اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-27

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ13؍دسمبر 2024بطرز سوال وجواب

سوال:سریّہ قُرْطَاء کب ہوا؟
جواب : حضور انور نے فرمایا:یہ سریّہ دس محرّم 6 ہجری میں ہوا ۔
سوال: دشمن قوم مدینہ پر کیا کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے؟
جواب : حضورِ انور نے فرمایا: دشمن قوم مدینہ پر حملہ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے کس کوقُرْطَا ء کی جانب روانہ فرمایا؟
جواب : حضورانور نے فرمایا: آنحضرتؐنے حضرت محمدبن مَسْلَمَہؓ کو تیس سواروں کے ہمراہ قُرْطا کی جانب بھیجا۔
سوال: صحابہؓ کی سوچ ثمامہ کے متعلق کیا تھی اور آنحضرت ﷺ ثمامہ کے متعلق کیا سمجھتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:صحابہؓ یہ سمجھے ہوں گے کہ اب ثمامہ اپنے وطن کی طرف واپس لَوٹ جائے گا مگر آنحضرتؐسمجھ چکے تھے کہ ثمامہ کا دل مفتوح ہو چکا ہے۔
سوال: ثمامہ بن اثال نے آنحضرت ﷺ سے محبت اورآپ کی بستی سے محبت کا اظہار کن الفاظ میں کیا؟
جواب:یا رسول اللہ(ﷺ)! ایک وقت تھا کہ مجھے تمام دنیا میں آپؐکی ذات سے اور آپؐکے دین سے اور آپؐکے شہر سے سب سے زیادہ دشمنی تھی لیکن اب مجھے آپؐکی ذات اور آپؐکا دین اور آپؐکا شہر سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
سوال: سریّہ قُرْطَاء کے متعلق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا تحریر فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اِس کی تفصیل میں مختلف کتب و تواریخ سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓنے جو تحریر فرمایا ہے، وہ اِس طرح ہے کہ ابھی ۶؍ہجری شروع ہی ہوا تھا اور قمری سال کے پہلے مہینہ یعنی محرّم کے ابتدا ہی کی تاریخیں تھیں کہ آنحضرت ﷺکو اہل ِنجد کی طرف سے خطرہ کی اطلاعات پہنچیں۔ یہ اندیشہ قبیلہ قُرْطَاء کی طرف سے تھا، جو قبیلہ بنو بکر کی ایک شاخ تھا اور نجد کے علاقہ میں بمقام ضریّہ آباد تھا، جو مدینہ سے سات یوم کی مسافت پر واقع تھا۔
سوال: حضور انور نے ثمامہ بن اُثال کے قبول اسلام کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سریہ قُرْطا کی واپسی پر ثُمامہ بن اُثال کے قید کیے جانے کا واقعہ پیش آیامدینہ پہنچ کر جب ثُمامہ کو آنحضرتؐکے سامنے پیش کیا گیا تو آپؐنے اُسے دیکھتے ہی پہچان لیا اور محمدبن مَسْلَمَہ اور اُن کے ساتھیوں سے فرمایا کہ جانتے ہو یہ کون شخص ہے؟ اُنہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، جس پر آپؐنے اُن پر
حقیقتِ حال ظاہر کی۔ اِس کے بعد آپؐنے حسبِ عادت ثُمامہ کے ساتھ نیک سلوک کیےجانے کا حکم دیا اور پھر اندرونِ خانہ تشریف لے جا کر گھر میں ارشاد فرمایا کہ جو کچھ کھانے کے لیے تیار ہو ثُمامہ کے لیے باہر بھجوا دو۔ اِس کے ساتھ ہی آپؐنے صحابہؓ سے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ثُمامہ کو کسی دوسرے مکان میں رکھنے کی بجائے مسجدِ نبوی کے صحن میں ہی کسی ستون کے ساتھ باندھ کر قید رکھا جائے، جس سے آپؐکی غرض یہ تھی کہ تاآپؐکی مجالس اور مسلمانوں کی نمازیں ثُمامہ کی آنکھوں کے سامنے منعقد ہوں اور اُس کا دل اِن روحانی نظاروں سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف مائل ہو جائے۔اُن ایّام میں آنحضرتؐہر روز صبح کے وقت ثُمامہ کے قریب تشریف لے جاتے اور حال پوچھ کر دریافت فرماتے کہ ثُمامہ! بتاؤ اب کیا ارادہ ہے؟ ثُمامہ جواب دیتا! اے محمد ! (ﷺ ) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپؐکو اِس کا حق ہے کیونکہ میرے خلاف خون کا الزام ہے لیکن اگر آپؐاحسان کریں تو آپؐمجھے شکر گزار پائیں گے اور اگر آپؐفدیہ لینا چاہیں تو میں فدیہ دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ تین دن تک یہی سوال و جواب ہوتا رہا۔ آخر تیسرے دن آنحضرتؐنے از خود
صحابہؓ سے ارشاد فرمایا کہ ثُمامہ کو کھول کر آزاد کر دو۔ صحابہ نے فوراً آزاد کر دیا اور ثُمامہ جلدی جلدی مسجد سے نکل کر باہر چلا گیا۔ غالباً صحابہؓ یہ سمجھے ہوں گے کہ اب وہ اپنے وطن کی طرف واپس لَوٹ جائے گا مگرآنحضرتؐسمجھ چکے تھے کہ ثُمامہ کا دل مفتوح ہو چکا ہے، اب اُس پر آنحضرتؐکی قوتِ قدسیّہ کا اثر ہو چکا ہےاور نتیجہ بھی یہی نکلا۔چنانچہ وہ ایک قریب کے باغ میں گیا اور وہاں سے نہا دھو کر واپس آیا اور آتے ہی آنحضرتؐکے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا۔ اِس کے بعد اُس نے آنحضرتؐسے عرض کیا کہ یا رسول اللہ(ﷺ)! ایک وقت تھا کہ مجھے تمام دنیا میں آپؐکی ذات سے اور آپؐکے دین سے اور آپؐکے شہر سے سب سے زیادہ دشمنی تھی لیکن اب مجھے آپؐکی ذات اور آپؐکا دین اور آپؐکا شہر سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
سوال: مسلمان ہونے کے باعث ثُمامہؓ نے آنحضرتؐسے کیا عرض کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسلمان ہونے کے باعث ثُمامہؓ نے آنحضرتؐسے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ! جب آپؐکے آدمیوں نے مجھے قید کیا تھا تو اُس وقت مَیں خانہ کعبہ کے عُمرہ کے کے لیے جا رہا تھا، اب مجھے کیا ارشاد ہے؟ آپؐنے اِس کی اجازت مرحمت فرمائی اور دُعا کی اور ثُمامہ مکّہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
سوال: جب ثمامہ نے جوش ایمان میں آکر قریش میں برملا تبلیغ شروع کر دی تو قریش نے کیا کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ثُمامہ نے جوشِ ایمان میں قریش کے اندر بر ملا تبلیغ شروع کر دی۔ قریش نے یہ نظارہ دیکھا تو اُن کی آنکھوں میں خون اُتر آیا اور انہوں نے ثُمامہ کو پکڑ کر ارادہ کیا کہ اُسے قتل کر دیں۔ مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ یمامہ کے علاقے کا رئیس ہے اور یمامہ کے ساتھ مکہ کے گہرے تجارتی تعلقات ہیں وہ اِس ارادہ سے باز آگئے اور ثُمامہ کو بُرا بھلا کہہ کر چھوڑ دیا ہے ۔
سوال: ثُمامہؓ نے مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے قریش مکہ سے کیا کہا؟
جواب:ثُمامہؓ نے مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے قریش مکہ سے کہا خدا کی قسم! آئندہ یمامہ کے علاقہ سے تمہیں غلہ کا ایک دانہ نہیں آئے گا جب تک کہ رسول اللہؐ اِس کی اجازت نہ دیں گے۔
سوال: اپنے وطن پہنچ کر ثمامہؓ نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اپنے وطن میں پہنچ کرثُمامہؓ نے واقعی مکّہ کی طرف یمامہ کے قافلوں کی آمد ورفت روک دی اور چونکہ مکّہ کی خوراک کا بڑا حصّہ یمامہ کی طرف سے آتا تھا، اِس لیےاِس تجارت کے بند ہو جانے سےقریش مکّہ سخت مصیبت میں مبتلا ہو گئے اور ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اُنہوں نے گھبرا کر آنحضرتؐکی خدمت میں خط لکھا کہ آپ ہمیشہ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور ہم آپؐکے بھائی بند ہیں، ہمیں اِس مصیبت سے نجات دلائیں۔