سوال: کیا سریہ بنو فَزَارَہ میں اُمِّ قِرفہ کو مسلمانوں نے (نوذباللہ)بے دردی سے قتل کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سوال یہ ہے کہ جب صحابہ نے اُمِّ قِرفہ سے سخت اور زیادہ خونی دشمنوں اور پھر مرد دشمنوں کو بھی کبھی اس طرح قتل نہیں کیا تو یہ خیال کرنا کہ زید بن حارثہ جیسے واقف کار صحابی کی کمان میں ایک بوڑھی عورت کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہو گا ہرگز قابل تسلیم نہیں ہو سکتااس بات میں ہر گز کوئی شبہ نہیں رہتا کہ اُمِّ قِرفہ کے ’’ظالمانہ قتل‘‘ کا واقعہ ایک بالکل جھوٹا اور بےبنیاد واقعہ ہے جو کسی مخفی دشمن اسلام اور منافق کی مہربانی سے بعض تاریخی روایتوں میں راہ پا گیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس سریّہ کی حقیقت اس سے بڑھ کر اَور کچھ نہیں جو مسلم اور ابو داؤد نے بیان کی ہے۔
سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ؓ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ؓ فرماتے ہیں:ایک عورت کو جس پر قتل کا الزام نہیں ہے قید کرکے ٹھنڈے لمحات میں قتل کرنا اور پھرقتل بھی اس طریق پر کرنا جو اس روایت میں بیان کیا گیا ہے یہ تو ایک بہت دور کی بات ہے۔اسلام تو عین جنگ کے میدان میں بھی عورت کے قتل کو سختی کے ساتھ روکتا ہے۔
سوال: اس واقعہ کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا بیان کیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے لکھا کہ ابن سعد نے ایک ایسے سریہ کا ذکر کیا ہے جس میں زید بن حارثہ امیر تھے۔یعنی ابن سعد اس سریہ میں حضرت ابو بکر کی بجائے زید بن حارثہ کو امیر بیان کرتا ہے اور تفاصیل میں بھی کسی قدر اختلاف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ مہم بنو فزارہ کی گو شمالی کے لیے تھی جو وَادِی الْقُرٰی کے پاس آباد تھے اور جنہوں نے مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ پر چھاپہ مار کر اس کا سارا مال واسباب چھین لیا تھا۔ اس مفسد گروہ کی روح رواں ایک بوڑھی عورت تھی جس کا نام امِ قِرفہ تھا جو اسلام کی سخت دشمن تھی۔ جب یہ عورت اس لڑائی میں پکڑی گئی تو زید کی پارٹی کے ایک شخص قیس نامی نے اس عورت کو قتل کر دیا۔اور ابن سعد اس قتل کا قصہ یوں بیان کرتا ہےکہ اس کے دونوں پاؤں دو مختلف اونٹوں کے ساتھ باندھے گئے اور پھر ان اونٹوں کو مختلف جہات میں ہنکایا گیا جس کے نتیجہ میں یہ عورت درمیان میں سے چر کر دو ٹکڑے ہو گئی اور اس کے بعد اس بوڑھی عورت کی لڑکی سلمہ بن اکوع کے سپرد کر دی گئی۔
سوال: سریہ عبداللہ بن عتیکؓکس کی طرف بھیجا گیا اور کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:سریہ عبداللہ بن عتیکؓہے ابورافع کی طرف تھا، یہ سریہ رمضان چھ ہجری میں ہوا۔
سوال: سریہ عبداللہ بن عتیکؓکے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓکی کیا تحقیق ہے؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنےلکھا ہے کہ: ابورافع کے قتل کے زمانہ کے متعلق روایات میں اختلاف ہے۔ بخاری نے زہری کی اتباع میں اسے معین تاریخ دینے کے بغیر مطلقاً کعب بن اشرف کے قتل کے بعد بیان کیا ہے جوبہرحال درست ہے اور غالباً ان واقعات کومتصل کرکے اس لیے بیان کیا ہے کہ ان کی نوعیت ایک سی ہے۔ طبری نے اسے 3ھ میں کعب بن اشرف کے واقعہ کے بعد رکھا ہے۔ واقدی نے 4ھ میں بیان کیا ہے۔ ابن ہشام نے بروایت ابن اسحاق اسے مطلقاً غزوہ بنوقریظہ کے بعد رکھا ہے جو اواخر 5ھ میں ہوا تھا اور اس طرح اسے اوائل 6ھ میں سمجھا جاسکتا ہے۔مگر ابن سعد نے صراحتاً 6ھ میں بیان کیا ہے اورعام مؤرخین نے ابن سعد کی اتباع کی ہے۔ واللہ اعلم
سوال:اسلام کس طرح کا مذہب ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اسلام کے متعلق ہمیں اعتراف ہے کہ وہ ان جھوٹے جذبات کا مذہب نہیں ہے۔ وہ مجرم کومجرم قرار دیتا ہے اور اس کی سزا کو ملک اور سوسائٹی کے لیے رحمت سمجھتا ہے۔ وہ ایک سڑے ہوئے عضو کوجسم سے کاٹ دینے کی تعلیم دیتا ہے اور اس بات کا اظہار نہیں کرتا کہ ایک متعفن عضو اچھے اور تندرست اعضا ءکو خراب کر دے۔
سوال: کیا ابو رافع کو خفیہ طور پر قتل کرنا صحیح تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ابورافع کی خون آشام کارروائیاں تاریخ کاایک کھلاہوا ورق ہیں …
اصولاً اس قدر یاد رکھنا چاہیے کہ:۔
(1) اس وقت مسلمان نہایت کمزوری کی حالت میں چاروں طرف سے مصیبت میں مبتلا تھے اور ہر طرف مخالفت کی آگ شعلہ زن تھی۔ اور گویا ساراملک مسلمانوں کو مٹانے کے لیے متحد ہورہا تھا۔
(2) ایسے نازک وقت میں ابورافع اس آگ پرتیل ڈال رہاتھا جومسلمانوں کے خلاف مشتعل تھی اور اپنے اثر اور رسوخ اور دولت سے عرب کے مختلف قبائل کو اسلام کے خلاف ابھار رہا تھا اور اس بات کی تیاری کررہا تھاکہ غزوہ احزاب کی طرح عرب کے وحشی قبائل پھر متحد ہو کر مدینہ پردھاوا بول دیں۔
(3)عرب میں اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی کہ جس کے ذریعہ دادرسی چاہی جاتی بلکہ ہر قبیلہ اپنی جگہ آزاد اور خود مختار تھا۔ پس سوائے اس کے کہ اپنی حفاظت کے لیے خود کوئی تدبیر کی جاتی اور کوئی صورت نہیں تھی۔
(4) یہودی لوگ پہلے سے اسلام کے خلاف برسرپیکار تھے اور مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جنگ کی حالت قائم تھی۔
(5) اس وقت ایسے حالات تھے کہ اگر کھلے طور پر یہود کے خلاف فوج کشی کی جاتی تو اس سے جان اور مال کا بہت نقصان ہوتا اور اس بات کااندیشہ تھا کہ جنگ کی آگ وسیع ہوکر ملک میں عالمگیر تباہی کا رنگ نہ پیدا کر دے۔
ان حالات میں صحابہؓ نے جو کچھ کیا وہ بالکل درست اور بجا تھا اور حالت جنگ میں جبکہ ایک قوم موت وحیات کے ماحول میں سے گزر رہی ہواس قسم کی تدابیر بالکل جائز سمجھی جاتی ہیں اور ہر قوم اورہر ملت انہیں حسبِ ضرورت ہرزمانہ میں اختیار کرتی رہی ہے۔