سوال:تقسیم ملک کے وقت کتنے درویش قادیان میں مقیم تھے؟
جواب:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق تقسیم ملک کے وقت تین سو تیرہ درویش قادیان میں مقیم رہے۔
سوال:سریہ زید بن حارثہ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:سریہ زید بن حارثہؓ کہلاتا ہے۔ یہ سریہ جُمَادَی الآخِرَة چھ ہجری کو بنو جُذام کی جانب حِسْمٰی میں ہوا۔ حِسْمٰی بنو جُذام کا ایک شہر تھا اور مدینہ سے آٹھ راتوں کی مسافت پر واقع تھا۔ اس زمانے کے سفر کے ذریعہ سے اس لحاظ سے سفر کافی لمبا تھا۔علامہ ابن قیّم نے زاد المعاد میں کہا ہے کہ یہ سریہ بلا شبہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے یعنی سات ہجری کا ہے۔
سوال: قبیلہ جُذَام کی شاخ بنو ضُبَیْب کے مدینہ آنے کا کیاذکرملتا ہے ؟
جواب:حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓایم اےفرماتے ہیں: ’’ابھی زید مدینہ میں پہنچے نہیں تھے کہ قبیلہ بنو ضُبیب کے لوگوں کو جو قبیلہ بنو جذام کی شاخ تھے زید کی اس مہم کی خبر پہنچ گئی اور وہ اپنے رئیس رِفاعہ بن زید کی معیت میں آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور ہماری بقیہ قوم کے لیے امن کی تحریر ہو چکی ہے۔‘‘ جو نہیں مسلمان ہوئے ان کے لیے بھی امن کی تحریر ہو چکی ہے جبکہ آپ کا جو بھیجا ہوا لشکر تھا اس نے حملہ کر کے ان میں سے بعضوں کو قتل کر دیا، کچھ کو قیدی بنا لیا، غنیمت حاصل کرلی اور ہم تو مسلمان ہو چکے ہیں اور ان کے بارے میں بھی امن کی تحریر ہے۔ ’’تو پھر ہمارے قبیلہ کو اس حملہ میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟‘‘ ہم پر کیوں حملہ کیا؟ ’’آپؐنے فرمایا ہاں یہ درست ہے۔‘‘ آپؐنے کوئی دلیل نہیں دی۔ آپ نے فرمایا تم ٹھیک کہہ رہے ہو ’’مگر زید کو اس کا علم نہیں تھا اور پھر جو لوگ اس موقع پر مارے گئے تھے ان کے متعلق آپؐنے بار بار افسوس کا اظہار کیا۔ اس پر رِفَاعہ کے ساتھی ابو زید نے کہا یا رسول اللہ! جو لوگ مارے گئے ہیں ان کے متعلق ہمارا کوئی مطالبہ نہیں۔ یہ غلط فہمی کا حادثہ ہو گیا مگر جو لوگ زندہ ہیں اور جو سازو سامان زید نے ہمارے قبیلہ سے پکڑا ہے وہ ہمیں واپس مل جانا چاہیے۔ آپؐنے فرمایا ہاں یہ بالکل درست ہے‘‘ اور وہ جو ہزاروں بھیڑیں اونٹ اور سامان وغیرہ تھا سو قیدی بھی تھے ’’آپؐنے فوراً حضرت علی کو زید کی طرف روانہ فرمایا اور بطور نشانی کے انہیں اپنی تلوار عنایت فرمائی اور زید کو کہلا بھیجا کہ اس قبیلہ کے جو قیدی اور اموال پکڑے گئے ہیں وہ چھوڑ دئیے جائیں۔ زید نے یہ حکم پاتے ہی فوراً سارے قیدیوں کو چھوڑ دیا اور غنیمت کا مال بھی واپس لوٹا دیا۔‘‘
سوال:سریہ وادی القریٰ کب ہوا؟
جواب: سریہ وادی القریٰ میں رجب چھ ہجری میں ہوا۔ سریہ حِسْمیٰ کے قریباً ایک ماہ بعد یہ ہوا اور آنحضرت ﷺنے پھر زید بن حَارِثَہ کو وادی القریٰ کی طرف روانہ فرمایا۔
سوال:وَادِی الْقُرٰی کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:وَادِی الْقُرٰی کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ مدینہ کے شمال میں شام کی طرف تقریباً تین سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس جگہ قبیلہ مَذْحِجْ اور قُضَاعَہ کے لوگ جمع تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قبیلہ مُضَر کے کچھ خاندان وہاں جمع تھے مگر لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔
سوال: سریہ عبدالرحمٰن بن عوفؓکے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سریہ عبدالرحمٰن بن عوفؓکا ذکر ملتا ہے۔ یہ سریہ شعبان چھ ہجری کو دُوْمَۃُ الْجَنْدَل کی جانب ہوا۔ دومۃ الجندل مدینہ کے شمال میں شامی سرحد کے قریب ترین مقام، مدینہ سے تقریباً 450 کلو میٹر کے فاصلہ پر تھا۔
سوال:سریہ عبدالرحمٰن بن عوفؓکے حالات و واقعات کا حضور انور نے کیا ذکر فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا : اس سریہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوفؓکو حکم دیا کہ رات کو دُومۃ الجندل کی طرف روانہ ہوں۔ آپ کے لشکر کا پڑاؤ جُرْفْ مقام پر تھا اور وہ سات سو افراد تھے۔ جُرْف کے بارے میں لکھا ہے کہ مدینہ منورہ سے تین میل شمال کی جانب ایک جگہ تھی۔
سوال: سریہ حضرت علی ابن ابی طالبؓکے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہ سریہ شعبان چھ ہجری کو ہوا۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت علیؓکو سو آدمیوں کے ساتھ فَدَک میں بنو سعد بن بَکر کی طرف بھیجا۔ فدک کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ مدینہ سے چھ رات کی مسافت پر خیبر کے قریب ایک بستی ہے۔ سات ہجری میں غزوۂ خیبر کے موقع پر یہ علاقہ جنگ کے بغیر فتح ہو ا تھا۔ اب یہ ایک بڑا شہر ہے جہاں کھجور اور زراعت کی کثرت ہے۔ آجکل اس کو الحائط کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺکویہ بات پہنچی کہ انہوں نے ایک لشکر جمع کر رکھا ہے، ان لوگوں نے، دشمنوں نے اور وہ خیبر کے یہود کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت علیؓرات کو چلتے تھے اور دن کو چھپتے تھے۔
سوال: سریہ حضرت ابوبکرؓکب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا یہ سریہ بنو فَزَارَہ کی طرف تھا۔ یہ سریہ چھ ہجری میں ہوا۔ بنو فزارہ نجد میں وادی القرٰی میں آباد تھے اور وادی القرٰی مدینہ کے شمال میں شام کی طرف تقریباً تین سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سوال: حضور انور نے مکرم طیّب علی صاحب درویش کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے بیان فرمایا:مکرم طیّب علی صاحب بنگالی درویش قادیان۔مورخہ11دسمبر 2024ء کو ستانوے سال کی عمر میں اِنہوں نے وفات پائی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔1942ء میں آپ کو ڈھاکہ میں باقاعدہ بیعت فارم پُر کر کے بیعت کی توفیق ملی۔1945ء میں پہلی بار جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہوئے اور حضرت مصلح موعودؓسے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ حضرت مصلح موعودؓکے ارشاد کے مطابق تقسیمِ ملک کے وقت تین سو تیرہ درویش قادیان میں مقیم رہے، آپ اِن میں سے آخری تھے، جن کی وفات ہو گئی ہے۔ اب قادیان میں مزید کوئی درویش نہیں رہا اور قادیان کا یہ پہلا جلسہ ہے جو کسی درویش کے بغیر ہو رہا ہے، آج سے شروع ہے۔اب قادیان میں رہنے والی نئی نسل کا کام ہے کہ اپنے اِن قربانی کرنے والے بزرگوں کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے وفا اور اخلاص سے قادیان میں اپنی زندگیاں گزاریں۔ الله تعالیٰ اِن کو توفیق بھی دے۔