سوال:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی ؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ المؤمن کی آیت نمبر 66 اور سورۃ النمل کی آیت نمبر 63 تلاوت فرمائی ھُوَالْحَیُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(المؤمن: 66)
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ۔ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ۔ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ(النمل: 63)
سوال: اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب کے کیا معنی ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی ایک صفت مجیب ہے جس کے معنے ہیں دعا کو سننے والا یا ایسی ہستی جس سے جب سوال کیا جائے اور دعا مانگی جائے تو عطا کرتا ہے، نوازتا ہے، قبول کرتا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے ہمیں کس خدا کی پہچان کروائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس نبی ﷺکو ماننے والے ہیں جس نے ہمیں اس خدا کی پہچان کروائی جو ہمیں مایوسیوں کی گہری کھائیوں سے نکال کر امیدوں کی روشنی عطا فرماتا ہے اور پھر صفت مجیب کا مزید فہم و ادراک عطا کرتے ہوئے اپنے انعامات اور فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے وہ راستے دکھاتا ہے جو اس کے قرب کو حاصل کرنے والے اور اس کی بلندیوں پر لے جانے والے ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خدا کے ساتھ کس طرح کا تعلق تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:ہمارا
زندہ حی و قیوم خدا ہم سے انسان کی طرح باتیں کرتا ہے ہم ایک بات پوچھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں تو قدرت کے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور قبول کرنے کی اطلاع دیتا ہے۔
سوال: ہمیں زمانے کے امان کے ساتھ جڑ کر کیا حاصل ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس زمانے میں ہمیں زمانے کے امام کے ساتھ جڑ کر دعاؤں کی قبولیت کا بھی فہم و ادراک حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کا بھی فہم حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے کا بھی ادراک حاصل ہوا کیونکہ زمانے کے امام کے ساتھ چمٹنے سے اللہ تعالیٰ ان ماننے والوں کو بھی ہر ایک کے اپنے تعلق کے معیار کے مطابق جو اس کا خداتعالیٰ سے ہے، اپنی صفات کے جلوے دکھاتا ہے۔
سوال: کب اللہ تعالیٰ ہماری دعائوں ، پکار کو قبول کرے گا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب دنیا کے تمام ذرائع خدا کے مقابلے پر ہیچ سمجھ کر چھوڑیں گے اور خالصۃً اسی کے ہو کر اس کو پکاریں گے پھر وہ ان پکارنے والوں کی پکار سنے گا، نوازے گا اور قبول کرے گا۔
سوال: ہمیں دعا کرتے ہوئے کس بات کو اپنے مدنظر رکھنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہمیشہ ہمارے ذہن میں دعا کرتے ہوئے یہ بات ہونی چاہئے کہ وہ ایک ہی ہمارا رب ہے۔ جب اس نے بغیرمانگے ہمارے لئے اتنے انتظامات کئے ہوئے ہیں تو جب ہم خالص ہو کر اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی عبادت کریں گے، اس کے احکامات پر عمل کریں گے تو کس قدر وہ پیارا خدا جو اپنے بندوں سے بے انتہا پیار کرتا ہے، ہماری طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے انعاموں اور فضلوں سے ہمیں نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو خود کہہ دیا ہے کہ میں دعائیں سنتا ہوں، مجھے پکارو تاکہ میں تمہاری سنوں تو پھر کس قدر بدقسمتی ہے کہ ہم ضرورت کے وقت دوسری چیزوں پر زیادہ انحصارکریں، دوسروں پر زیادہ انحصار کریں اور اپنے پیارے رب کو پکارنے کی طرف کم توجہ ہو۔
سوال: دعا کرتے وقت کیا کیفیت ہونی چاہئے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
دعا کرتے وقت بے دلی اور گھبراہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے اور جلدی ہی تھک کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اس وقت تک ہٹنا نہیں چاہئے جب تک دعا اپنا پورا اثر نہ دکھائے۔ جو لوگ تھک جاتے اور گھبرا جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہ محروم رہ جانے کی نشانی ہے۔ میرے نزدیک دعا بہت عمدہ چیز ہے اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں، خیالی بات نہیں۔ جو مشکل کسی تدبیر سے حل نہ ہوتی ہو اللہ تعالیٰ دعا کے ذریعہ اسے آسان کر دیتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ دعا بڑی زبردست اثر والی چیز ہے۔ بیماری سے شفا اس کے ذریعہ ملتی ہے۔ دنیا کی تنگیاں مشکلات اس سے دور ہوتی ہیں۔ دشمنوں کے منصوبے سے یہ بچا لیتی ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو دعا سے حاصل نہیں ہوتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو پاک یہ کرتی ہے۔ اور خداتعالیٰ پر زندہ ایمان یہ بخشتی ہے… بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دعا پر ایمان ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے۔ اور خداتعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام احباب جماعت کو دعا کی نصیحت کرتے ہوئے کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام احباب جماعت کو دعا کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعائیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پُر کرو۔ جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خداتعالیٰ اسے برباد نہیں کیا کرتا۔ لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں۔ اگر تم ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہت پکا ہے، وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کرے گا جیسا کہ فاسق فاجر سے کرتا ہے۔
سوال: دعا میں کس طرح کی طاقت ہوتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :دعا ایک زبردست طاقت ہے جس سے بڑے بڑے مشکل مقام حل ہوجاتے ہیں اور دشوارگزار منزلوں کو انسان بڑی آسانی سے طے کر لیتا ہے۔ کیونکہ دعا اس فیض اور قوت کو جذب کرنے والی ہے جو اللہ تعالیٰ سے آتی ہے۔ جوشخص کثرت سے دعاؤں میں لگا رہتا ہے وہ آخر اس فیض کو کھینچ لیتا ہے اور خداتعالیٰ سے تائید یافتہ ہو کر اپنے مقاصد کو پا لیتا ہے۔ ہاں نری دعا خداتعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ اوّل تمام مساعی اور مجاہدات کو کام میں لائےاور اس کے ساتھ دعا سے کام لے، اسباب سے کام لے۔ اسباب سے کام نہ لینا اور نری دعا سے کام لینا یہ آداب الدعا سے ناواقفی ہے اور خداتعالیٰ کو آزمانا ہے۔ اور نرے اسباب پر گر رہنااور دعا کو لاشی محض سمجھنا یہ دہریت ہے۔ یقینا سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔ جوشخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی۔ وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے ارد گرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن جو دعاؤں سے لاپروا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہوجائے گا اور اس کی ہڈی بوٹی نظر نہ آئے گی۔ اس لئے یاد رکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ ہی یہی دعا ہے۔ یہی دعا اس کے لئے پناہ ہے اگر وہ ہر وقت اس میں لگا رہے۔
٭٭٭