سوال: خطبہ کے شروع میں حضور انور نے کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 58تا 59 کی تلاوت فرمائی: کُلٌّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ۔ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّھُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْا َنْھٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْھَا۔ نِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ۔
سوال: ہر ایک چیز کو دنیا سے فنا ہونا ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں کیا فرماتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جو اس دنیامیں آئے گا اس نے جانا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ یعنی ہر چیزجو اس زمین پر ہے وہ فانی ہے اور آگے فرمایا کہ وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اور صرف تیرے ربّ کی ذات باقی رہنے والی ہے جو جلال اور اکرام والی ہے۔
سوال: جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں کیا حاصل ہوتا ہے؟
جواب:جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پچھلوں کے لئے بھی یہ نمونہ چھوڑ کر جاتے ہیں کہ دنیا کی فانی چیزوں کے پیچھے نہ دوڑنا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ اگر یہ تمہیں مل گئی توتمہیں دونوں جہان کی نعمتیں مل گئیں۔ وہ اپنے عمل سے اپنے پیچھے رہنے والوں کو، اپنی نسلوں کو یہ سبق دے کر جاتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ اللہ تعالیٰ کے اُس انعام کے مصداق ٹھہریں جس نے فرمایا ہے کہمَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَمُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَرَبِّہٖ یعنی جو بھی اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجرا س کے رب کے پاس ہے۔
سوال: اگر مرنے والے کے حق میں لوگ گواہی دیں تو اس پر کیا واجب ہو جاتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک حدیث میں آتا
ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے۔ وہاں بیٹھے ہوئے صحابہ نے ان کی تعریف کی۔ اس پر آپ ﷺنے فرمایا واجب ہو گئی۔ پھر ایک اور جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی برائی کی۔ حضور ﷺنے فرمایا واجب ہو گئی۔ حضرت عمرؓ نے جو پاس بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا حضور! کیا واجب ہو گئی۔ آپؐنے فرمایا جس کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی اس کے لئے دوزخ واجب ہو گئی۔ تم زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو یعنی نیکی اور بدی میں تمیز کی تم لوگوں کو توفیق دی گئی ہے۔
سوال: جو لوگ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایسے لوگ جو اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے حصہ لیتے ہیں اور آخرت میں بھی انشاء اللہ حصہ لیں گے۔
سوال: نیک عمل کرنے والوں کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نیک عمل کرنے والوں کا یہ ایسا عمدہ اور اعلیٰ اجر ہے کہ اس کے برابر کوئی اور اجر ہو نہیں سکتا۔ پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے نیک اعمال کے ایسے اجر پائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اس کی جنتوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔ ہمارے جو بزرگ گزشتہ دنوں فوت ہوئے ہم امید رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کے مستحق ہوئے ہوں، حقدار ٹھہرے ہوں۔ اُن لوگوں نے اپنی زندگیاں اس طرز پر ڈھالنے کی کوشش کی کہ نیک اعمال بجا لائیں۔ اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اور انسانیت کی خدمت میں گزاریں۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطرجو بھی چھوٹی سی کوشش انہوں نے کی اس کا کئی گنا بڑھ کر اجر عطا فرمائے۔
سوال: حضور انور نے حضرت مرزا عبدالحق صاحب کے کن اوصاف حمیدہ کا ذکر کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے تقریباً 106سال کی لمبی عمر عطا فرمائی۔ آپ کی پیدائش جنوری 1900ء کی تھی۔ حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کی اور اس بیعت کے رشتے کو اس طرح نبھایا کہ کوشش کی کہ اپنا حلیہ بھی وہی رکھیں جو ظاہری طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا تھا۔ چنانچہ مجھے ایک د فعہ انہوں نے خود بتایاکہ بیعت کے بعد پھر مَیں نے یہ کوشش کی کہ جو لباس حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پہنتے ہیں اسی طرح کا لباس پہنوں۔ چنانچہ شلوار، قمیص اور کوٹ اور سر پر پگڑی ہاتھ میں سوٹی وغیرہ اس طرح رکھنی شروع کی۔ ایک دفعہ انہوں نے بتایاکہ مَیں نے تو 9سال کی عمر میں (جبکہ بچہ تھا) دینی مسائل پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور ماشاء اللہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فوج میں داخل ہوئے تو آپ کے علم و عرفان کو چار چاند لگ گئے۔ چنانچہ آپ کے جلسہ سالانہ پر بڑے علمی خطابات ہوتے تھے۔ کئی کتابیں لکھی ہیں۔ بڑے علمی کام کئے ہیں۔ قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے رہے، سرگودھا میں ان کے کئی شاگرد ہیں۔ آپ کی شخصیت ایک گہرے علمی اور دینی ذوق رکھنے والی تھی۔ بغیر تیاری کے بھی کسی مضمون پر بولنا شروع کرتے تھے تو خوب حق ادا کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت کو ایسے علمی او رروحانی افراد عطا فرماتا رہے جو ہمیشہ سلطان نصیر ثابت ہوں۔
سوال: حضور انور نے صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبہ کے اوصاف حمیدہ کا کیا ذکر فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبہ کا جو میری خالہ بھی تھیں بلکہ ہم دونوں میاں بیوی کی خالہ تھیں۔ بڑی غیر معمولی طبیعت کی مالک تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے جو دوسرے بڑے بہن بھائی ہیں انہوں نے ایک دفعہ باتوں میں ان سے پوچھا کہ پہلے تو نام لیتے تھے اب ادب اور احترام کے دائرے میں ان کو مخاطب کرنے یا ان سے بات کرنے کے لئے آپ کس طرح ان کو مخاطب کرتی ہیں۔ تو کہنے لگیں کہ اب وہ خلیفہ وقت ہیں۔ مَیں تو خلیفہ وقت ہی کہتی ہوں تاکہ خلافت کا احترام قائم رہے۔ اور ذاتی رشتوں پر خلافت کا رشتہ مقدم رہے۔ میرے بارے میں کسی نے پوچھا کہ اب کس طرح مخاطب کریں گی۔ تو فرمانے لگیں کہ میرے نزدیک خلافت کا رشتہ سب سے مقدم ہے۔ جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتی تھی اسی طرح ان کو مخاطب کروں گی۔ خلافت کے بعد اپنی خالاؤں میں میری سب سے پہلی ملاقات شایدان سے ہوئی اور ان کی آنکھوں میں، الفاظ میں، بات چیت میں جو فوری غیر معمولی احترام مَیں نے دیکھا وہ حیران کن تھا۔ گو کہ میرے جو باقی بڑے رشتے تھے انہوں نے بھی اسی طرح اظہار کیا ہے، لیکن ان کو اور میری ایک اور بزرگ ہیں ان کومَیں نے فوری طور پر مل لیا تھا اور پہلا موقع تھا اس لئے فوری دل پر نقش ہو گیا۔
سوال: سوگ منانے کے ضمن میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سوگ منانے کے ضمن میں حضرت زینب بنت ابی سلمیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ مَیں ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی، ان دنوں آپ کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے میری موجودگی میں زرد رنگ کی خوشبو منگوائی۔ پہلے اپنی لونڈی کو لگائی پھر اپنے ہاتھ اور اپنے رخساروں پر ملی اور ساتھ ہی فرمایا : خدا کی قسم !مجھے خوشبو لگانے کی کوئی خواہش نہیں۔ مگرمَیں نے آنحضرت ﷺسے سنا ہے کہ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا اللہ تعالیٰ اور آخر ی دن پر ایمان لانے والی کسی بھی عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مرنے والے کا سوگ کرے۔ البتہ بیوی اپنے خاوند کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ میں گزارتی ہے۔