سوال: اگر کوئی مسلمان مرد مکّہ سے مدینے آئے گا اس کے لئے معاہدہ میں کیا شرط تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:معاہدےکی ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مرد مکّے سےمدینے آئے گا تو اسے واپس لوٹایا جائے گا لیکن اگر کوئی مرد مدینے سے مکّے جائے گا تو کفار اسے واپس کرنے کے پابندنہ ہوں گے۔
سوال: کس کو مدنی سیاست سے باہر لوگوں کو واپس مکّے پہنچانے کا ذمہ دار قرار دینا خلاف عقل بات ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مدنی سیاست سے باہر لوگوں کو واپس مکّے پہنچانے کا ذمہ دار آنحضرت ﷺ کو قرار دینا خلافِ عقل بات ہے۔
سوال:ـ رسول کریم ﷺ نے اپنے معاہدے کے الفاظ کو کس طرح پورا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آپؐنے معاہدے کے الفاظ کو بھی پورا کیا اور ابوبصیر کو مکّے والوں کے سپرد کرتے ہوئے مدینے سے رخصت کردیا۔
سوال: معاہدے میں رخنہ کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا بیان فرمایا ہے؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: اس معاہدے میں گوکہ مسلمان مردوں کی واپسی کے متعلق صراحتاً ذکر تھا مگر مسلمان عورتوں کا کوئی ذکر نہ تھا۔ابھی معاہدے پر تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ چند مسلمان عورتیں کفّارِ مکّہ سے چُھٹ کر مدینے پہنچ گئیں۔ ان میں سب سے اوّل نمبر پر مکّے کے فوت شدہ مشرک رئیس عقبہ ابن ابی معیط کی لڑکی امِّ کلثوم تھی، جو ماں کی طرف سے حضرت عثمان بن عفانؓکی بہن بھی لگتی تھی۔ امِّ کلثوم بڑی ہمت دکھا کر لمبا سفر پاپیادہ طےکرکے مدینے پہنچی اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ اس کے پیچھے پیچھے اس کے دو کافر رشتے دار بھی مدینے آگئے اور اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ گوکہ معاہدے میں صرف مرد کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر دراصل معاہدہ عام ہے اور مرد اور عورتوں دونوں پر مساوی اثر رکھتا ہے۔ امِّ کلثوم معاہدے کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس وجہ سے بھی کہ عورت کمزور جنس سے تعلق رکھتی ہے، واپسی کے لیے تیار نہ تھی۔ آنحضرتﷺ نے طبعاً اور انصافاً امِّ کلثوم کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ ان ہی دنوں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر کوئی عورت مکّے سے مدینے آئے تو اس کا اچھی طرح امتحان کرلو اور اگر وہ نیک بخت اور مخلص ثابت ہوتو اسے ہرگز واپس نہ لوٹاؤ۔ لیکن اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کا مہر اس کےمشرک خاوند کو لازماً اداکرو۔
سوال: ابو بصیر جب مسلمان ہوکر مدینے آگیا تو آنحضرت ﷺ نے اسے کفار کے ساتھ کیوں بھیجا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ابو بصیر جو مکّے کا رہنے والا تھا مسلمان ہوکر مدینے آگیا،مگر معاہدے کے مطابق آنحضرت ﷺ نے کفار کے مطالبے پر اسے کفار کے ساتھ بھیج دیا۔
سوال: جب مکّے کے دوسرے کمزور مسلمانوں کو ابو بصیر کے علیحدہ ٹھکانے کا علم ہو اتو انہوں نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب مکّے کے دوسرے کمزور مسلمانوں کو ابو بصیر کے علیحدہ ٹھکانے کا علم ہو اتو وہ بھی آہستہ آہستہ وہاں جمع ہونا شروع ہوگئے،ان ہی لوگوں میں رئیس مکّہ سہیل بن عمرو کا لڑکا ابو جندل بھی تھا۔ان لوگوں کی تعداد ستّر اور بعض روایات میں تین سَو تک بیان کی گئی ہے، اس طرح آہستہ آہستہ مدینے کے علاوہ ایک اور مسلمان ریاست وجود میں آگئی۔ چونکہ یہ علاقہ شام کے راستے میں تھا اس لیے ان مسلمانوں کی اکثر کفار کے ساتھ مڈھ بھیڑ جاری رہتی اور اس نئے محاذ سے تنگ آکر خود کفار نے آنحضرتﷺ سے سفارت کے ذریعے درخواست کی کہ ان مسلمانوں کو بھی مدینے بلوا لیں۔ جب آنحضرتﷺ کا خط ابو جندل اور ابو بصیر کے پاس پہنچا تو ابو بصیر بیمار ہوکر صاحبِ فراش تھے، انہوں نے بڑے شوق سے حضورؐکے خط کو ہاتھ میں تھامے رکھا اور اسی حالت میں ان کی وفات ہوگئی جبکہ باقی مسلمان مدینے آگئے۔
سوال: حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓنے مشرقین کے دو اعتراضات عورتوں کوواپس کرنے پر معاہدے کی خلاف ورزی اور ابو بصیر اور ابو جندل کے واقعے کے بارے میں کیا جواب دیا ہے؟
جواب:حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓفرماتے ہیں : ان اعتراضات کے جواب میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اوّل یہ معاہدہ کفارِ مکّہ کے ساتھ ہوا تھا جو پہلے دن سے مسلمانوں کے خلاف برسرِ پیکار چلےآرہے تھے۔ پھر یہ کہ خود کفارِ مکّہ کی گواہی موجودہے کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی چنانچہ جب ہرقل شہنشاہِ رُوم کو آنحضرت ﷺ کا تبلیغی خط ملا تو اس نے ابو سفیان کو بلایا اور یہی سوال کیا تو ابو سفیان نے جواباً کہا کہ نہیں! محمد(ﷺ) نے کبھی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے صحیح بخاری میں مرقوم الفاظ نقل کرکے فرمایا ہے کہ ان واضح اور غیر مشروط الفاظ کے ہوتے ہوئے یہ اعتراض کرناصرف بےانصافی نہیں بلکہ انتہائی بددیانتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ کی بعض روایتوں میں معاہدے کے الفاظ میں ’رجل‘کا لفظ نہیں بلکہ عام الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے مرد اور عورت دونوں مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو مضبوط روایت، جس میں ’رجل‘ کا لفظ آتا ہے اسی کو مقدم سمجھا جائے گا۔
دوسرا اعتراض جو ابو بصیر کے واقعے سے تعلق رکھتا ہے یہ بھی غور کرنے پر بالکل بودہ اعتراض معلوم ہوتا ہے۔ بےشک آنحضرتﷺ نے یہ معاہدہ کیا تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرتﷺ نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی؟ ہرگز نہیں!آپؐنے تو اس معاہدے کی پابندی کا شاند ار نمونہ دکھایا۔ غور کریں! ابو بصیر اسلام کی صداقت کا قائل ہوکر مکّے سے بھاگتا ہے، چھپتا چھپاتا مدینے پہنچ جاتا ہے، مگر اس کے ظالم رشتے دار اس کے پیچھے پہنچ جاتے ہیں اور اسے جبراً بزورِ تلوار واپس لے جانا چاہتے ہیں، دونوں فریق آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ ابو بصیر آنحضرت ﷺ سے بھرائی ہوئی آواز میں عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہﷺ! مجھے خدا نے اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اور مکّے واپس جانے میں دکھ اور تکلیف کی زندگی میرے سامنے ہے، آپؐجانتے ہیں خدا کے لیے مجھے واپس نہ بھجوائیں۔