سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 152تا 153 کی تلاوت فرمائی کَمَآ اَرْسَلْنَافِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰـتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَاْلحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔ فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ
سوال: اللہ تعالیٰ کن لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مَنْ لَایَشْکُرُ النَّاسَ لَا یَشْکُرُاللّٰہَ یعنی جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتا۔
سوال: مسٹر کیتھ نے جلسہ منعقد کرنے کے متعلق کیا کردار ادا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مسٹر کِیتھ نے علاقے کے لوگوں اور کونسل کو ہمارا جلسہ منعقد کرنے کی اجازت اور اس کے لئے راہ ہموار کرنے میں بڑا کردار ادا کیا
ہے۔ ایک ایک ہمسائے کے پا س گئے، ان کو بتایا کہ جو مختصر عرصے میں میں نے ان لوگوں کو سمجھا ہے یہ وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ یہ لوگ تو کچھ اور ہی چیز ہیں۔ تو ان لوگوں اور اس فیملی کے ہم بہرحال شکر گزار ہیں ورنہ ان کو کیا پڑی تھی، زمین بیچ کر ایک طرف بیٹھ جاتے کہ تم جانو اور تمہارا کام جانے ہم نے تمہاری وکالت کرنے اور راہ ہموار کرنے کی کوئی ذمہ داری تو نہیں لی ہوئی، زمین بیچنی تھی بیچ دی۔ تو یہ ان کا بہت بڑا خلق ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔
سوال: پولیس جو ٹریفک کے لئے آئی تھی انہوں نے اپنے جذبات کا کیا اظہار کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: پولیس جو ٹریفک کیلئے آئی ہوئی تھی وہ بھی دیکھ کر حیران تھی کہ کس طرح ٹریفک کنٹرول ہو رہا ہے۔ بلکہ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ تمہارے خدام تو اس طرح ٹریفک کنٹرول کر رہے ہیں جس طرح انہوں نے پولیس کی ٹریننگ لی ہوتی ہے۔
سوال: حضور انور نے والنٹیئرز (volunteers) کا شکریہ کن الفاظ میں کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہمارے والنٹیئرز (volunteers) شکریہ کے مستحق ہیں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ دنیائے احمدیت میں جہاں بھی چلے جائیں یہ کام کرنے والے کارکن میسر آ جاتے ہیں جو لگاتار کئی کئی گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں اور یہی حال یہاں اس جلسہ میں بھی ہم نے دیکھا۔ اگر تھکتے بھی ہیں تو اظہار نہیں کرتے۔ اکثر کی ڈیوٹیاں ان کے پیشوں اور بعض کی ان کے مزاج سے بھی مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن مجال ہے جو ماتھے پر بل آئے۔ بڑی خوش اسلوبی سے اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔ ان میں بچے بھی ہیں، جوان بھی ہیں، بوڑھے بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں، بچیاں بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمومی طور پر مجھے ان کارکنان کے اچھے کام کی تعریف ہی لوگوں نے لکھی ہے، جو شامل بھی ہوئے تھے اور جو کام کرنے والے بھی تھے۔ بعض سرپھروں کی وجہ سے اِکَّا دُکَّا واقعات ہو جاتے ہیں، جہاں اپنے مزاج کی وجہ سے بعض کارکن ماحول کو خراب کر دیتے ہیں اورباوجود سمجھانے کے اپنے اختیارات سے تجاوز کر جاتے ہیں، تو انتظامیہ کو چاہئے کہ ایسے کارکن یا کارکنات جو ہیں ان کی ڈیوٹی ایسی جگہوں پر نہ لگائیں جو پبلک ڈیلنگ (Public dealing) کی جگہ ہو۔ لیکن بہرحال جیسا کہ میں نے کہا عمومی طور پر ڈیوٹیوں کے معیار لڑکیوں کے، لڑکوں کے، عورتوں مردوں کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھے رہے اور یقینا وہ سب شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے، ان کے اخلاص و وفا کو بڑھائے، ان میں یہ روح مزید بڑھاتا چلا جائے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی یہ ڈیوٹیاں ہمیشہ سر انجام دینی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیگر احکامات پر بھی عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے استغفار کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:۔
احمق حقیقت سے ناآشنا استغفار کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ جس قدر یہ لفظ پیارا ہے اور آنحضرت ﷺ کی اندرونی پاکیزگی پر دلیل ہے، وہ ہمارے وہم و گمان سے بھی پرے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐعاشق رضا ہیں اور اس میں بڑی بلند پروازی کے ساتھ ترقیات کر رہے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کرتے ہیں اور اظہار شکر سے قاصر پا کرتدارک کرتے ہیں۔ یہ کیفیت ہم کس طرح ان عقل کے اندھوں اور مجذوم القلب لوگوں کو سمجھائیں، ان پر وارد ہو تو وہ سمجھیں۔ جب ایسی حالت
ہوتی ہے احسانات الٰہیہ کی کثرت آ کر اپنا غلبہ کرتی ہے تو روح محبت سے پُر ہو جاتی ہے اور وہ اچھل اچھل کر استغفار کے ذریعہ اپنے قصور شکرکا تدارک کرتی ہے۔ یہ لوگ خشک منطق کی طرح اتنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ قویٰ جن سے کوئی کمزوری یا غفلت صادر ہو سکتی ہے وہ ظاہر نہ ہوں۔ نہیں وہ ان قویٰ پر تو فتح حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کرکے استغفار کرتے ہیں کہ شکر نہیں کر سکتے۔ یہ ایک لطیف اور اعلیٰ مقام ہے جس کی حقیقت سے دوسرے لوگ نا آشنا ہیں، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حیوانات، گدھے وغیرہ انسانیت کی حقیقت سے بے خبر اور ناواقف ہیں۔ یعنی وہ لوگ جن کو اس مقام کا نہیں پتہ۔ اسی طرح پر انبیاء ورسل کے تعلقات اور ان کے مقام کی حقیقت سے دوسرے لوگ کیا اطلاع رکھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے ہی لطیف ہوتے ہیں اور جس جس قدر محبت ذاتی بڑھتی جاتی ہے اسی قدر یہ اور بھی لطیف ہوتے جاتے ہیں ۔
سوال: اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کیلئے کون سی دعا کرنی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن عباسؓبیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺیہ دعا کیا کرتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ لَکَ شَاکِرًا لَّکَ ذَاکِرًا یعنی اے میرے اللہ تو مجھے اپنے شکریہ بجا لانے والا اور بکثرت ذکر کرنے والا بنا۔
سوال:نبی کریم ﷺکو جب کوئی خوشی پہنچتی تو آپؐکیا کرتے ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نبی کریم ﷺکو جب کوئی خوشی پہنچتی تو آپؐاللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر جاتے۔
سوال:عبادت میں لذت اور سرور پانے کی کیا دعا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ دعا میں بہت ہی کوشش سے کام لو تو تم یہ کہو کہ اے اللہ اپنے شکر اور اپنے ذکر اور اپنے اچھے طریق سے عبادت کرنے میں ہماری مدد فرما۔ اَللّٰھُمَّ اَعِنَّا عَلٰی شُکْرِکَ وَذِکْرِکَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِکَ
سوال:مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملہ کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملہ کے بارے میں آپؐفرماتے ہیں، یہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے تمام معاملے خیر پرمشتمل ہیں اور یہ مقام صرف مومن کو حاصل ہے کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو یہ اس پر شکر بجا لاتا ہے، تو یہ امر اس کے لئے خیر کا موجب بن جاتا ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ صبرکرتا ہے تو یہ امر بھی اس کے لئے خیر کا موجب بن جاتا ہے۔
ضض ضض