اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-27

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ18؍اگست 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت ﷺسے کیا اعلان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت ﷺسے یہ اعلان کروایا کہ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ یعنی تو کہہ کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور بخش دے گا، تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔
سوال: آنحضرت ﷺکا خدا تعالیٰ سے تعلق کے متعلق حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جس شخصیت کا اللہ تعالیٰ سے یہ تعلق ہو کہ اس کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو جائے اور اس کے واسطے سے دعا مانگنے سے گناہ معاف ہو جائیں اس کا اپنا تعلق خداتعالیٰ سے کس قدر عظیم ہو گا اور اس کی عام باتوں کو بھی یقینا خداتعالیٰ دعا کے رنگ میں قبول کر لیتا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے اس اظہار کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ مَیں بشری تقاضے کے تحت ایک عام بات بھی کروں تو وہ دعا کا رنگ اختیار کر سکتی ہے اور کسی دوسرے کے لئے ابتلاء یا امتحان کا موجب بن سکتی ہے۔ اس لئے آپؐفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب سے یہ شرط رکھی ہے کہ اے میرے پروردگار میں بھی ایک عام آدمی اور عام انسانوں کی طرح غصے میں آ جاتا ہوں اور خوش بھی ہوتا ہوں جس طرح دوسرے لوگ خوش ہوتے ہیں پس اگر میں کسی انسان کے بارے میں بددعا کروں اور وہ درحقیقت اس کا اہل نہ ہو تو میری یہ دعا ہے کہ اے میرے اللہ ! میری یہ بددعا اس کی پاکیزگی اور قیامت کے دن درجات کی بلندی کا باعث بن جائے۔ پس یہ تھا آپؐکو اپنے خدا پر اپنی دعاؤں کی قبولیت کے بارے میں یقین۔ اور یہ اس لئے تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور یہ کس طرح ہو
سکتا ہے کہ محبوب اپنے محبوب کی ذرا سی بات کو بھی ٹال دے۔ آپؐکے اس مقام کا دشمن کو بھی یقین تھا، وہ چاہے آپ کے خدا کی طرف سے ہونے کے قائل تھے ۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کے بارے میں کیا بیان فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں کہ:’’میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدؐ ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ ‘‘
سوال:جب قریش نے رسول کریم ﷺکی تکذیب اور نافرمانی کی تو آپ ﷺنے ان کے خلاف کیا دعا کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں آتا ہے مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ جب قریش نے رسول کریم ﷺکی تکذیب اور نافرمانی کی تو آپ نے ان کے خلاف یہ دعا کی۔ اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیْھِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسُفَ۔ اے اللہ ! میری مشرکین کے مقابلے پر اس طرح سات سالوں کے ذریعہ سے مدد فرما جس طرح تو نے یوسف کی سات سالوں کے ذریعہ سے مدد فرمائی تھی۔
سوال:آنحضرت ﷺ کی دشمن کیلئے بد دعا اور اسکی قبولیت کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں آپؐکی دشمن کے لئے بددعا اور اس کی قبولیت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺکعبہ کے سائے میں نماز ادا کر رہے تھے کہ ابو جہل اور قریش کے چند لوگوں نے مشورہ کیا۔ مکہ کے ایک کنارے پر اونٹ ذبح کئے گئے تھے، انہوں نے بھیجا اور وہ اونٹ کی اوجڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم ﷺکے اوپر لا کر رکھ دیا۔ حضرت فاطمہ آئیں اور اسے آپؐکے اوپر سے اٹھایا۔ اس پر آپؐنے فریاد کی اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال، اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال، اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بددعا ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابو مُعیط وغیرہ کے متعلق تھی۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سب کو بدر کے میدان میں مقتولین میں دیکھا۔
سوال: رسول کریم ﷺکی دعا کے طفیل حضرت انس رضی اللہ عنہ پر کیا افضال نازل ہوئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت انس رضی اللہ
تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! اپنے خادم انس کے لئے دعا کریں۔ آپؐنے دعا کی اے اللہ! اس کے اموال اور اس کی اولاد میں برکت ڈال دے اور جو کچھ تو اسے عطا کرے اس میں برکت ڈال۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس کا ایک باغ تھا، اس دعا کے بعد سال میں دو دفعہ پھل دیتا تھا۔ پھرآپ ﷺنے حضرت انس کے لئے کثرت مال اور اولاد کی جو دعا مانگی تھی اس کے نتیجہ میں حضرت انس کی زندگی میں 80کے قریب آپ کے بیٹے اور پوتے اور پوتیاں اور نواسے نواسیاں تھیں اور آپ نے 103 یا بعض روایتوں میں آتا ہے کہ 110سال تک عمر پائی۔
سوال:آنحضرت ﷺ کی دعا کے طفیل حضرت ابو ہریرہؓکی یاداشت تیز ہونے کے متعلق حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابوہریرہ ؓ کو آنحضرت ﷺکی مجلس میں ہر وقت موجود رہنے اور آپ کی بابرکت باتیں سننے اور انہیں یاد رکھنے کا اس قدر شوق تھا کہ جب آپ شروع میں آئے ہیں تو ذہن اتنا تیز نہیں تھا، تمام باتیں یاد نہیں رہتی تھیں تو بڑے فکر مند ہوتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک روز اپنی اس کمزوری کا آنحضرت ﷺکی خدمت میں ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ حضرت ابوہریرہ خود ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں بھول جاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ۔ حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے چادر پھیلائی تو نبی کریم ﷺنے دعا کی۔ کہتے ہیں اس دعا کے بعد بہت ساری باتیں اور حدیثیں میں نے سنیں مگر میں ان میں سے ایک بھی بات نہیں بھولا۔