سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس طرح بندوں کے حقوق ادا کیا کرتے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام باہر شہر سے واپس آئے تو مکان میں جب داخل ہو رہے تھے تو کسی سوالی نے (سائل نے) دور سے سوال کیا۔ اس وقت بہت سارے لوگ وہاں تھے۔ ان ملنے والوں کی آوازوں میں اس سوالی کی آواز دب گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اندر چلے گئے، تھوڑی دیر کے بعد جب لوگوں کی آوازوں سے دور ہو جانے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کانوں میں اس سائل کی دکھ بھری آواز گونجی تو آپ نے باہر آ کر پوچھا کہ ایک سائل نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت وہ تو اس وقت یہاں سے چلا گیا ہے۔ اس
کے بعد آپ اندرون خانہ تشریف لے گئے مگر دل بے چین تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر اسی سائل کی (سوالی کی) پھر آواز آئی اور آپ لپک کر باہرآئے اور اس کے ہاتھ میں کچھ رقم رکھ دی اور ساتھ ہی فرمایا کہ میری طبیعت اس سائل کی وجہ سے بے چین تھی اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ خدا اسے واپس لائے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں روحانی بیماریوں سے دنیا نے کیسے نجات حاصل کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں کہ کابل سے آئی ہوئی ایک غریب مہاجر احمدی عورت تھی جس نے غیر معمولی حالات میں حضرت مسیح موعودؑ کے دم عیسوی سے شفا پائی۔ ان کا نام امۃ اللہ بی بی تھا۔ خوست کی رہنے والی تھیں جو کابل میں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ شروع شروع میں اپنے والد اور چچا سید صاحب نور اور سید احمدنور کے ساتھ قادیان آئیں تو اس وقت ان کی عمر
بہت چھوٹی تھی اور ان کے والدین اور چچا چچی حضرت سید عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد قادیان چلے آئے تھے۔ امۃ اللہ صاحبہ کہتی ہیں کہ بچپن میں ان کو آشوب چشم کی سخت بیماری تھی اور آنکھوں کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ انتہائی درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے وہ آنکھ کھولنے کی طاقت نہیں رکھتی تھیں۔ ان کے والدین نے بہت علاج کروایا مگر کوئی فرق نہیں پڑا اور تکلیف بڑھتی گئی۔ ایک دن جب ان کی والدہ پکڑ کر ان کی آنکھوں میں دوائی ڈالنے لگیں تو وہ یہ کہتے ہوئے بھاگ گئیں کہ میں تو حضرت صاحب سے دم کراؤں گی۔ چنانچہ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں گرتی پڑتی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر پہنچ گئی اور حضور کے سامنے جاکے روتے ہوئے عرض کی کہ میری آنکھوں میں سخت تکلیف ہے اور درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے میں بہت بے چین رہتی ہوں اور اپنی آنکھیں نہیں کھول سکتی، آپ میری آنکھوں پر دم کر دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیکھا تو میری آنکھیں واقعی خطرناک طور پر ابلی ہوئی تھیں اور میں
درد سے بے چین ہو کر کراہ رہی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی انگلی پر اپنا تھوڑا سالعاب دہن لگایا اور ایک لمحے کے لئے رک کر (جس میں شاید دعا فرمائی ہو) بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ اپنی انگلی میری آنکھوں پر آہستہ سے پھیری اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا بچی جاؤ اب خدا کے فضل سے تمہیں یہ تکلیف پھر کبھی نہیں ہو گی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد آج تک جبکہ میں 70سال کی بوڑھی ہو چکی ہوں کبھی ایک دفعہ بھی میری آنکھیں دکھنے نہیں آئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دم کی برکت سے میں اس تکلیف سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئی ہوں۔ کہتی ہیں جس وقت دم کیا تھا اس وقت میری عمر صرف دس سال تھی اور آج ساٹھ سال ہو گئے ہیں اور آنکھوں میں کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔
سوال:حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓبچپن میں جب سخت بیمار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے کیا معجزانہ شفایابی عطا فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓکے بچپن کے ایک واقعہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت میر صاحب ایک دفعہ سخت بیمار ہو گئے اور حالت بہت تشویشناک ہو گئی اور ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے متعلق دعا کی تو عین دعا کرتے ہوئے خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِیْمِ یعنی تیری دعا قبول ہوئی اور خدائے رحیم و کریم اس بچے کے متعلق تجھے سلامتی کی بشارت دیتا ہے۔ چنانچہ اس کے جلد بعد حضرت میرصاحب توقع کے خلاف بالکل صحت یاب ہو گئے اور خدا نے اپنے مسیح کے دم سے انہیں شفا عطا فرمائی۔
سوال:جب حضرت بشیر احمدصاحبؓکو آنکھوں کی تکلیف علاج کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا تو خدا تعالیٰ نے کس طرح آپؓکو شفا عطا فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓجن کے حوالوں کا ذکر آ رہا ہے، ان کو بھی بچپن میں آنکھوں کی تکلیف تھی۔ جب ہر قسم کے علاج ناکام ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کے لئے دعا کی اور دعا نے پھر شفا کا معجزہ دکھایا۔ ا س بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خود فرماتے ہیں کہ:ایک دفعہ بشیر احمد میرا لڑکا آنکھوں کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور مدت تک علاج ہوتا رہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تب اسکی اضطراری حالت دیکھ کر میں نے جناب الٰہی میں دعا کی تو یہ الہام ہوا بَرَّقَ طِفْلِیْ بَشِیْر یعنی میرے لڑکے بشیر نے آنکھیں کھول دیں۔ تب اسی دن اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم سے اسکی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔
سوال: سردار نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم خاں کی بیماری کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کیا الہام عطا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حقیقۃ الوحی میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:سردار نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم خاں ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا تھا اور کوئی صورت جانبری کی دکھائی نہیں دیتی تھی، گویا مردہ کے حکم میں تھا۔ اس وقت میں نے اس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔ تب میں نے جناب الٰہی میں عرض کی کہ یا الٰہی! میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں خداتعالیٰ نے فرمایا مَنْ ذَاالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّابِاِذْنِہٖ یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الٰہی کے کسی کی شفاعت کر سکے۔ تب میں خاموش ہو گیا۔ بعد اس کے بغیر توقف کے یہ الہام ہوا اِنَّکَ اَنْتَ الْمَجَاز یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔ تب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی تو خداتعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر میں سے نکل کر باہر آیا اور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیا تھا کہ مدت دراز کے بعد وہ اپنے اصلی بدن پر آیا اور تندرست ہو گیا اور زندہ موجود ہے۔
سوال:خدا کے بندوں کی مقبولیت کو پہچاننے کیلئے کیا ضروری ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :یاد رہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لئے دعا کا قبول ہونا بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے بلکہ استجابت دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں۔ کیونکہ استجابت دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الٰہی میں قدر اور عزت ہے۔ اگرچہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں۔ کبھی کبھی خدائے عزّو جل اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے۔ لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین ِحضرت ِعزّت کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں ان کامقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہزار ہا میری دعائیں قبول ہوئی ہیں۔ اگرمیں سب کو لکھوں تو ایک بڑی کتاب ہو جائے۔