سوال:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورہ آل عمران 92 کی تلاوت فرمائی لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیمٌ۔اس آیت کا ترجمہ ہے کہ تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خداتعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو اللہ اسے یقیناً خوب جانتا ہے۔
سوال: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث میں مال خرچ کرنے والے اور روک رکھنے والے کے متعلق کیا بیان فرمایا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے سخی کو اَور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اَور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے کہ اللہ روک رکھنے والے کنجوس کو ہلاک کر دے اور اس کا مال و متاع برباد کر دے۔
سوال: وقف جدید کے ستاسٹھ ویں (67) سال کے دوران جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر نے کتنی وصولی کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کے ستاسٹھ ویں (67) سال کے دوران جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر کو ایک کروڑ 36؍ لاکھ 81؍ ہزار پاؤنڈز کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ یہ وصولی گذشتہ سال کے مقابلے میں 7؍ لاکھ 36؍ ہزار پاؤنڈز زیادہ ہے۔
سوال:حضور انور نے وقف جدید کے کون سے سال کا اعلان فرمایا؟
جواب:حضور انور نےوقف جدید کے اڑسٹھ ویں (68)سال کے اجرا کا اعلان فرمایا۔
سوال:انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبوب اور عزیز ہونے کا اعزاز کب ملے گا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ـبیکار اور نکمی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ نص صریح ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔ اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو؟کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔ دنیاوی خطابوں کو حاصل کرنے کے لیے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے پھر خیال کرو کہ رضی اللہ عنہم کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضا مندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا۔
سوال: اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے کیا مراد ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: علمِ تعبیر الرؤیا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میںدیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دے دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ابوبکرؓ کی زندگی میں للہی وقف کا معیار اورمحک کیاتھا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں للہی وقف کا معیار اورمحک وہ تھا جو رسول اللہ ﷺ نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البیت لے کر حاضر ہو گئے۔
سوال: مالی قربانی کے کتنے فضل ہوتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺنے اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء کو یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔ اپنے روپوؤں کی تھیلی کا منہ بند کر کے کنجوسی سے نہ بیٹھ جاؤ ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا جتنی طاقت ہے کھول کر خرچ کرو۔ اللہ پر توکل کرو اللہ دیتا چلا جائے گا۔
سوال: حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓکی مالی قربانی کے متعلق حضرت مصلح موعود ؓ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپؑپر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔ حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔ اور اس کے علاوہ مقدمہ پر بھی خرچ ہو رہا ہے۔ لہٰذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ تقریباً چار سو پچاس روپے ملی تھی۔وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دی۔ ایک دوست نے سوال کیاکہ آپ گھر کی ضروریات کے لیے کچھ رکھ لیتے تو انہوں نےکہا کہ خدا کا مسیح لکھتا ہے کہ دین کے لیے ضرورت ہے تو پھر اَور کس کے لیے رکھ سکتا ہوں۔ غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لیے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔
سوال: قازقستان کے مبلغ سلسلہ ایان ابرائیف صاحب کے چندے کا ذکر کرتے ہوئے کیا کہتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قازقستان کے مبلغ سلسلہ ایان ابرائیف صاحب کے چندے کا ذکر کرتے ہوئے
کہتے ہیں کہ ایان ابرائیف صاحب نے کہا کہ میں نے زندگی میں ایسا وقت بھی دیکھا ہے جب میرے پاس روٹی خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مجھے کھانے پینے کی چیزیں قرض لینا پڑتی تھیں اور میری بیوی متفکر رہتی تھی کہ ہم آگے کیسے زندگی گزاریں گے لیکن ان حالات میں بھی کہتے ہیں کہ میں نے چندہ ادا کرنا شروع کر دیا اور اب بھی میرا یہ اصول ہے کہ جب بھی میرے پاس پیسے آتے ہیں تو سب سے پہلے میں چندہ ادا کرتا ہوں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب حسنِ سلوک ہے میرے ساتھ کہ جب بھی میں چندہ ادا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے بہتر مالی وسائل سے نواز دیتا ہے اور میری بیوی بعض دفعہ یہ پوچھتی ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں؟ تو میں اس کو یہی کہتا ہوں یہ سب چندے کی برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ادھار نہیں رکھتا اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جب تم مال کو میری خاطر خرچ کرو گے تو میں تمہیں دوں گا، بڑھا کے دوں گا اور اللہ تعالیٰ اپنا یہی وعدہ پورا کرتا ہے۔
سوال:مالی قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کس طرح نوازتا ہے؟
جواب:انڈیاسے وہاں کے ایک انسپکٹر صاحب لکھتے ہیں۔ ایک دوست ہیں ان کا وقف جدید کا چندہ چوبیس ہزار تھا۔ چند دن رہ گئے تھے انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ رقم ہے لیکن ایک اہم کام میں مَیں نے یہ رقم دینی ہے۔ تو انہیں میں نے کہا کہ یہ وقفِ جدید کے سال کا آخر ہے۔ آپ دیکھ لیں جو بھی آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ ابھی دینی ہے یا بعد میں دینی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اللہ پر توکل کرتا ہوں اور رقم چندے کی ادائیگی میں دے دی۔ دوسرے دن ہی موصوف کا فون آیا کہ کاروبار کی ایک بہت بڑی رقم کہیں پھنسی ہوئی تھی وہ اچانک مل گئی ہے اور پوری رقم تو نہیں ملی لیکن اس میں سے پچاس ہزار مل گئے ہیں اور باقی کا بھی دینے والے نے وعدہ کیا ہے کہ جلدی دے دوں گا۔ تو دیکھیں اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا کہ اچھا تم میری خاطر مال کی محبت کو چھوڑ رہے ہو اور ذاتی ضروریات کو چھوڑ رہے ہو، جماعتی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو میں تمہاری مدد کرتا ہوں تو اس طرح اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔