سوال:سَرِیہَّ عُکَّاشہَ بن مِحْصِن کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:سَرِیہَّ عُکَّاشہَ بن مِحْصِن کا غَمْر مَرْزُوْق کی جانب ہے۔ یہ سریہ ربیع الاوّل چھ ہجری میں ہوا۔
سوال:آنحضرت ﷺنے قبیلہ بنی اسد کے مقابلہ کے لئے کس کو بھیجا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: آنحضر ت ﷺنے اپنے ایک مہاجر صحابی عکاشہ بن مِحصنؓکو چالیس مسلمانوں پر افسر بنا کر قبیلہ بنی اسدکے مقابلہ کے لیے روانہ فرمایا۔
سوال:جب عکاشہ کی پارٹی غمر کے مقام پر پہنچی تو کیا ہوا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: قبیلہ بنی اسد اس وقت ایک چشمہ کے قریب ڈیرہ ڈالے پڑا تھا جس کا نام غَمْر تھا جو مدینہ سے مکہ کی سمت میں چند دن کے فاصلہ پر واقع تھا۔ عکاشہ کی پارٹی جلدی جلدی سفر کر کے غمر کے قریب پہنچی تا کہ انہیں شرارت سے روکا جا سکے ۔جو منصوبہ بنا رہے تھے وہ لوگ اس سے روکا جائے۔ تو معلوم ہوا کہ قبیلہ کے لوگ مسلمانوں کی خبر پاکر اِدھر اُدھر منتشر ہوگئے تھے۔ اس پر عکاشہؓ اور اس کے ساتھی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔
سوال: سریہ محمد بن مسلمہ کب ہوا اور رسول کریم ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو کدھر بھیجا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سریہ محمد بن مَسْلَمہ ربیع الثانی چھ ہجری کو پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو بنو ثَعْلَبَہ اور بَنُو عُوَال کی طرف بھیجا جو ذُوالقَصَّہ میں رہتے تھے۔اور ذوالقصہ مدینہ سے رَبَذَہ کے راستے پر چوبیس میل کے فاصلے پر ہے۔
سوال: حضور انور نے سریہ محمد بن مسلمہ کی کیا تفصیل بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺنے حضرت محمد بن مسلمہ ؓکو دس آدمی دے کر بھیجا۔ یہ جماعت رات کے وقت وہاں پہنچی۔ ان لوگوں نے حضرت محمد بن مسلمہؓ اور آپ کے ساتھیوں کو گھیر لیا اس حال میں کہ یہ سوئے ہوئے تھے اور دشمن کے سو آدمی تھے۔ مسلمانوں کو اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک کہ دشمن نے ان کا تیروں سے محاصرہ نہ کر لیا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ جلدی سے اٹھے اور آپ کے پاس کمان تھی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں میں زور سے آواز لگائی کہ ہتھیار سنبھال لو۔ وہ سب بھی جلدی سے اٹھے۔ رات کی ایک گھڑی تیر اندازی ہوتی رہی۔ کچھ وقت تک تیر اندازی آپس میں ہوئی۔ پھر بدوؤں نے نیزوں سے
حملہ کر کے باقی سب کو شہید کر دیا اور حضرت محمد بن مسلمہؓ زخمی ہو کر گر پڑے۔ آپ کے ٹخنے پر ایسی چوٹ لگی کہ آپ حرکت نہیں کر سکتے تھے اور ان لوگوں نے آپ کے کپڑے اتار لیے اور چلے گئے۔ ایک مسلمان آدمی کا مقتولین پر سے گزر ہوا اس نے اِنَّا للہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا۔ جب حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اس کو سنا تو حرکت کی۔ اس نے آپؓکو کھانا دیا اور آپؓکو سواری پر بٹھا کر مدینہ لے آیا۔
سوال:سَرِیہَّ حضرت ابو عبیدہ بن جَرَّاح کے بارے میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓایم اے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓایم اے:محمد بن مسلمہؓ کے ساتھیوں کی شہادت کے ذمہ دار دشمنوں سے بدلہ کے لیے بھی ایک سریے کا ذکر ملتا ہے ۔ یہ سَرِیہَّ حضرت ابو عبیدہ بن جَرَّاح کہلاتا ہے۔ اس کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے لکھا ہےکہ آنحضرت ﷺکو جب ان حالات کا علم ہوا۔یعنی ذُوالقَصَّہ میں محمد بن مسلمہؓ کے ساتھیوں کی شہادت کا علم ہوا ’’تو آپؐنے ابوعبیدہ بن الجراحؓکو جو قریش میں سے
تھے اور کبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے محمد بن مسلمہؓ کے انتقام کے لیے ذوالقصہ کی طرف روانہ فرمایا اور چونکہ اس عرصہ میں یہ بھی اطلاع موصول ہو چکی تھی کہ قبیلہ بنوثعلبہ کے لوگ مدینہ کے مضافات پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں اس لیے آپؐنے ابوعبیدہؓکی کمان میں چالیس مستعد صحابہ کی جماعت بھجوائی اور حکم دیا کہ راتوں رات سفر کرکے صبح کے وقت وہاں تک پہنچ جائیں ۔ ابوعُبَیدہؓنے تعمیل ارشاد میں یلغار کر کے عین صبح کی نماز کے وقت انہیں جا دبایا اور وہ اس اچانک حملہ سے گھبرا کر تھوڑے سے مقابلہ کے بعد بھاگ نکلے اور قریب کی پہاڑیوں میں غائب ہو گئے۔ ابوعُبَیدہؓنے مال غنیمت پر قبضہ کیا اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔اس مہم میں جن دو صحابہؓ کا ذکر ہے یعنی محمد بن مَسْلَمہؓاور ابوعبیدہؓ بن الجراح وہ دونوں کبار صحابہ میں سے تھے۔ محمد بن مسلمہؓ اپنے ذاتی اوصاف اور قابلیت کے علاوہ قتل کعب بن اشرف یہودی کے ہیرو تھے کیونکہ یہ مفسد انہی کے ہاتھ سے اپنے کیفر کردار کوپہنچا تھا۔
سوال:سَرِیہَّ زید بن حارِثہ کے بارے میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓایم اےنے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓایم اےفرماتے :سَرِیہَّ زید بن حارِثہَ جو بنو سُلَیم کی طرف
بھیجا گیا۔اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓلکھتے ہیں کہ ماہ ربیع الآخر 6؍ہجری میں آنحضرت ﷺنے اپنے آزاد کردہ غلام زیدبن حارثہ ؓکی امارت میں چند مسلمانوں کو قبیلہ بنی سُلَیم کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ قبیلہ اس وقت نجد کے علاقہ میں بمقام جَمُوم آباد تھا اور ایک عرصہ سے آنحضرت ﷺکے خلاف برسرپیکار چلا آتا تھا۔ چنانچہ غزوہ خندق میں بھی اس قبیلہ نے مسلمانوں کے خلاف نمایاں حصہ لیا تھا۔ جب زید بن حارثہؓ اور ان کے ساتھی جَمُوم میں پہنچے جو مدینہ سے قریباً پچاس میل کے فاصلہ پر تھا تو اسے خالی پایا مگر انہیں قبیلہ مُزَیْنَہ کی ایک عورت حلیمہ نامی سے جو مخالفین اسلام میں سے تھی اس جگہ کاپتہ لگ گیا جہاں اس وقت قبیلہ بنوسلیم کا ایک حصہ اپنے مویشی چرا رہا تھا۔ چنانچہ اس اطلاع سے فائدہ اٹھا کر زید بن حارثہؓ نے اس جگہ پر چھاپا مارا۔ اس اچانک حملہ سے گھبرا کر اکثر لوگ ادھر ادھر بھاگ کرمنتشر ہوگئے مگر چندقیدی اورمویشی مسلمانوں کے ہاتھ آگئے جنہیں وہ لے کر مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔ اتفاق سے ان قیدیوں میں حلیمہ کا خاوند بھی تھا اور ہرچند کہ وہ حربی مخالف تھاجنگ لڑنے والا تھا۔آنحضرت ﷺنے حلیمہ کی اس امداد کی وجہ سےیعنی جو اس نے معلومات مہیا کی تھیں اس کی وجہ سے ’’نہ صرف حلیمہ کو بلا فدیہ آزاد کر دیا بلکہ اس کے خاوند کوبھی احسان کے طور پر چھوڑ دیا اور حلیمہ اور اس کا خاوند خوشی خوشی اپنے وطن کو واپس چلے گئے۔