اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

خطبہ بطرز سوال جواب 23 جنوری 2026

سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ایک نمایاں وصف کیا تھا؟

جواب: آپؐ بڑے دھیمے انداز میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔ جب آپؐ ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہوتی تو تسبیح کرتے، جب سوال کی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے کی آیت سے گزرتے تو پناہ طلب کرتے۔

سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع اور سجدہ کی کیفیت کیسی تھی؟

جواب: آپؐ کا رکوع آپؐ کے قیام جتنا ہی تھا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور آپؐ کا سجدہ بھی آپؐ کے قیام کے قریب قریب تھا۔

سوال: حضرت عائشہؓ نے ایک رات کی نماز کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟

جواب: ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی ایک ہی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے قیام فرمایا۔
سوال: حضرت ابوذرؓ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کون سی آیت صبح تک دہراتے رہے؟

جواب: اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ۔

سوال: اس آیت کی تکرار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کس جذبہ کا اظہار ہوتا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ کی مخلوق سے اور بندوں سے ہمدردی کے جذبات آپؐ کے دل میں تھے اس کی وجہ سے ان کی مغفرت کی دعا کرتے رہے۔

سوال: سورج چاند گرہن کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس بات کی تلقین فرمائی؟

جواب: جب تم ان دونوں کو دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، نماز پڑھو اور صدقہ دو۔

سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو کیا کرتے؟

جواب: تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے۔

سوال: بدر کے میدان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے فریاد کی؟

جواب: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ اِنْ تَھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِی الْاَرْضِ۔

سوال: حضرت ابوبکرؓ نے بدر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا عرض کیا؟

جواب: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپؐ کی اپنے رب کے حضور الحاح یعنی گریہ و زاری سے بھری ہوئی دعا آپؐ کے لیے کافی ہے۔ وہ آپؐ سے کیے گئے وعدے ضرور پورے فرمائے گا۔

سوال: بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کی کون سی بشارت عطا فرمائی؟

جواب: اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ۔

سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے بدر کے واقعہ سے کیا سبق بیان فرمایا؟

جواب: ہمیں بہرحال اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر وقت جھکے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کی وجہ سے کہیں اس میں کوئی تعطل پیدا نہ ہو جائے۔

سوال: حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی ایک خصوصیت کیا تھی؟

جواب: کسی کو کیا معلوم ہے کہ آپؐ پوشیدہ طور پر کس قدر مجاہدات اور عبادات میں مصروف رہتے تھے۔

سوال: حضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کیا منظر دیکھ کر رونا آیا؟

جواب: مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے… چٹائی کے نشان آپؐ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔

سوال: دنیا کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا مثال بیان فرمائی؟

جواب: مجھے دنیا سے کیا غرض؟ میں تو اس مسافر کی طرح گذارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزلِ مقصود کو جاتا ہو۔

سوال: اپنے قریبی رشتہ داروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تنبیہ فرمائی؟

جواب: مَیں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔

سوال: ابوطالب کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عزم کا اظہار کس طرح فرمایا؟

جواب: خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میری دائیں جانب سورج اور بائیں جانب چاند رکھ دیں تب بھی مَیں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا۔

سوال: حضرت مصلح موعودؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں کیا فرمایا؟

جواب: باوجود بہت بڑی جماعتی ذمہ داری کے، دن اور رات آپ عبادت میں مشغول رہتے تھے۔

سوال: قرآن سناتے وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس حالت میں دیکھا؟

جواب: آپ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔

سوال: طائف میں شدید تکلیف کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کے لیے کیا فرمایا؟

جواب: میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی اولاد سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

سوال: حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق انسانِ کامل کا اتم و اکمل فرد کون ہے؟

جواب: انسانِ کامل کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ، سید الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

سوال: اللہ تعالیٰ سے محبت حاصل کرنے کا قرآنی طریق کیا ہے؟

جواب:قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ۔

سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کے بارے میں کیا فرمایا؟

جواب: ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محرومِ ازلی ہے۔

سوال: حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق حقیقی توحید کس ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے؟

جواب: یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔