سوال: اللہ تعالیٰ نے روزے کیوں فرض کیے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے روزے فرض قرار دیئے ہیں جو ایک مجاہدہ ہے اور مجاہدہ ہی ہے جس سے تقویٰ میں ترقی ہوتی ہے اور خداتعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
سوال: بیماری یا سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے والے کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب: جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایّام میں پورے کرے۔
سوال: کیا بیماری یا سفر کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزے معاف ہو جاتے ہیں؟
جواب: اگر ایمان میں ترقی چاہتے ہو، اگر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو رمضان کے بعد روزے پورا کرنا ضروری ہے اور یہی ایک متقی کی نشانی ہے۔
سوال: روزہ چھوڑنے کے لیے بیماری کیسی ہونی چاہیے؟
جواب: جن کو کبھی امید نہیں کہ روزہ رکھنے کا موقع مل سکے، مثلاً ایک نہایت بوڑھا، ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بسبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال بھر اسی طرح گزر جائے گا ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں باقی اَور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزہ کے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے‘‘
سوال: ا ہر شخص صرف فدیہ دے کر روزے چھوڑ سکتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’ فدیہ تو… اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھول دینا ہے‘‘
سوال:روزہ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کس بات کی تلقین کرتا ہے؟
جواب: فطری مجبوریوں سے فائدہ تو اٹھاؤ لیکن تقویٰ بھی مدِّنظر ہو کہ ایسی حالت ہے جس میں روزہ ایک مشکل امر ہے، نہ کہ بہانے بنا کر۔
سوال:کیا روحانی فوائد کے علاوہ روزہ جسمانی لحاظ سے بھی کوئی اہمیت رکھتا ہے؟
جواب:آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ علاوہ روحانی ترقی کے روزہ تمہاری جسمانی صحت کے لئے بھی ضروری ہے۔
سوال: رمضان میں قرآن کریم کے نزول کا آغاز کس اہم پیغام کے ساتھ ہوا؟
جواب:اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ یعنی اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھ جس نے پیدا کیا ہے۔ اس پہلی وحی سے اس طرف توجہ دلا دی ک گئی کہ تمام کائنات اور ہر چیز کو پیدا کرنے والا خداتعالیٰ ہے۔ اس لئے وہی حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ اس سورۃ کو یعنی سورۃ علق کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ اللہ کا قرب پانے کے لئے اس کے حضور سجدہ اور عبادت ہی ایک ذریعہ ہے۔
سوال:روزے کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بار بار کیوں توجہ دلائی ہے؟
جواب: روزوں کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کا بار بار ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ یہ عبادت ایسی ہے جو اصلاحِ عمل کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
سوال: روزہ انسان کی عملی اصلاح میں کس طرح مدد دیتا ہے؟
جواب: اس سے اعمال کی اصلاح بھی ہوتی ہے، بہت سی بُرائیوں سے انسان خدا کی خاطر بچتا ہے، بہت سی جائز باتوں کو وقتی طور پر خدا کی خاطر ترک کرتا ہے۔
سوال: رمضان میں قرآن کریم کے نزول پر ایک مومن کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: ہمیں حکم دیا کہ تم عبادتوں کی طرف توجہ دو اور عبادات میں نکھار پیدا کرنے کے لئے، تزکیۂ نفس کے لئے، ایک عبادت جو خداتعالیٰ نے ہمیں بتائی وہ رمضان کے روزے ہیں۔
سوال:قرآن کریم کن لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے؟
جواب: یہ قرآن جو ہم نے رمضان میں اتارا ہے ھُدًی لِّلنَّاسِ ہے، تمام انسانوں کے لئے ہدایت اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ ہر زمانے کے انسان کے لئے ہدایت ہے۔
سوال:قرآن کریم کی ہدایت کی ایک نمایاں خصوصیت کیا ہے؟
جواب:یہ ایسی ہدایت ہے کہ جس میں حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے دلائل بھی ہیں اور کھلے نشانات بھی ہیں۔
سوال: رمضان میں اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کس طرح بجا لانی چاہیے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، اس نے ہم پر جو احسان کیا ہے کہ ہمیں اس گروہ میں شامل کیا جو اس کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے والے ہیں۔
سوال:رمضان میں کن امور کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے؟
جواب: جہاں شکرگزاری کے طور پر اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار اس مہینے میں قائم کرو، روزے رکھو جو ایک مجاہدہ بھی ہے، وہاں اخلاقی قدروں کو بھی بلند کرنے والے بنو۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے رمضان کی عظمت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویرِ قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے، کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔
سوال: رمضان میں نمازوں کی ادائیگی کے بارے میں کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: اس مہینے میں ایسی نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے حقیقت میں تزکیۂ نفس ہو۔
سوال: رمضان میں نمازوں کی صحیح روح کیا ہونی چاہیے؟
جواب: ہر نماز خالصۃً اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہو کر غیرُ اللہ سے آزاد ہو کر ادا کرنے کی کوشش ہو گی تو تبھی تزکیۂ نفس میں ممد ہو گی۔
سوال:رمضان میں نماز اور روزہ انسان کو کس مقام تک پہنچاتے ہیں؟
جواب: نمازیں جو خالصتاً شیطان سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ادا کی جاتی ہیں، یہ جلد انسان کو نفسِ لوّامہ کی منزلوں سے گزارتی ہوئی نفسِ مطمئنہ کی منزلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی جائیں گی۔
سوال:رمضان میں قرآن کریم سے تعلق بڑھانے کے لیے کیا نصیحت فرمائی گئی؟
جواب: قرآن کریم کی تلاوت، ترجمہ اور اس کے مطالب پر غور کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔ قرآن کریم کے احکام کو پڑھ کر اپنے اوپر لاگو کرنے کی بھی ہمیں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔
سوال: رمضان کے روزوں کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب: رمضان کے روزے رکھو تا کہ اپنے روحانی معیار کو بڑھا سکو۔
***