سوال:آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی نے عرب کے مشرکین پر کیا اثر کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکی قوت قدسی نے عرب کے رہنے والے مشرکین کی ایسی کایا پلٹی کہ انہیں ایک خدا کی عبادت کرنے والا اور ہمہ وقت اس کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر کرنے والا بنا دیا۔ ان لوگوں نے اپنے آقا و مطاع کی پیروی میں اپنی راتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے گزارنا شروع کر دیا۔ اُن لوگوں نے جہاں اپنے حق میں آنحضرت ﷺکی دعاؤں کی قبولیت کے نشان دیکھے۔ وہاں آنحضرت ﷺکی پیروی میں خود اپنی قبولیت کے نشانات بھی دیکھے۔ اور یہی قبولیت کے نشانات اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان تھا جس نے ان کو مزید توکل کرنے والا اور دعاؤں پر یقین کرنے والا بنا دیا اور پھر وہ اُس مقام تک پہنچ گئے جہاں وہ ہر روز اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے دیکھتے تھے۔ آنحضرت ﷺکی صحبت نے اُنہیں خداتعالیٰ کی صفات کا فہم و ادراک عطا کیا۔ ان کی عبادتوں نے اللہ تعالیٰ کو ان سے راضی کیا۔ اور وہ اپنے پیارے خدا سے اس طرح راضی ہوئے کہ دنیا کی ہر لالچ کو انہوں نے ٹھوکروں سے اڑا دیا۔ اور وہ لوگ بعد میں آنے والوں کے لئے ہدایت کا باعث بنے۔
سوال:اللہ تعالیٰ کی نظر میں صحابہ ؓ کا کیا مقام ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت عمرؓبن خطاب بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مَیں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ اے محمد! تیرے صحابہ کا میرے نزدیک ایسا مرتبہ ہے جیسے آسمان میں ستارے ہیں۔ بعض بعض سے روشن تر ہیں لیکن نور ہر ایک میں موجود ہے۔ پس جس نے تیرے کسی صحابی کی پیروی کی میرے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا۔ حضرت عمرؓ بن خطاب نے یہ بھی کہا کہ حضور ﷺنے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی بھی تم اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
سوال:صحابہؓ نے دنیا کی ہدایت اور اسلام کا پیغام پہنچانے کیلئے کیا عظیم الشان کام سر انجام دئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ان روشن ستاروں نے دنیا کو ہدایت دی۔ ایک دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچایا، ایک دنیا کو اپنے پیداکرنے والے خدا کے قریب کیا، عرب سے باہر کی دنیا میں یہ صحابہ گئے اور اللہ تعالیٰ پر توکل، ایمان اور دعاؤں سے لوگوں نے اُن کے ہاتھوں سے دنیا میں معجزے عمل میں آتے دیکھے۔ پھر جب بڑی بڑی طاقتوں نے جو ہدایت کی اِن قندیلوں کو بجھانا چاہتی تھیں، جو انہیں ختم کرنے کے درپے تھیں اُن سے ٹکر لی تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے اور اپنی دعاؤں کی قبولیت دیکھتے ہوئے انہوں نے ان طاقتوں سے مقابلہ کیا تو میدان پر میدان مارتے چلے گئے۔
سوال:ایران کے خلاف جنگ میں صحابہ کرام نے کیا نمونہ دکھایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ایران کے خلاف جب جنگ ہوئی تو سب لوگ تُستَرکے مقام پر جمع ہوئے۔ اور اہل فارس کے سپہ سالا ر ہرمزان اور ان کی ایرانی افواج اور پہاڑوں پر رہنے والے اور اہواز کے لشکر خندقوں میں بیٹھے تھے۔ حضرت عمر ؓنے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓکو ان کی امداد کے لئے بھیجا اور اہل بصرہ پر حاکم بنا دیا۔ اور باقی تمام علاقہ پر ابوسبرہؓکو مقرر کیا۔ مسلمانوں نے کئی مہینے تک ان کا محاصرہ کئے رکھا، اکثر کو تہ تیغ کیا۔ اس محاصرے میں حضرت براء بن مالکؓجو حضرت انس بن مالکؓکے بھائی تھے شہید ہو گئے۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے سو مرتبہ مبارزت کی تھی اور آخری بار شہید ہو گئے تھے۔ آپ ہی کی طرح مجزأۃ بن ثور اور کعب بن سُور اور اہل کوفہ اور اہل بصرہ میں سے متعدد لوگ شہید ہوئے تھے۔ جنگ تُستر کے دوران مشرکین نے ان پر اَسّی (80) بار حملہ کیا اور کبھی یہ غالب آتے اور کبھی وہ۔ بہت شدید جنگ ہوتی رہی۔ جب آخری حملہ میں شدید جنگ ہو رہی تھی تو مسلمانوں نے حضرت براءؓکی خدمت میں عرض کی کہ اے براء بن مالک اپنے ربّ کو قسم دیں کہ وہ ان کو ہماری خاطر شکست دے دے۔ آپؓنے دعا کی اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ لَنَا وَاسْتَشْہِدْنِیْ کہ اے اللہ ان کو ہماری خاطر شکست دے اور مجھے شہادت عطا فرما۔ (اپنی شہادت کی بھی ساتھ دعا کی) آپؓمستجاب الدعوات تھے۔ ان کی دعائیں بڑی قبول ہوتی تھیں۔ اس دعا کے بعد مسلمانوں نے دشمنوں کو شکست دی اور ان کو ان کی خندقوں میں داخل ہونے پر مجبور کر دیا۔ اور پھر حملہ کرکے ان کے شہر میں داخل ہو گئے اور شہر کا احاطہ کر لیا۔
سوال:حضرت ماسٹر عبدالرحمنؓصاحب کی قبولیت دعا کے بارے میں مولوی عبدالرحیم صاحب عارف نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت ماسٹر عبدالرحمنؓ صاحب کی قبولیت دعا کے بارے میں مولوی عبدالرحیم صاحب عارف مبلغ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہماری جماعت میں ماسٹر صاحب پڑھا رہے تھے تو ایک خط آنے پر بڑے فکر مند ہو گئے اور ٹہلنے لگے۔ پھر ایک کھڑکی کی طرف منہ کرکے دعا کرنے لگے۔ تو میرے دریافت کرنے پر فرمایا کہ پھر بتاؤں گا۔ ایک مشکل میں پڑ گیا ہوں تم بھی دعا کرو۔ چنانچہ چند گھنٹے کے بعد آپ نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ ڈاکیا ایک منی آرڈر لایا ہوا تھا۔ فرمایا کہ عزیز بشیر احمد کا مونگ رسول سے خط آیا ہے (سردار بشیر احمدان کے بیٹے تھے جو مونگ میں پڑھتے تھے) کہ آپ نے خرچ نہیں بھیجا مجھے تکلیف ہے۔ اور ماسٹر صاحب کہتے ہیں کہ مجھے کہیں سے روپیہ کی امید نہیں تھی۔ مَیں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ تو رازق ہے بچہ پردیس میں ہے۔ میرے پاس رقم نہیں، تیرے پاس بے انتہا خزانے ہیں توُ کوئی سامان کر دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ سامان کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ان کے پیسوں کا انتظام ہو گیا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کیا نظارہ جماعت کے برگزیدہ لوگوں کے بارے میں دکھایا ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک نظارہ جماعت کے ایسے برگزیدہ لوگوں کے بارے میں دکھایا تھا جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:میں نے دیکھا کہ رات کے وقت میں ایک جگہ بیٹھا ہوں (رات کا وقت ہے میں ایک جگہ بیٹھا ہوں ) اور ایک اور شخص میرے پاس ہے۔ تب مَیں نے آسمان کی طرف دیکھا تو مجھے نظر آیا بہت سارے ستارے آسمان پر ایک جگہ جمع ہیں۔ تب مَیں نے ان ستاروں کو دیکھ کر اور انہی کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ’’آسمانی بادشاہت‘‘ پھر معلوم ہوا کہ کوئی شخص دروازے پر ہے اور کھٹکھٹاتا ہے۔ جب مَیں نے کھولا تو معلوم ہوا کہ ایک سودائی ہے جس کا نام میراں بخش ہے۔ اس نے مجھ سے مصافحہ کیا اور اندر آ گیا۔ اس کے ساتھ بھی ایک شخص ہے مگر اس نے مصافحہ نہیں کیا اور نہ وہ اندر آیا۔ اس کی تعبیر مَیں نے یہ کی کہ آسمانی باشاہت سے مراد سلسلے کے برگزیدہ لوگ ہیں۔ جن کو خدا زمین پر پھیلا وے گا۔ اور اس دیوانے سے مراد کوئی متکبر مغرور متمول یا تعصب کی وجہ سے کوئی دیوانہ ہے خدا اس کو توفیق بیعت دے گا۔ اور پھر الہام ہوا لَا تَخَفْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا گویا میں کسی دوسرے کو تسلّی دیتا ہوں کہ تو مت ڈر بے شک خدا ہمارے ساتھ ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو تہجد کی نماز کی تلقین کرتے ہوئے کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے۔ کیونکہ اسکو دعا کرنے کا موقعہ بہرحال مل جائے گا۔ اسوقت کی دعاؤں میں خاص تاثیر ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔ جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں ۔