی ایمانداری کا تو یہیں پتہ لگ گیا کہ مسلمان عالم کی باتوں کا ذکر بہت کم ہے اور اپنی باتیں زیادہ کی ہیں۔مَیں اپنے اس لیکچر میں ایک نکتے پر بات کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ اس میں قیصر جہاد کا ذکر کرتا ہے اور قیصر کو یقینا علم تھاکہ مذہب کے معاملے میں اسلام میں جبر نہیں ہے۔ سورۃ بقرہ کی آیت 256 کا حوالہ دے رہے ہیں۔ قیصر یقینا قرآن میں مقدس جنگ یا جہاد سے متعلق بعد کی تعلیمات سے بھی واقف تھا۔ قرآن میں اس حوالے سے جو تفصیلات درج ہیں مثلاً اہل کتاب سے اور کفار سے مختلف قسم کا سلوک کیا جانا چاہئے۔ قیصر حیران کن تُرش الفاظ میں اپنے شریک گفتگو سے بنیادی سوال کرتا ہے اور اس پر مزید کہتا ہے کہ مذہب اور جبرکا آپس میں کیا تعلق ہے۔ مجھے دکھاؤ کہ محمد ﷺ کون سی نئی چیزلے کر آئے ہیں۔ تمہیں صرف بُری اور غیر انسانی تعلیمات ہی ملی ہیں جس کے بعد آپ ﷺ نے یہ تعلیم دی کہ ان کے لائے ہوئے مذہب کو تلوار کے زور سے پھیلایا جائے۔ اِنَّا لِلّٰہ۔ کیوں مذہب کو طاقت کے زور سے پھیلانا عقل کے خلاف ہے۔ یہ تعلیم خدا کی ذات اور روح کی ماہیت سے متصادم ہے۔ خدا کو خونریزی پسند نہیں اور عقل و عمل خدا کی ذات سے متصادم ہے۔ ایمان روح کا پھل ہے جسم کا نہیں۔ قیصر جس کی تربیت یونانی فلسفے کے تحت ہوئی تھی اس کے لئے مذکورہ بالا جملہ ایک واضح حقیقت ہے جب کہ اسلامی تعلیم کے مطابق خدا ایک مطلقاً ماورائیت کا حامل وجود ہے اور کسی ارضی کیٹیگری (Category) کا پابند نہیں حتیٰ کہ معقولیت کا بھی نہیں۔ اور پھر آگے فرانسیسی ماہر اسلامیات کے حوالے سے ابن حزم کی ایک باتquote کی ہے کہ کوئی شے خدا کو ہم پر سچ ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ اگر وہ چاہے تو انسان کو بت پرستی بھی کرنی پڑے گی۔
سوال: مزید کیا اعراض پوپ صاحب کے اسلام کے خلاف کئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:پوپ صاحب لکھتے ہیں کہ کیا یہ عقیدہ کہ خدا خلاف عقل کام نہیں کر سکتا یہ یونانی عقیدہ ہے یا یہ ازلی اور فی ذاتہ ایک حقیقت ہے۔ میرے خیال میں یہاں یونانی فکر کی یا خدا پر ایسے ایمان کی جو بائبل پر مبنی ہو آپس میں گہری مطابقت نظر آتی ہے۔
سوال: ہمیں اسلام کی سچائی کو سامنے لانے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: احمدیوں کودعا کے ساتھ ہر ملک میں اس کے جواب بھی دینے چاہئیں۔ ہمارے تو یہی دو ہتھیار ہیں جن سے ہم نے کام لینا ہے، کسی اور ردّعمل کا نہ کبھی احمدی سے اظہار ہوا ہے اور نہ انشاء اللہ ہو گا۔
سوال: کیا آنحضرت ﷺ نے جبراً اسلام میں لوگوں کو داخل کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آپؐنے جبر کیا۔ آپؐکو تو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ کوئی منافقت سے اسلام قبول کرے۔ چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک کافر قیدی پیش ہوا اور اس نے آپؐسے عرض کی کہ مجھے قید کیوں کیا گیا ہے، مَیں تو مسلمان ہوں۔ آپؐنے فرمایا اب نہیں پہلے اسلام لاتے تو ٹھیک تھا، اب تم جنگی قیدی ہو اور رہائی حاصل کرنے کے لئے مسلمان بن رہے ہو۔ آپؐنے اس کو جبر سے مسلمان بنانا نہیں چاہا۔ آپ تو چاہتے تھے کہ دل اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں۔ چنانچہ بعد میں اس قیدی کو دو مسلمانوں کی آزادی پر آزاد کر دیا گیا۔
سوال: اسلام جنگ کا حکم کن حالات میں دیتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اسلام میں جنگوں کا حکم صرف اُس وقت تک ہے جب تک دشمن جنگ کر رہا ہے یا فتنے کے حالات پیدا کر رہا ہے۔ جب حالات ٹھیک ہو جائیں اور فتنہ ختم ہو جائے تو فرمایا تمہیں کوئی حق نہیں کہ جنگ کرو۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ۔ فَاِنِ انْتَھَوْا فَـلَا عُدْوَانَ اِلَّاعَلَی الظّٰلِمِیْن۔یعنی اے مسلمانو! تم اُن کفار سے جنگ کروجو جنگ کرتے ہیں، اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اور ہر شخص اپنے خدا کے لئے (نہ کسی ڈر اور تشدد کی وجہ سے) جو دین بھی چاہے رکھ سکے۔ اور اگر یہ کفار اپنے ظلموں سے باز آ جائیں تو تم بھی رک جاؤ کیونکہ تمہیں ظالموں کے سوا کسی کے خلاف جنگی کارروائی کرنے کا حق نہیں ہے۔
سوال: غیر مسلموں کا الزام ہے کہ زبردستی مذہب تبدیل کرتے تھے اس بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غیر مسلموں کا الزام ہے کہ زبردستی مذہب تبدیل کرتے تھے تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جوان باتوں کوجھٹلاتے ہیں۔ ہم دیکھ ہی آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کیا تھی۔ ایک واقعہ کا ذکر ہے، آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں مَنْ قَتَلَ مُعَاہِدًا لَمْ یَرِحْ رَآئِحَۃَ الْجَنَّۃِ۔ یعنی جو مسلمان کسی ایسے غیرمسلم کے قتل کا مرتکب ہوگا جو کسی لفظی یا عملی معاہدہ کے نتیجہ میں اسلامی حکومت میں داخل ہو چکاہے وہ علاوہ اس دنیا کی سزا کے، قیامت کے دن بھی جنت کی ہواسے محروم رہے گا۔
سوال: آپؐکے خلفاء کا غیر مسلموں سے کیا سلوک تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:پھر آپؐکے خلفاء کا کیا طریق تھا۔ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں غیرمسلموں سے جزیہ وصول کرنے میں سختی کی جارہی تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ فوراً رک گئے اور غصہ کی حالت میں دریافت فرمایا کہ کیا معاملہ ہے۔ عرض کیا گیاکہ یہ لوگ جزیہ ادا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓنے فرمایاکہ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان پر وہ بوجھ ڈالا جائے جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے، انہیں چھوڑ دو۔ مَیں نے رسول اللہ ﷺ سے سناہے کہ جوشخص دنیا میں لوگوں کو تکلیف دیتاہے وہ قیامت کے دن خدا کے عذاب کے نیچے ہوگا۔ چنانچہ ان لوگوں کوجزیہ معاف کردیاگیا۔